- الإعلانات -

معرکہ ستمبر اور سیکولر احباب کی نفسیاتی گرہیں

سیکولر حضرات کی تحقیق کا تازہ میدان معرکہ ستمبر ہے ۔ان کا دعوی ہے کہ قوم خواہ مخواہ خوشیاں منا رہی ہے حالانکہ پاکستان کو اس جنگ میں شکست ہوئی تھی۔۔۔۔۔میرے نزدیک اس موقف کا ابلاغ کسی ِ تحقیقی عمل کے نتائج سے زیادہ ان احباب کی نفسیاتی گرہوںکی نشاندہی کرتا ہے۔سوال یہ ہے:یہ گرہیںکب کھلیں گی؟
سیکولر حضرات کا ایک مسئلہ ہے، یہ دنیا کے ہر معاملے میں معتدل رہیں گے،ہر ذی روح کی دل آزاری برائی تصور کریں گے، ہر مکالمہ پوری شائستگی سے کریں گے،ہر انسان کی آزادی کی بات کریں گے۔۔۔۔لیکن جب معاملہ اسلام یا مسلمانوں کا آن پڑے گا، یہ اعتدال کا دامن بھی چھوڑ دیں گے اور تہذیب و شائستگی بھی۔یہ موقع کی تلاش میں رہیں گے کہ کہاں مسلمانوں کے شعور اجتماعی کا مذاق اڑایا جائے ،کہاں ان کا تمسخر اڑایا جائے، کہاں تحقیق کے نام پر ان کی دلآزاری کی جائے، چنانچہ کبھی تحقیق کے نام پر یہ پورے اہتمام سے ہمیں بتاتے ہیں کہ قرآن پاک کا قدیم ترین نسخہ نبی رحمت ﷺکی پیدائش سے پہلے کا ہو سکتا ہے تو کبھی یہ معرکہ ستمبر سے شکست برآمد کر کے خوشیاں مناتی قوم کو بد ذائقہ کرتے ہیں۔مکرر عرض ہے کہ یہ تحقیق نہیں ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔
فوج طالبان سے لڑے تو یہ خود اس کے قصیدے پڑھیں گے لیکن فوج بھارت کو ناکوں چنے چبوا دے تو یہ اس کی فتح مان کر نہیں دیں گے۔اس نفسیاتی مسئلے کی تفہیم کے لیے معرکہ ستمبر کے بیانیے کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔معرکہ ستمبر کا سارا بیانیہ مذہبی ہے۔اس دور میں جو نغمے لکھے گے انہی کو دیکھ لیجیے :” اے مردِ مجاہد جاگ ذرا اب وقتِ شہادت ہے آیا“۔” اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو © ©۔ ۔گئے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم، رسول پاک ﷺ نے بانہوں میں لے لیا ہو گا،علی تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے،حسین پاک نے ارشاد یہ کیا ہو گا،تمہیں خداکی رضائیں سلام کہتی ہیں“۔ اب کوئی ایسا بیانیہ جس میں مذہب کا حوالہ ہو ، ان صاحبان کے لیے قابلِ برداشت نہیں ہے۔جہاں یہ مذہبی بیانیہ سامنے آئے گا ان کے ہاں رد عمل پیدا ہو گا کیونکہ یہ اپنی نفسیاتی گرہ کے ہاتھوں مجبور ہیں۔یہ چاہتے ہیں کہ ایک ایک کر کے ہر اس حوالے کو منہدم ، غیر معتبر یا متروک کر دیا جائے جس کی مذہب سے کوئی نسبت ہو۔انسائیکلو پیڈیا آف تھیالوجی میں سیکولرزم کی اسی نفسیات کا ذکر یوں کیا گیا ہے: ” سیکولرزم آج کل ایک ایسا طریق عمل بھی سمجھا جا رہا ہے جس کے ذریعے انسانی زندگی کے مختلف عناصر ( جیسے رسوم، آراء،سماجی طرز عمل، حتی کہ اشیاءاور بشر) یا مکمل حیاتِ انسانی کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنا تعین مذہب کے ذریعے نہ کر سکے“۔ اب جہاں مذہب کا حوالہ آتا ہے یہ اپنی نفسیات کے اسیر ہو جاتے ہیں۔چنانچہ جب انہوں نے دیکھا کہ قوم بھر پور طریقے سے یومِ دفاع منا رہی ہے اور اس کا سارا بیانیہ مذہبی ہے اور یہ بیانیہ دو قوموں کے تصور کو مستحکم کر رہا ہے تو انہوں نے اس جنگ میں شکست برآمد کر لی۔یہ نفسیات کے تقاضوں کے ہاتھوں مجبور تھے۔
ان احباب کے ہاں دوسری نفسیاتی گرہ یہ ہے کہ یہ سمجھتے ہیں یہ اس وقت تک جمہوریت پسند اور آئین دوست ثابت نہیں ہو سکتے جب تک یہ فوج کی بطور ادارہ تضحیک نہ کر لیں۔چنانچہ فوج کے بارے میں عوام میں پسندیدگی کے جذبات پیدا ہونے لگیں تو ان کو جمہوریت خطرے میں پڑتی نظر آتی ہے اور یہ میدان میں اتر آتے ہیں۔لاشعوری طور پر یہ فوج بطور ادارہ اور فوجی آمر میں فرق نہیں کر پاتے۔آمریت سے نفرت کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ فوج کو بطور ادارہ بے توقیر کیا جائے اور فوج سے محبت کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آمروں کا ساتھ دیا جائے ۔یہ فرق روا رکھا جانا ضروری ہے۔جہاں یہ فرق ختم ہوا ، اعتدال بھی ختم ہوا اور خرابی نے جنم لیا۔اب عجب تماشا یہ ہے کہ سیکولر احباب بھی ، الا ما شاءاللہ، آمریتوں کے ساتھ ہنی مون مناتے رہے ہیں۔مشرف دور میں کون کہاں کھڑا تھا ایک فہرست بنا لیجیے لگ پتا جائے گا۔فرق صرف یہ ہے کہ مذہبی انتہا پسند ایک آمر کے دستو بازو رہے اور سیکولر انتہا پسند دوسرے آمر کے دست و بازو رہے۔آمریتوں سے یہ حضرات فیض یاب ہوتے رہے لیکن ادارے کو سینگوں پر لے لیتے ہیں تا کہ جمہوریت دوستی کے باب میں سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔
تیسری گرہ بھی ہے۔بعض احباب ہر معاملے میں ایک نئی بات کر کے لوگوں کو حیران کرنا چاہتے ہیں۔ یہ گرہ مذہبی طبقے میں بھی ہے اور سیکولر گروہ میں بھی۔چنانچہ اس سوچ کے تحت بھی یاروں نے ستمبر کی جنگ سے شکست برآمد کر لی۔
غلطیاں کہاں نہیں ہوتیں، ستمبر کی جنگ میں بھی ہوئیں اور انتہائی سنگین۔آپریشن جبرالٹر سے گرینڈ سلام تک، قیادت کی دانش پر درجنوں سوالات اٹھتے ہیں لیکن ایک کامیاب دفاع کو شکست کہنا کیا ایک صحت مند رویہ کہلائے گا؟کیا بھارت کا کوئی ایک حملہ کامیاب ہو سکا۔کیا اس کے جرنیل لاہور جم خانہ میں جام سے شغل فرما سکے؟کیا اس کی بحریہ کراچی کا رخ کر سکی؟کیا لاہور اور چونڈہ میں عزم و ہمت کے انمٹ نقوش نہیں چھوڑے گئے؟کیا دفاع کرنا کامیابی نہیں ہوتی؟
اگر ایم ایم عالم کے کارنامے پر ہم فخر کرتے ہیں، چونڈہ کے معرکے پر اپنے شہداءکی تحسین کرتے ہیں،عزیز بھٹی کی قربانی کو یاد کرتے ہیں سیسل چودھری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،اصغر خان اور نور خان کی قیادت کو سراہتے ہیں جنہوں نے پیشہ ورانہ مہارت سے ایک ادارے کو تشکیل دیا،اور اگر ہم چھ ستمبر کو یوم دفاع منا کر ملک کے دفاع کا عہد کرتے ہیں اور شہداءاور غازیوں کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں تو اس میں غلط کیا ہے؟ ہر چیز کی سند کالم نگاروں اور اینکر پرسنوں سے حاصل نہیں کی جا سکتی، کچھ گواہیاں دھرتی پر بہنے والا خون بھی دیتا ہے۔
لیکن پھر بھی ضد ہے تو مان لیتے ہیں ۔ چلیں، اب ایک نئی تاریخ لکھتے ہیں۔ایک ” روشن خیال“ تاریخ۔عزیز ہم وطنو، یہ ایم ایم عالم، عزیز بھٹی،اور گمنام قبروں میں دفن ہونے والے ماﺅں کے لال ہم نے خواہ مخواہ ہی ہیرو بنا لیے۔اصل کہانی کچھ اور ہے۔جب دشمن بی آر بی کے اس پار پہنچا تو پاکستان کی جانب سے ایک پروڈیوسر آگے بڑھے اور بھارتی کمانڈر کو کہا:”ناہنجار شور نہ کرو ، ابھی اینکر صاحب کا شو ریکارڈ ہو رہا ہے“۔یہ تنبیہ کارگر ثابت ہوئی اور آزادی صحافت کے احترام میں دشمن واپس چلا گیا۔جب ایک جونیر بھارتی افسر نے واپسی کا حکم ملنے پر اپنے کمانڈر کو جم خانہ لاہور میں شراب سے جی بہلانے کا وعدہ یاد دلایا تو اس افسر نے اپنے جونیر سے کہا : جوان ہمارے حصے کا یہ کام اب پاکستان کے’روشن خیال‘ دانشور سنبھال لیںگے۔
ادھر چونڈہ میں بھی یہی ہوا۔بھارت کی ٹینک اس لیے آگے نہ بڑھ سکے کہ چونڈہ کے اس پار چند روشن خیال دانشور بیٹھے تھے، بھارتی فوجی نے ٹینک سے سر نکال کر پوچھا کیا یہ چونڈہ ہے؟تو روشن خیال دانشور نے جواب دیا:” ہم کسی چونڈہ کو نہیں جانتے، ہم صرف چنڈو خانے کو جانتے ہیں“۔چنانچہ دشمن نے اپنے غلط نقشوں کو آگ لگائی اور روتا پیٹتا واپس چلا گیا۔