- الإعلانات -

پیارے وزیر کی پیاری باتیں

مخدومی وزیر اطلاعات جناب پرویز رشید نہایت معصوم آدمی ہیں اور وزارت اطلاعات کی سربراہی کی تہمت اٹھائے پھرتے ہیں ان کے بیانات سن کر بعض اوقات ہنسی روکنا مشکل ہو جاتا ہے مثلا کل آپ فرما رہے تھے عمران خان کیا چاہتے ہیں اور کس کا احتساب چاہتے ہیں کیا ہے پانامہ لیکس ؟ لگتا ہے کہ یہ درویش صفت آدمی کہیں پریوں کے دیس میں محو خواب ہوتے ہیں اور سوتے سے اٹھا کر ان کو کوئی لکھا بیان ہاتھ میں تھما کر پڑھنے کے لئے کہ دیا جاتا ہے اور وہ پڑھ دیتے ہیں ورنہ وہ ہر گز یہ نہ پوچھتے کہ عمران خان کیا چاہتے ہیں ہمیں وہ بھانڈ اور دیہاتی یاد آرہے ہیں ایک بھانڈ نے ہیر اور رانجھے کا قصہ چھیڑا کئی گھنٹوں بعد جب قصہ ختم ہوا تو دیہاتی اٹھ کر پوچھنے لگا بھائی یہ ہیر عورت تھی یا مردکوئی ہمارے وزیر باتدبیر کو بتائے کہ پانامہ لیکس نام کا ایک طوفان اٹھا ہوا ہے جس کے اٹھانے میں عمران خان کا دور دور تک کوئی ہاتھ نہیں ہے اس ہنگامے میں بین الاقوامی اور نامور صحافیوں کی تنظیم فعال ہے جس نے دنیا بھر کے لوگوں کی چوری کے مال اور اثاثہ جات پر سے پردہ اٹھایا ہے اور اس کی تمام تفصیلات طشت از بام کیں اور معاملے کو منظر عام پر لانے سے پہلے صحافیوں کی اس تنظیم نے ہر اس شخص سے رابطہ کیا جس کا نام ان لیکس میں شامل تھا اور ان لوگوں کا موقف بھی حاصل کیا جن لوگوں نے جو جو جوابات دئے وہ موقف بھی انہی لیکس کے ساتھ ہی شایع ہوا اور جو پیسہ جائز طریقے سے کمایا گیا اور جائز ذرائع بھیجا گیا اور انہوں نے یہ پیسہ محض دہرے ٹیکس سے بچنے کے لئے پانامہ میں رکھا تھا ان سے تعرض نہیں کیا گیا کہ بین الاقوامی مالیاتی قوانین میں اس کی اجازت ہے ان لوگوں میں برطانوی وزیر اعظم بھی شامل ہیں جنہوں نے کسی تاخیر کے بغیر اپنے ٹیکس کے تمام اگلے پچھلے گوشوارے برطانوی پارلیمنٹ میں پیش کردئے اور فوری برآت حاصل کرلی اور کچھ ملکوں کےصدور اور وزرا اعظم اسی لیکس کی وجہ سے اقتدار سے مستعفی ہو چکے ہیں اب برطانوی وزیراعظم کی طرح یہی کچھ وضاحتیں پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اپنے وزیر اعظم سے مانگ رہی ہیں کہ آپ وضاحت کردیں اور پیسے کا ٹریل دے دیں اور سکون سے حکومت کریں لیکن وزیراعظم اور ان کی ٹیم کے ارکان نہ جانے کیوں اس سمت آنے کو ہتک سمجھ رہے ہیں اور اپوزیشن کو ایسے بہلانے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے چھوٹا بچہ گر جائے یا روئے تو فورا بچے کا دھیان اس درد یا تکلیف سے ہٹانے کے لئے کہا جاتا وہ چڑیا دیکھو او ہو بلی بھاگ رہی ہے چیونٹی کا آٹا گر گیا وغیرہ وغیرہ وزیراطلاعات کی خدمت میں مکرر عرض ہے کہ یہاں موضوع سخن زیادہ تر مال وہ ہے جو یا تو چوری چکاری یا کرپشن سے اکٹھا کیا گیا ہے جو لوگوں نے الگ الگ ذرائع سے لا کرکے پانامہ میں رکھا ہوا ہے اور اس پیسے سے مختلف نوع کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور مختلف مقامات پر جائیدادیں خریدی گئی ہیں ان خریدی گئی جائیدادوں کے سلسلے میں بد قسمتی سے ہمارے پیارے وزیراعظم کے فرزندان ارجمند اور دختر نیک اختر کے نامہائے نامی بھی ان لیکس میں شامل ہیں ان جائیدادوں کے ذکر خیر میں 1993 -94 کی تاریخیں ہیں جس کی گواہی پاکستان کے موجودہ وزیرداخلہ اور نون لیگ کے دیگر لیڈران دے چکے ہیں ان کے علم میں یہ جائیدادیں نہ صرف 1993- 94 سے ہیں بلکہ وہ وہاں ذاتی طور پر جا بھی چکے ہیں وزیراعظم نے اپنے قوم سے خطاب میں اپنے والد بزرگوار کے متعلق فرمایا تھا کہ انہوں نے بھٹو مرحوم کی صنعتی ادارے قومیانے کی پالیسی سے نالاں ہو کر دبئی میں گلف اسٹیل کے نام سے اسٹیل مل قائم کی جو بعد میں خطیر رقم کے عوض فروخت کردی گئی اپوزیشن یہ بھی پوچھ رہی ہے کہ بھٹو مرحوم کے دور کے وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے فرمایا ہے جب وزیراعظم کے والد بزرگوار یہ سرمایہ پاکستان سے دبئی لے گئے تب زر مبادلہ پر سخت ترین قانونی پاپندیاں تھیں جن کے باعث پاکستان سے سرمائے کا اخراج قانونا ممکن نہیں تھا تو وزیراعظم وہ خصوصی اجازت نامہ ہی دکھا دیں جس کے تحت ان کے والد بزرگوار یہ سرمایہ پاکستان سے دبئی لے گئے ممکن ہے کہ وزیراعظم کے اپنے پاس رکھے رکارڈ میں کہیں کوئی ایسا کوئی ایسا اجازت نامہ ہو تو قوم کے سامنے رکھ دیں اصولی طور پر جو آدمی جتنے بڑے منصب پر پہنچے اتنی ہی اس کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں پھر کوئی چیز ذاتی نہیں رہتی اس لئے وزیراعظم کوئی چیز نہ چھپائیں بقول وزیر اعظم سن 2000 کے بعد اس رقم سے جدہ میں ایک بڑی اسٹیل مل قائم کی گئی جو بعد ازاں بیچ دی گئی اور اس سرمائے سے ہم نے لندن کی جائیدادیں خریدیں وزیراعظم کے بیانات اور ان کے لہجے کا اعتماد بتا رہا ہے کہ ان کا موقف سچا ہے تو پھر ڈر کس بات کا ہے ساچ کو کیا آنچ آکر پوری تفصیلات سے قوم کو آگاہ کریں تاکہ ملک میں جاری سیاسی بحران اور بے یقینی کا خاتمہ ہو اور لوگ مطمئن ہوکر دیگر تعمیری کاموں کی طرف توجہ دیں اور اس طرح میاں صاحبان ان لوگوں کا منہ بند کریں جو کرپشن کرپشن کا وردکرتے نہیں تھکتے میاں صاحب ہم آپ کو چاہتے ہیں ہماری مانیں تو سچ سامنے لے آئیں سچ سامنے آنے سے آپ کی مقبولیت میں نہ صرف بہت زیادہ اضافہ ہوگا بلکہ ہو سکتا ہے کہ سچ کی قدر کرنے والی پاکستانی قوم آپکی سچائی کے اظہار سے اتنی متاثر ہو کہ آپ کو واقعی اور حقیقی مینڈیٹ سے نواز دے اور اگلے انتخابات میں سرخرو ٹھہریں یوں سیاسی جونکوں اور بیساکھیوں سے بھی نجات ملے گی کاش ایسا ہو جائے کہیں ہماری خواہش محض خواہش ہی نہ رہ جائے ہماری تو دعا اور دعا کے علاوہ کر ہی کیا سکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭