- الإعلانات -

نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے کی ضرورت

پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے یوم دفاع کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوستی نبھانا اور دشمنی کا قرض اتارنا جانتے ہیں ۔ پاکستان پہلے مضبوط تھا اب ناقابل تسخیر ہے دشمنوں کی ہر ظاہری اورخفیہ سازش اور ارادے سے بخوبی آگاہ ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق ملک بھر میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ قوانین اور نظام انصاف کی کمزوریوں کو دور کیا جائے ۔ سنگین جرائم ، کرپشن اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ مکمل امن کے حصول میں بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔ آرمی چیف نے کہا ستمبر 1965ءہماری قومی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس نے اس ملک کے عوام کو ایک نیا عزم اور اتحاد دیا اس معرکے میں پاک فوج کی بے مثال جرا ¿ت کی بدولت یہ دن پاکستانی قوم کا سب سے تابناک دن بن چکا ہے ۔ انہوں نے کہا آج کا دن ان تمام شہداءاور غازیوں کی قربانیوں استقامت اور جرا ¿ت کی علامت ہے جنہوں نے گزشتہ ایک دہائی سے جاری جنگ اور آپریشن ضرب عضب جیسے چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کیا ۔ جنرل راحیل نے کہا آپریشن ضرب عضب کے آغاز سے اب تک ہمارے بہادر جوانوں نے پورے ملک میں 19000 سے زائد آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی پر قابو پایا ہے ۔ کامیابی کے اس سفر میں فوج کے ساتھ رینجرز، ایف سی ، پولیس اور لیویز نے بیش بہا قربانیاں پیش کی ہیں ۔ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ان کامیابیوں میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں 18000 معصوم شہریوں کے علاوہ مسلح افواج کے 5000 افسروں اور جوانوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا جبکہ 48000 سے زیادہ پاکستانی شدید زخمی ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہم اپنے شہیدوں کی قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے دنیا کے نزدیک ضرب عضب شاید محض ایک فوجی آپریشن ہولیکن ہمارے لئے یہ وطن کی بقاءکی جنگ ہے ۔ قومی سلامتی کی خاطر ہم کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کریں گے۔ آرمی چیف نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا اور بیرونی قوت کو سی پیک میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہ دینے کا بھی عزم کیا۔ آرمی چیف کا یوم دفاع کے موقع پر کیا گیا خطاب جامع اور مدلل ہے جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ناقابل تسخیر ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق ملک بھر میں عمل نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ پاک فوج کی قربانیوں کے نتیجہ میں کئی علاقے دہشت گردوں کے تسلط سے واگزار کروائے جاچکے ہیں اور ان کا نیٹ ورک تباہ کردیا گیا ہے جنرل راحیل نے بجا فرمایا ہے ۔ سنگین جرائم اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ مکمل امن کے راستے میں رکاوٹ ہے اس رکاوٹ کو ختم کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر کماحقہ عمل درآمد کرنا ہوگا ۔ پاک فوج جنگ ہو یا زلزلہ، سیلاب ہو یا دہشت گردی ہر مشکل گھڑی میں وطن کی خدمت کیلئے تیار ہے ۔ دنیا اس کی بہادری کی معترف ہے۔6ستمبر کی جنگ میں ہماری بہادر افواج نے اپنے سے سات گنا زیادہ فوج کو ذلت آمیز شکست دی اور فتح یابی کے جھنڈے گاڑھے پاکستان کے قیام کے بعد مکار دشمن ہر وقت اس تاک میں ہے کہ کسی نے کسی طرح وہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرے اور اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے ”را“کو استعمال کررہا ہے لیکن پاک فوج کسی بھی اندرونی و بیرونی سازش کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ پاک فوج جنرل راحیل شریف کی بے باک قیادت میں دہشت گردوں کے خلاف جو جنگ لڑ رہی ہے یہ ملک کی بقا کی جنگ ہے اور اس کے اہداف پورے کرنے کیلئے عسکری قیادت کا عزم اس امر کا عکاس ہے کہ پاک سرزمین پر اب دہشت گرد نہیں ٹھہرپائیں گے ۔ دہشت گردی میں پاک فوج کی قربانیوں پر قوم کو فخر ہے دشمن جو چاہے سازش کرلے اس کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا جائے گا۔ جنرل راحیل نے درست کہا دوستی نبھانا اور دشمنی کا قرض اتارنا جانتے ہیں اور مکار دشمن یہ بخوبی جانتا ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق ملک بھر میں عمل درآمد کو یقینی بنا کر ہی ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس وقت پاک فوج ایک طرف دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے تو دوسری طرف اس کی نظر بھارتی مکاری پر ہے۔ پاک فوج سرحدوں پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ دشمن کی چالوں سے بے نیاز نہیں ہے۔ آرمی چیف نے جو کچھ کہا ہے وہ بے کم و کاست ہے اور وقت کے تقاضے کا آئینہ دار ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرکے ہی ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
 رائے ونڈ مارچ کا اعلان
 عمرا ن خان نے کراچی نشتر پارک میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جہاں 24 ستمبر رائیونڈ مارچ کا اعلان کیا وہاں یہ بھی کہا ہے کہ نواز شریف غلط فہمی میں نہ رہیں ہم ان کو احتساب کٹہرے میں لائے بغیر واپس نہیں جائیں گے ۔ سارے پاکستان کو دعوت دیتا ہوں آئیں رائے ونڈ حساب لینے چلیں ۔ شاہ ایران ، سوہارتو، صدام حسین عوام کے سامنے نہیں ٹھہر سکے تو آپ کیا چیز ہیںا نہوں نے کہا ہمیں الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سے انصاف کی امید ہے ہمیں انصاف نہیں ملے گا تو سڑکوں پر ہی آئیں گے۔ دوسری طرف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ کونسی جمہوریت کونسا آئین ہے ملک میں غریب کی کوئی نہیں سنتا۔ حکومت کے خلاف سیاسی جماعتیں صف بندی کرتی دکھائی دے رہی ہیں بلکہ اب تو رائے ونڈ مارچ کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ تحریک احتساب ، تحریک قصاص اور تحریک نجات کے ساتھ جماعت اسلامی کا دھرنا اور پیپلز پارٹی کے بدلتے تیور حکمران جماعت کیلئے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں اور حکومت اپنی انا پرستی کے باعث بھنور میں پھنستی چلی جارہی ہے سیاست میں رواداری ، تدبر اور برداشت ضروری ہوا کرتا ہے جہاں برداشت کا جمہوری کلچر نہ ہو وہاں محاذ آرائی ہوا کرتی ہے ۔ عمران خان ایک تواتر کے ساتھ پانامہ لیکس پر تحقیقات کا شور کرتا چلا آرہا ہے ۔ سیاسی جماعتیں بھی تحقیقات چاہتی ہیں تو حکومت اپنی ہٹ دھرمی کو نجانے کیوں نہیں چھوڑ رہی حالانکہ جمہوریت میں حکمران عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتے ہیں ۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں اپوزیشن کے تحفظات کو دور نہیں کیا جارہا ہے اور نہ سیاسی جماعتوں کو حکومت اپنے ساتھ لے کر چل رہی ہے اور اپنی ہی بانسری بجاتے چلی جارہی ہے جب حالات اس نہج پر آجائیں تو سیاسی ہلچل کا ہونا حیران کن نہیں جب سیاسی استحکام نہیں ہوگا تو ملک کس طرح ترقی کرسکے گا ۔ حکومت سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرے اور پانامہ لیکس کے حوالے سے اپنی پوزیشن خراب نہ کرے بلکہ متفقہ ٹی او آرز بنائے اور خود کو احتساب کیلئے پیش کرے ۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔پانامہ کے مسئلے کو جلد ازجلد نمٹانے کی ضرورت ہے ،پانامہ کا ہنگامہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ سیاسی جماعتیں اور حکومت ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دے رہی ہے جو کسی بھی لحاظ سے جمہوریت کیلئے اچھا نہیں ہے۔ سیاسی تدبر اور بصیرت سے معاملات کو سلجھایا جائے