- الإعلانات -

یوم قائدؒ اور ”را“ کے آلہ کار

بلاشبہ پاکستان کا وجود میں آناایک معجزہ ہے کیونکہ اسوقت مسلمانان ہند کو دو طرح کے سامراجوں سے لڑنا پڑنا تھا۔ ایک برطانوی سامراج جو ہندووں کےساتھ مل کر سازشیں کررہا تھا تو دوسرا ہندو سامراج تھا جو مسلمانوں کو اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتا تھا۔ہندو بنیا اس منصوبہ بندی میں تھا کہ انگریزوں کی حکمرانی سے نجات کے بعد وہ ایک اکھنڈ بھارت پر حکمرانی کرے گا لیکن مسلمانان ہند نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت اسکے خواب کو چکنا چور کر دیا۔ قائد کی دور بیں نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ انگریز کے نکل جانے کے بعد مسلمانوں کی زندگی پہلے کے مقابلے میں مزید اجیرن ہو جائے گی اور ان سے ان کی شناخت بھی چھین لی جائے گی۔چنانچہ بابائے قوم نے بروقت ایک الگ خطہ زمیں کےلئے جدوجہد شروع کردی۔اس مقصد کے لیے انہوں دوقومی نظریہ پیش کیا اور مسلمانان ہند کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا۔اگرچہ آزادی کی جدوجہد انیسویں صدی کے اوائل میں شروع ہو گئی تھی مگر اس کی حقیقی بنیاد 1940 میں اس وقت رکھی گئی جب منٹو پارک لاہور میں قرار داد پاکستان پیش گئی۔ اس قرارداد کے پاس ہونے کے بعد ہندو بنیا کھل کر سامنے آگیا۔اپنے خواب کو چکنا چور ہوتے دیکھا تو اس نے برطانوی سامراج سے سازباز اور تیز کردی اس سازباز میں بنیے کو کسی حد تک کامیابی بھی ملی لیکن قائد کے عزم مصمم کے سامنے اسے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔سات سال کی مختصر مگر کڑی جدوجہد کے بعد الگ خطہ وطن پاکستان کے روپ میں وجود میں آگیا۔یہ مدینہ منورہ کے بعد دوسری مسلمان ریاست تھی جو ایک نظریے پر قائم ہوئی۔پاکستان وجود میں آگیا دنیا کے بیشتر ممالک نے اسکا وجود بھی تسلیم کرلیا لیکن ہندو حکمران ایک نئی آزاد خود مختار مملکت کو تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوئے۔تب سے لے کر آج 69 برس بعد تک پاکستان کا وجود ہندو انتہاپسند بنیے کو کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔قائد اعظم محمد علی جناح نے جو جنگ انیس سو چالیس کے بعد جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑی اس کا سلسلہ قیام پاکستان کے بعد بھی جاری رہا۔وہ اثاثے جو تقسیم کے بعد پاکستان کو ملنے تھے بھارتی حکمرانوں نے روک لیے تاکہ بے سروسامانی سے نیا پاکستان زچ ہو کر ہندوستان کی جھولی میں آگرے۔ دوسری طرف جموں و کشمیر میں بھارت نے فوج داخل کر کے کشمیر کے ایک حصے پر جبری قبضہ جما لیا۔جس سے پاکستان اور بھارت میں جنگی کشیدگی کا آغاز ہو گیا۔ نوآزاد مملکت کے لیے ایک طرف بے سروسامانی تھی تو دوسری طرف بھارت کی جنگی سازشیں تھیں۔درایں حالات پاکستانی قوم کےلئے ایک نیا امتحان یہ سامنے آکھڑا ہوا کہ آزادی کے محض ایک سال ایک ماہ بعد بانی پاکستان اور بابائے قوم 11 ستمبر 1948 کو داغ مفارقت دے گئے۔ان کی اچانک رحلت سے قوم کو ایک عظیم دھچکا لگا۔ ایک وقت تو ایسا لگا کہ شاید اب قوم اپنے پاوں پر کھڑی نہ سکے لیکن مایوسی کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اس وقت قوم نے ان کی تعلیمات اور اصولوں کو تھام کر آگے بڑھنے کا عزم کیا۔کچھ عرصہ تک قوم ان کی روشن تعلیمات اور اصولوں کو تھامے آگے بڑھتی رہی لیکن جلد مفاد پرست قوتوں نے قائد کے زریں اصولوں کو پس پشت ڈالنا شروع کردیا۔پھرقوم نے دیکھا کہ لیاقت علی خان دن دیہاڑے قتل ہو جاتے ہیں اور بانی پاکستان کی بہن فاطمہ جناح کو ہروا دیا جاتا ہے۔بابائے قوم نے اپنی زندگی ایک موذی مرض کے حوالے کیے رکھی لیکن کسی کے آگے نہ جھکے نہ بکے۔یہی درس انہوں نے قوم کو دیا تھا۔مگر مفاد پرستوں نے اسے تاک نسیاں کی زینت بنا دیا ہے۔قائد کے زریں اصولوں کو جس طرح ان کی وفات کے بعد تھامے رکھنے کاعزم کیا تھا اگر اس پر ثابت قدم رہتے تو 1965ءمیں ہمارے دشمن کو پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی جرات ہوتی نہ 71 ءمیں مشرقی بازو ہم سے الگ ہوتا۔بلاشبہ ان سانحات میں بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ مل کر بھارتی سازشوں کا ایک بنیادی عمل دخل تھا جس کا اقرار نریندر مودی نے گزشتہ برس بنگلہ دیش میں کھڑے ہوکر خود کیا کہ ہاں ہم نے پاکستان توڑا تھا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس میں ہماری اپنی نااہلی اور مفاد پرستی کا دخل بھی کم نہیں تھا۔قائد کی وفات کے بعد ہم بڑی تیزی کے ساتھ لسانی و صوبائی تعصب کا شکار ہوتے چلے گئے۔سندھی بلوچی پختون پنجابی اور مہاجر کی پہچان کو ابھارا گیا مگر پاکستان جو ہماری اصل پہچان بنا اس سے دور ہوتے چلے گئے۔باہمی نفاق اور صوبائی تعصب کے نتیجے میں دشمن کو ہماری صفحوں میں گھسنے کا ملا۔آج مختلف بہروپ میں دشمن ہمارے اندر موجود ہے۔کہیں یہ ٹی ٹی پی اور مختلف لشکروں کی شکل میں گھسے رہے تو کہیں وہ الطاف حسین کی شکل میں ہماری سیاسی صفوں میں کھلواڑ کرتے رہے۔کہیں مذہبی لبادے میں افواج پاکستان کی شہادتوں کو متنازعہ بناتے رہے۔صد شکر کہ آج کی عسکری قیادت نے اپنی فیصلہ کن طاقت اور عزم سے دشمن کے ان بہروپوں کو بے نقاب کیا بلکہ ان کی کمر بھی توڑی۔اگرچہ اس سلسلے میں بہت کامیابیاں حاصل ہوچکی ہیں لیکن ابھی کچھ اندرونی دشمنوں کی بیخ کنی باقی ہے جو جمہوری لبادہ اوڑھ کر لاف زنی میں مصروف ہیں۔انہی مکروہ چہروں کی طرف اشارہ اگلے روز یوم دفاع کی خصوصی تقریب کے موقع پر جنرل راحیل نے کیا تھا۔انہوں واضح الفاظ میں کہا کہ ملک کولاحق اندرونی اور بیرونی خطرات ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے ہیں۔ بعض عناصر افواج پاکستان کے بارے میں بدگمانی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔انھوں نے پاکستان کے دشمنوں پر واضح کیا کہ دوستی نبھانا بھی جانتے ہیں اور دشمنی کا قرض اتارنا بھی آتا ہے۔اگر ہم جیت سکتے ہیں توجیت کی حفاظت بھی کرسکتے ہیں۔ملکی سیکورٹی کی خاطر ہم کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔جنرل راحیل یہ پیغام دوٹوک اور واضح ہے۔
(….جاری ہے)
بیرونی دشمن کی آنکھیں تو کھل گئی ہونگی لیکن کچھ اندرونی دشمنوں کی بھی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جو کھاتاتو پاکستان کا ہیں۔
(……..جاری ہے)
 لیکن ان کی دل کی تاریں کبھی افغانستان کے ساتھ دھڑکتی ہیں تو کبھی بھارت انہیں معصوم لگتا اور کسی کو امریکہ کی گود میں چین آتا ہے۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاکستان دشمن طاقتوں کے یہ مٹھی بھر آلہ کار پاکستان کا کچھ بگاڑنے میں ناکام ہوتے رہے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ایسے عناصر چند ٹکوں کی خاطر اب تک اپنی خو سے باز نہیں آرہے ہیں۔ابھی حال ہی میں امریکہ میں امریکی اور بھارتی چھتری تلے اکبر بگٹی کی یاد میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ گزشتہ ماہ واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والی اس تقریب کی خصوصی بات یہ تھی کہ اس میں صرف انہی شخصیات کو مدعو کیا گیا جنہیں کسی نہ کسی شکل میں پاکستان سے بغض ہے۔میڈیا سمیت بیس پچیس افراد پر مشتمل اس تقریب سے براہمداخ بگٹی نے ویڈیو لنک اور ہمارے ایک سابق سفیر حسین حقانی نے خطاب کیا۔مقررین کی تقریروں کا فوکس بلوچستان اور افواج پاکستان کی بدخوئی رہا۔مقررین نے بلوچستان میں انسانی کی خلاف ورزیوں کا اپنے تئیں ڈھول پیٹا لیکن وہ یہ بات بھول گئے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے جاری ہونے والی اب تک کی رپورٹس میں بلوچستان کا کبھی ذکر نہیں آیا ۔ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہتی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی اگر کسی کو مارے جانے والے دہشت گردوں سے ہمدردی ہے تو پھر انکی سوچ پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ یہ تقریب اکبر بگٹی کی یاد میں منائی گئی اس سے براہمداخ بگٹی کا مخاطب ہونا تو سمجھ آتا ہے لیکن حسین حقانی صاحب کا اس میں شریک ہو کر پاکستان کے سیکورٹی اداروں کوہدفِ تنقید بنانا سمجھ سے بالا تر ہے۔موصوف پاکستان کے امریکہ میں سفیر رہے ہیں اور بھاری قومی خزانہ ان پر خرچ ہوتا رہا ہے۔ویسے بھی سفیر کسی بھی ملک کی ریاستی آئیڈیالوجی اور پالیسیوں کا امین ہوتا ہے۔وہ جہاں بھی رہے جس حیثیت سے رہے وہ ہمیشہ اپنے ملک سے وفاداری کا دم بھرتا ہے۔مگر موصوف حقانی صاحب اپنے عرصہ سفارتکاری میں ایسی سرگرمی میں مصروف ہو گئے کہ جس سے بعدازاں ملک میں ایک بحران پیدا ہوا۔جس پارٹی نے انہیں سفارتی ذمہ داری سونپی اس کےلئے مشکلات اٹھ کھڑی ہوئیں۔اس وقت کی اپوزشن جماعت کے سربراہ نوازشریف نے اس سے سیاسی فائدہ اٹھایا اور وہ کالا کوٹ پہن کر عدالت جا پہنچے۔جس کے بعد موصوف بمشکل جان بچا کربیرون ملک بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔غرض مختصر یہ کہ موصوف کو اس ملک نے مقام دیا اور عزت دی تھی ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ وہ جہاں بھی رہتے ہر جگہ ملک کا مقدمہ لڑتے خصوصا میڈیا کے محاذ پر اپنی جان لڑا دیتے کیونکہ انہیں قلمی محاذ پر ایک ملکہ حاصل ہے۔مگر یہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ آج ان کا قلم اور زبان پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔آخر سوال تو بنتا ہے کہ ان کی کتب بھارت میں کیوں اتنے اہتمام سے شائع ہوتی ہیں؟کیوں ان کی بکس کو بھارت میں پذیرائی دلوائی جاتی ہے۔کوئی تو ایسی وجہ ضرور ہے جس کی پردہ داری ہے۔کیا بابائے قوم نے اس لیے ہندو سامراج سے الگ وطن چھینا تھا کہ بعدازاں اس کے باسی اسے اپنے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانے پر تل جائیںیا اسی ہندو بنیے کی غلامی کا طوق پہن لیں۔اوپر جس تقریب کا ذکر کیا ہے اسکا اہتمام مودی کے پندرہ اگست والے بیان کے بعد خصوصی طور پر امریکہ میں RAW کی فنانسنگ پر کیا گیا جسکا مقصد بیرون ملک پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔اسکا ایک اور مقصد الطاف حسین کی جو پچھلے دنوں پاکستان میں مٹی پلید ہوئی اس سے مٹھی بھر بھارتی آلہ کاروں کے حوصلے شکستہ ہورہے تھے چنانچہ اسکا ازالہ کرنے کے لیے اس کا اہتمام کیا گیا۔اس تقریب پر را کی فنانسنگ کا محض الزام نہیں لگایا بلکہ اس تقریب کے مہتمم احمر مستی خان نے اسکا خود تقریب میں اقرار کیا۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہاں میں RAW کا ایجنٹ ہوں اور ہندووں کےساتھ مل کر کام کرتا ہوں۔اس بیوقوف کا اس طرح اقرار یقینا اس کے فنانسر تو خوش ہوئے ہونگے لیکن تقریب کے پیچھے چھپی بد نیتی بھی دنیا پرواضح ہو گئی۔ ایسی کٹھ پتلیوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے اپنے فنانسرز کو ضرور بیوقوف بنائیں مگر محب وطن پاکستانی ایسی کسی ڈرامہ بازی پر اب کان نہیں دھرتے۔پاکستان میں کئی ٹرکوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے ”جلنے والے کا منہ کالا“۔اسلئے پاکستان سے جلنے والوں کا منہ کالا ہوتا رہے گا جیسے حالیہ دنوں الطاف حسین کا ہوا۔بانی پاکستان نے یہ ملک ہمیشہ کے لئے قائم رہنے کے لیے بنئے کے چنگل سے آزاد کرایا تھا۔ستر سال قبل بلاشبہ بے سروسامانی کے عالم میں اس قوم نے سفر شروع کیا تھا لیکن اب یہ دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت کی مالک ہے۔کوئی کسی مغالطے میں نہ رہے۔