- الإعلانات -

الطاف حسین کے ملک دشمن بیانات کا فائدہ کس کو ہوا

وطن دشمن ، غدار وطن، پاکستان کے لئے بے تحاشا قربانیاں دینے والے مہاجروں اور پاکستان کے دشمن الطاف حسین نے سب سے پہلے لندن میں پھر اسکے بعدامریکہ میں اور اسکے بعد ساﺅ تھ افریقہ میں نہ صرف پاکستان مُردہ باد کے نعرے لگائے بلکہ پاکستان کو ایک نا سور کہا۔ اُنہوں پاکستان کو تباہ و بر باد کرنے اور مسلح افواج پر حملے کرنے کے لئے بھارت، اسرائیل اور امریکہ سے امداد مانگی۔ انہوں نے نفرت، بُعض اور کینے سے بھری ہوئی تقریر میں کہا کہ پاکستان بنانا انگریزوں کی سب بڑی غلطی تھی۔ حال ہی میںمحمود خان اچکزئی نے اس قسم کا متنا زعہ اور پاکستان دشمن بیان دے چکے ہیں۔الطاف حسین عرصہ درازسے مسلح افواج ، پاکستان ، پاکستان کے اداروں کے خلاف بیانات دیتے رہتے ہیں اورپاکستان اور مسلح افواج کی سرکوبی کے لئے یہ غدار نہ صرف بھارت کے خفیہ ایجنسی” را "اسرائیل کے” موساد” اور امریکہ کے” سی آئی اے” سے امداد مانگتے ہیں بلکہ خود پاکستان کی تباہی اور بر بادی کی دعا مانگتے ہیں۔اور کراچی کے اُردو بولنے والے محب وطن مہاجروں کو اس بات کی تر غیب دیتے ہیں کہ کراچی کی تباہی اور بر بادی کے ذمہ دار فوج ہے، حالانکہ اگر تجزیہ کیا جائے تو کراچی پر سب سے زیادہ حکومت تو ایم کیو ایم نے کی اور کراچی کی امن و آمان کو تباہ بر باد کرنے والے تو ایم کیو ایم ہے۔میں عامر لیاقت حسین کے اس بات سے اتفا ق کررہاہوں کہ الطاف حسین ٹینشن میں پاکستان مُردہ باد کے نعر ے تو لگا تے رہتے ہیں مگر مد ہوشی ، ڈیپریشن اورپاگل پن کا شکار الطاف حسین بھارت مُردہ باد کے نعرے کیوں نہیں لگا تے۔ الطاف حسین کے اس قسم کے ہتک آمیز اور ملک دشمن بیانات پر پاکستان کے مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قائدین میڈیا چینلز اور پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان اور منہاج القُر آن کے بانی ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کا اس قسم کے ڈرامہ رچانے کا مقصد دراصل پاکستانی عوام اور دنیا کی توجہ کشمیر کے مسئلے ، پانامہ لیکس ، تحریک قصاص اورعمران خان کی تحریک احتساب سے دور کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطا ف حسین کے اس ڈرامے کازیا دہ فا ئدہ نواز شریف اور بھارت کو ہوا۔ کیونکہ آج کل مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی تحریک صحیح زور پکڑی ہوئی ہے اور اس طرح پاکستان میں پانامہ لیکس اور تحریک قصاص کی وجہ سے نواز شریف پر دباﺅ انتہائی بڑھ گیا ہے اور بھارت اور نواز شریف اپنے اُوپر دباﺅ کو کم کرنے لئے اور دنیا میں کی نظروں میں دھول جھونکنے کے لئے الطاف حسین کے ساتھ ملکر اس قسم کے ڈرامے کر رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ موجودہ دور میں نواز شریف، الطاف حسین اور بھارت، پاکستان کے خلاف ایک تکون بنا ہواہے۔ میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے اس بات سے 100 فی صد اتفاق کرتا ہوں کہ اب تک پاکستان کے مختلف شہروں میں غدار وطن الطاف حسین کے ہرزہ سرائی کے خلاف کئی مقد مے درج ہوچکے ہیں مگر ریاستی لیول پر غدار وطن کے خلاف ایک مقدمہ درج نہیں کیاگیا۔ بھارت اور دوسرے پاکستان دشمن ممالک کی ہمیشہ یہ پالیسی رہی کہ پاکستان کو غیر مُستحکم کیا جائے اور الطاف حسین ہمیشہ دشمنوں کے لئے آلہ کار بن کر غداروں کا کردار اداکرتے رہے۔اگر حالات اور واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو صدر ضیاءالحق نے سندھ میں پیپلز پا رٹی کے زور کو تھوڑنے کے لئے مہاجر قومی مومنٹ بنایا اور پر ویز مشرف نے اپنے دس سالہ دور اقتدار میں اسکو مضبوط کیا۔ مطلق العنان پر ویز مشرف کے دور میں غدار وطن الطاف حسین نے دیگر اور ممالک میں پاکستان اور مسلح افواج کے خلاف نفرت آمیز نعرے اور تقاریر کیں مگر چند دن پہلے پر ویز مشرف نے ایک انٹر ویو میں کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا میں ان لوگوں سے اچھے کام لیتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم ایک طاقت ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ الطاف حسین کی طرح پر ویز مشرف کا بھی دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔ کراچی میںبھارت اور ایم کیو ایم کی عسکری ونگ کی وجہ سے ایم کیو ایم کے لیڈر اتنے سہمے ہوئے ہیں کہ وہ غدار وطن کے خلاف بات بھی نہیں کر سکتے۔ میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ کراچی میں لیڈر شپ کی فُقدان اور الطاف حسین کی خوف کی وجہ سے عوام اور الطاف حسین سے بیزارایم کیو ایم لیڈر شپ میں جُرئت نہیں کہ حالات کا سامنا کریں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کو ایک نڈرلیڈر شپ مہیا کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ الطاف حسین کو ایسے نہ چھوڑا جائے کیونکہ وہ ۰۲ ہزار لوگوں کا قاتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کے منفی کر توتوں کا پتہ پر ویز مشرف، پاکستان پیپلز پا رٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو تھا مگر اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے ایم کیو ایم اور الطاف حسین کا ساتھ دیتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کا بھارت، اسرائیل اور امریکہ سے امداد مانگنے سے ہماری اس دلیل کو مزید تقویت ملی کہ یہ تینوں ممالک پاکستان کو غیر مستحکم اور ختم کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی تا ریخ میں جنرل راحیل شریف وہ واحد سپہ سالار ہے جنکو پاکستان کے اندرونی اور خارجہ دونوںخطروں کا ادراک ہے اور پاکستان کی تاریخ میں رینجرز نے اُسکی قیادت میںایم کیو ایم لندن کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کیا ہے۔اُس نے اب تک جتنے بھی ایکشن کئے وہ انتہائی لائق تحسین ہیں اور وہ دن دور نہیں جب راحیل شریف کی قیادت میں پاکستان ایک پُر امن ، دہشت گر دی سے پاک ملک بن جائے گا۔جہاں تک ایم کیو ایم کا تعلق ہے تو اس کالم کی تو سط سے میں مسلح افواج کے سر براہ جنرل راحیل شریف سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ کراچی میں لوگوں کے دلوں میں خوف کرنے کے لئے اقدامات کریں کیونکہ جب تک کراچی ایم کیو ایم کے عسکری ونگز اور غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کا ڈر ہوگا تو اس وقت تک کراچی کے لوگ ڈر اور خوف کی وجہ سے زبر دستی ایم کیو ایم کو ووٹ دیتے اور انکی سپورٹ کرتے رہینگے۔ اس کالم کی تو سط سے میں ملک کے محب وطن سیاسی مذہبی اور ملک کے دلیر عوام سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ ملک میں کرپشن، دہشت گردی اور انتہا پسندی کی نا سور کو ختم کرنے لئے مسلح افواج کے سربراہ کے ہاتھ کو مضبو ط کریں اور اپنے لئے اور اپنی آئندہ نسل کی مستقبل کو محفو ظ بنائیں۔ اس وقت ملک میں بے روزگاری، مہنگائی، غُربت ، افلاس ، ملک میں صحت ، تعلیم صفائی سُتھرائی کی سہولیات ناپید ہیں اسکے علاوہ ملک بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ کا سامنا کر رہا ہے اور یہ سارے مسائل اُس وقت تک حل نہیں ہو سکتے جب تک ملک میں من سکون، امن آشتی اور محبت نہ ہو۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم جیسی دہشت گر د عسکری جماعت کی سرکوبی ضروری ہے اور یہ اُس وقت ممکن ہے جب پاکستان کی ساری محبت وطن جماعتیں اور تنظیمیں اکٹھی نہ ہوں۔