- الإعلانات -

گیارہ ستمبر۔۔۔اہل دانش کا فہمِ قائد

گیارہ ستمبر ہمارے قائد کا یوم وفات ہے ۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی یقین ہے کہ سیکولر حضرات مطلع کہیں گے کہ قائد اعظم کیسا ملک چاہتے تھے اور خود ہی مقطع بھی کہ ڈالیں گے کہ ساحب وہ تو ایک سیکولر ملک چاہتے ہیں۔
صحافت کو ہر موضوع چباکر کھرلی میں ڈال دینے کی ہم نے آزادی دے رکھی ہے ۔چنانچہ کچھ کالم نگاروں کے بے باک قلم اب بابائے قوم کے دامن سے الجھ رہے ہیں تو حیرت کیسی؟جو سماج فکر و دانش کے جملہ حقوق نیم خواندہ کالم نگاروں اور ناتراشیدہ اینکروں کےلئے محفوظ کر دے اسے اس سے بھی بڑے حادثات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
ہمارے زوال پزیر معاشرے میں المیوں کی کوئی کمی نہیں۔اب ہمارے ہاں دانشور کے نئے معنی و مفاہیم وضع ہو چکے ہیں۔دانشور اب وہ نہیں جس نے اپنے متعلقہ شعبے میں عمر کھپا دی ہو اور جس کے پاس اپنے شعبے کا وسیع تر تجربہ ہو ۔بلکہ دانشور وہ ہے جو کسی اخبار کے لیے کالم لکھتا ہے یا کسی ٹی وی پر ٹاک شو کرتا ہے۔چنانچہ اب سماج کو علمی،فکری،سیاسی، سماجی ،مذہبی کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو وہ رہنمائی کے لیے اسی نومولود دانش سے رجوع کرتا ہے۔ بلکہ اکثر یہ اہل دانش رجوع کیے بغیر ہی قوم کی فکری رہنمائی فرمانا شروع کر دیتے ہیں۔یہ آفریدی کو کرکٹ کھیلنا سکھاتے ہیں،یہ مولانا تقی عثمانی کو دین سمجھاتے ہیں،یہ رسول بخش رئیس کو عالمی سیاست کی حرکیات پر لیکچر دیتے ہیں،یہ وزیر خزانہ کو بجٹ بنانے کے گُر سمجھاتے ہیں ، یہ آرمی چیف کو بتاتے ہیں اسے وزیرستان میں کیسے آپریٹ کرنا چاہیے،یہ عمران خان کو سمجھاتے ہیں اسے کس کو ٹکٹ دینا چاہیے،یہ وزیر داخلہ کو بتاتے ہیں امن کیسے قائم ہو سکتا ہے،یہ دفتر خارجہ کی رہنمائی کرتے ہیں کہ فارن پالیسی یوں ہونی چاہیے،یہ غالب کے شعروں کی اصلاح کرتے ہیں،ملک میں گندم کی فصل اچھی ہو جائے تو یہ اسے بھی اپنی دانش کا اعجاز قرار دیتے ہیں۔۔۔۔جب علم و فکر کابحر ِ بے کراں یوں ٹھاٹھیں مار رہا ہو تو کیسے ممکن ہے یہ نومولود اہلِ دانش فکر قائد پر قوم کی رہنمائی نہ کریں۔چنانچہ رہنمائی کا یہ سلسلہ فیض جاری ہے۔یاروں نے آج قائد کے دامن پر ہاتھ ڈالا ہے۔کل کچھ اور دامن بھی چوراہے میں چاک پڑے ہوں گے۔حکومتوں کو ہر دور میں اہلِ دانش کے نام پر چند درباریوں اور مالشیوں کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے صاحب مسند بھی جب اہلِ دانش سے مشاورت کے نام پر کوئی محفل سجاتا ہے تو متعلقہ شعبوں کے ماہرین کی بجائے کالم نگاروں اور اینکروں کو مدعو کیا جاتا ہے ۔ماہرین فن کی بجائے جب یہ نومولود دانشوران جملہ امور پر حکومتوں کی رہنمائی فرماتے ہیں تو انجام کیا ہو گا؟
 اب کالم نگاروں کا فہم قائد ہمارے سامنے لمحہ لمحہ بے نقاب ہو رہا ہے۔یہ بحث اگر پروفیسر فتح محمد ملک اور ڈاکٹر مبارک کے درمیان ہوتی تو اس کی نوعیت یقینا مختلف ہوتی۔لیکن موجودہ بحث تو عصبیت کی جگالی ہے۔یہ مکالمہ نہیں مناظرہ ہو رہا ہے۔علم کی طرح دیانت کی بھی اس ساری بحث میں شدید کمی ہے۔اب تو یوں گماں ہو رہا ہے معاملہ فہم قائد کا نہیں ہر دو گروہوں کی ذاتی انا کا بن گیا ہے۔ذاتی انا جب غالب آ جاتی ہے تو مکالمے کا حسن مجروح ہو جاتا ہے۔مکالمے کا بنیادی تقاضا وسعت نظر اور خیر خواہی ہے۔مکالمے میں اس اسلوب بیاں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی کہ میرا دل کر رہا ہے اس کی زباں گدی سے کھینچ کر کتوں کے آگے ڈال دوں۔بلکہ مکالمہ تو امام شافعی کے اس اصول کے تحت ہوتا ہے کہ میں اپنی بات کو درست سمجھتا ہوں لیکن اس میں غلطی کے امکان کو تسلیم کرتا ہوںاور میں دوسرے کی بات کو غلط سمجھتا ہوں لیکن اس میں صحت کے امکان کو رد نہیں کرتا۔یہاں تو ہر دو اطراف کا دعوی ہے کہ جو وہ کہہ رہا ہے وہی حرف آخر ہے۔ایسے ماحول میں صرف جگالی ہو سکتی ہے ، مکالمہ نہیں۔
میری ناقص رائے میں ، جس میں بلاشبہ غلطی کا امکان موجود ہے، احباب نے قائد کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے حیات قائد کا مطالعہ کر کے ان کے بارے میں کوئی رائے قائم کی ہو بلکہ انہوں نے نتائج فکر پہلے سے طے کر لیے اور اس کے بعد حیات قائد کا مطالعہ صرف اپنے پہلے سے طے شدہ موقف کے حق میں دلائل ڈھونڈنے تک محدود کر یا۔جو چیز مرضی کے مطابق ملی وہ اٹھا لی جو چیز مرضی کے مطابق نہ ہوئی اسے نظر انداز کر دیا۔ہر گروہ قائد کے صرف وہ فرمودات پیش کر رہا ہے جس سے اس کی عصبیت کو تقویت ملے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ دونوں اطراف کے احباب قائد کے جملہ خطابات اور تقاریر کا احاطہ کرتے اور بتاتے کہ اس مجموعی مطالعے کے بعد کیا تصویر ابھر رہی ہے۔لیکن ایسا نہین ہوا۔ہر گروہ کے پاس اپنے چند اقتباسات ہیں اور وہ دوسرے کے پاس موجود قائد کی تقاریر کے اقتباسات کو سننا ہی نہیں چاہتا۔ اس فکری بد دیانتی سے ایک تاثر یہ پیدا ہو رہا ہے کہ خدانخواستہ قائد اعظم بھی ہمارے موجودہ سیاست دانوں کی طرح اپنی ضروریات کے تحت اپنا موقف بدل لیا کرتے تھے۔اب حقیقت یہ ہے قائد کے بد ترین مخالفین بھی انہیں موقع پرست یا جھوٹا کہنے کی جرات نہیں کر سکے۔اس لیے احباب اگر اپنی عصبیتوں اور انا کو چھوڑ کر کھلے ذہن کے ساتھ قائد کی فکر کا مطالعہ کریں تو دونوں گروہوں کی جفسیاتی گرہ کھل سکتی ہے۔الجھن قائد کی فکر میں نہیں ،معاملہ یہ ہے کہ ہم میں سے تحقیق و جستجو کا ذوق اٹھ گیا ہے۔ہم دلیل سے بات نہیں کرتے اور کسی کے بارے میں ہمیں کوئی خوش گمانی باقی نہیں رہی۔جہاں رائے کا اختلاف آیا وہاں زبانیںکاٹ کر کتوں کے آگے ڈال دینے کے عزائم کا اظہار ہونے لگا۔اب یہ کوئی انسانی رویہ ہے؟
مسئلہ فکری بد نیتی کا ہے۔ورنہ یہ معاملہ اتنا پیچیدہ نہیں کہ سمجھا ہی نہ جا سکے۔پاکستان اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک نیا تجربہ تھا۔ایک عرصے سے مسلمان ممالک میں دو طرز کے نظام حکومت چل رہے تھے۔کہیں بادشاہت تو کہیں تھیو کریسی۔قائد نے ان دونوں تصورات کی نفی کر دی۔انہوں نے ایک جدید اسلامی جمہوری ریاست کا تصور دیا۔جس میں فیصلہ تو قرآن و سنت ہی کے مطابق ہو گا لیکن فیصلہ سازی کا اختیار اہلِ مذہب کی بجائے پارلیمان کے پاس ہو گا۔یہ وہی بات ہے جو اقبال نے کہی کہ اجتہاد پارلیمان کرے گی۔اب قائد نے اسلامی اصولوں کی بات بھی کی اور مُلائیت کی نفی بھی کی۔کیونکہ وہ ایک جدید جمہوری اسلامی ریاست کی بنیاد رکھنے جا رہے تھے جو اپنے اسلامی اصوولوں پر بھی کاربند ہو گی اور جدید نظام حکومت کے تقاضوں پر بھی پورا اترے گی۔یہ فکر قائد کا تضاد نہیں تھا۔ہمارے نقص فہم نے اسے تضاد بنا دیا۔سیکولر احباب نے کہا دیکھا قائد نے مُلائیت کی نفی کی تھی اور جمہوریت کی بات کی تھی اس لیے وہ سیکولر تھے۔اور مذہبی طبقے نے کہا نہیں انہوں نے تو بار بار مذہب کی بات کی تھی۔سچائی یہ ہے کہ قائد نے ایک جدید جمہوری اسلامی ریاست کی بات کی تھی۔جب قائد کی فکر کے اس پہلو کو آپ ذہن میں رکھیں تو آپ کو ان کی گیارہ اگست والی تقریر سے سیکولرزم کہیں نہیں ملے گا۔یہ تقریر سیکولرزم نہیں اسلام کے اعلی اصولوں کی عکاس تقریر تھی۔یہ اصول تھیوکریسی میں کہیں نہیں ملیں گے، یہ اسلام کے اعلی اصول تھے جن کی روشنی میں قائد نے غیر مسلموں کو معاہد کا درجہ دیا۔لیکن سیکولر احباب ابھی تک غلطی سے تھیو کریسی اور اسلام کو لازم و ملزوم سمجھ رہے ہیں۔انہیں لگ رہا ہے چونکہ قائد نے تھیوکریسی یعنی مُلائیت کی مخالفت کی تھی اس لیے وہ سیکولر تھے۔ایسا نہیں ہے۔ قائد اعظم مذہبی انتہا پسندی اور سیکولرز انتہا پسندی ،دونوں سے دور تھے۔وہ اسلام کے اعلی اصولوں کے تحت ایک جدید اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے