- الإعلانات -

برداشت کے جمہوری کلچر کو پروان چڑھانے کی ضرورت

 سیاسی اُفق پر چھائے گہرے بادل کسی طوفانی کیفیت کااشارہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور سیاسی درجہ حرارت آئے دن بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ایک طرف وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد نواز شریف ترقیاتی کاموں کا دھڑا دھر افتتاح کررہے ہیں اور بھرپور عوامی جلسوں سے خطاب کرکے حکومتی کارکردگی پر روشنی ڈالتے نظر آتے ہیں ۔ گزشتہ روز چترال میں منعقدہ جلسہ عام بھی اس سلسلے کی کڑی ہے ۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہاکہ احتجاجی سیاست کرنے والوں کو عوام ہر جگہ بھرپور جواب دے رہے ہیں ۔ پنجاب اور کراچی میں ان کو خوب جواب دیا گیا۔ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارے دل میں بغض نہیں بلکہ لوگوں کی خدمت کا جذبہ ہے پختونخواہ میں بھی حکومت بنا سکتے تھے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا جس کو جہاں مینڈیٹ ملا اس کا احترام کرتے ہیں ہم نے صوبائی حکومتوں کو مکمل تعاون فرا ہم کیا کچھ لوگوں نے نعرے لگوائے کام نہیں کیا میرے پاس سیاسی مخالفین کو جواب دینے کام وقت نہیں وزیراعظم نے 20بستروں کا ہسپتا ل، یونیورسٹی بنانے اور ضلع کونسل کیلئے 20 کروڑ گرانٹ کا بھی اعلان کیا ۔ وزیراعظم نے کہا لواری ٹنل کی تعمیر سے چترال وسطی ایشیاءکیلئے گیٹ وے ثابت ہوگا۔ وزیراعظم نے جوکچھ کہا وہ بالکل درست کہا یہ وقت واقعی احتجاجی سیاست کا نہیں عوام کی خدمت کا ہے لیکن حکومت کو دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اس بات کے پس منظر میں جانے کی ضرور ت ہے اور ان محرکات و عوامل کا جائزہ لینا چاہیے جو احتجاجی سیاست کا ذریعہ بن رہے ہیں حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جان و مال کی حفاظت کو بھی یقینی بنائے ملک میںا من قائم رکھنا ، مہنگائی ، بیروزگاری کا خاتمہ اور سماجی انصاف کی فراہمی بھی حکومت کے فرائض میں شامل ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ امر کہ سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن صد افسوس کہ ہمارے ہاں سیاست میں برداشت کا فقدان ہے اور ہٹ دھرمی کا رجحان پایا جاتا ہے جس سے سیاسی ہلچل عوام کا مقدر بنی رہتی ہے۔ وزیراعظم جس تواتر سے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں اس سے ان کی نیت پر شبہ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ حکمت عملی اچھی ہے اور یہ اقدامات مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی کارکردگی کو بڑھا رہے ہیں لیکن سیاسی عدم استحکا م کا جو منظر اس وقت دیکھنے میں آرہا ہے یہ قطعی طورپر جمہوریت کیلئے نیک شگو ن قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے وہ سیاسی مخالفین کی بات کو سنے اور اس قیمتی وقت کو ضائع نہ کرے کیونکہ حکومت وہی کامیاب قرارپاتی ہے جو سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کو نہ صرف اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے بلکہ اس کے تحفظات کو بھی دور کرتی ہے پانامہ لیکس پر اپوزیشن کے تحفظات کو دور کرنا حکومت کا کام ہے لیکن حکومتی سطح پر متفقہ ٹی او آرز کا نہ بننا ہی احتجاجی سیاست کا باعث قرار پایا اور تحریک انصاف سڑکوں پر احتجاج کررہی ہے اور اب تو چیئرمین پی ٹی آئی نے 24ستمبر کو رائے ونڈ مارچ کا اعلان بھی کردیا ہے اور اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری تحریک قصاص چلائے ہوئے ہیں اور وہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہداءکا قصاص مانگ رہے ہیں عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید تحریک نجات اور جماعت اسلامی دھرنا اور پیپلز پارٹی بھی سڑکوں پر آنے کیلئے پر تول رہی ہے اور جو سیاسی منظرنامہ بنتا دکھائی دے رہا ہے وہ حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرسکتا ہے حکومت سیاسی تدبر اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے احتجاج پر سنجیدہ غور وفکر کرے اور ان کو اعتماد میں لے ۔پانامہ پیپرز پر متفقہ ٹی او آرز کو یقینی بنائے یہی وہ راستہ ہے جو جمہوریت کیلئے سود مند ہے۔ حکومت کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے ایک طرف دہشت گردی ہے تو دوسری طرف اس کو بھارتی جارحیت اور سازش کا سامنا ہے ان حالات میں سیاسی محاذ آرائی کامتحمل ہماراملک نہیں ہوسکتا اس لئے حکومت برداشت کے جمہوری کلچر کو اپناتے ہوئے ملک میں سیاسی استحکام لائے جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوگا ۔ ملک ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتا ۔ ہماری رائے یہ ہے کہ حکومت سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور اپوزیشن کے تحفظات کو دور کرے تاکہ جمہوریت پر کوئی کاری ضرب نہ لگے۔ ملک میں جمہوری کلچر کو پروان چڑھائے بغیر محاذ آرائی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت اور سیاسی جماعتیں مل جل کر ملک و قوم کی ترقی کیلئے کام کریں، سیاسی استحکام سے ہی ملک ترقی کے راستے پرگامزن ہوگا۔
 دہشتگردی کےخلاف اقدامات پر امریکی اظہار اطمینان
 امریکہ نے پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں حوصلہ افزا قرار دیا ہے اور کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کے خلاف بھی کارروائی کرے ۔ امریکی محکمہ خارجہ میں ایک بریفنگ کے دوران ترجمان محکمہ خارجہ مارک ٹونر نے کہا کہ اوبامہ انتظامیہ پاکستان کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف حالیہ اقدامات پر مطمئن ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان پر پابندیوں کی تجویز زیر غور نہیں ۔ امریکہ نے درست کہا کہ مشترکہ آپریشنز اور باہمی تعاون پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں ہے ۔ پاکستان پرامن ملک ہے اور دہشت گردی کے خلاف اس وقت فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے جس میں اس کو کافی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن اس کی سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کوجڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ امریکہ کا یہ بیان حوصلہ افزاءہے لیکن امریکہ بھارتی دہشت گردانہ کارروائیوں کا بھی نوٹس لے ایک طرف وہ ”را“ کے ذریعے پاکستان کے اندر عدم استحکام پیدا کررہا ہے تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے ہوئے ہے ۔ بھارت کی جارحانہ کارروائیاں خطے کے عوام کیلئے پریشان کن ہیں امریکہ جارح ملک کی طرف اپنے جھکاﺅ پر غور کرے اور بھارتی دہشت گردانہ کارروائیوں پر خاموش تماشائی نہ بنے بلکہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کا حل بھی نکالنے میں اپنا کردار ادا کرے ۔ پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ امریکہ ایک طرف تو دہشت گردی کے اقدام کو سراہا رہا ہے لیکن دوسری طرف اس کی دوعملی بھی دکھائی دیتی ہے پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور اس کی خواہش ہے کہ دنیا میں امن قائم رہے لیکن پڑوسی ملک کی مکاری اور بھان متی کا یہ عالم ہے کہ وہ پاکستان میں بدامنی پھیلا کر اس کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن دشمن اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ دنیا کو اس پر سنجیدہ سوچنا ہوگا اور جارح ملک کے ساتھ ان کا رویہ دوستانہ نہیں ہونا چاہیے پاکستان واحد ملک ہے جو دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے ۔ عالمی سطح پر اس کی کوششوں کو نہ صرف سراہا جائے بلکہ دہشت گردی کی روک تھام میں پاکستان سے ہر ممکن تعاون بھی کیا جائے