- الإعلانات -

اتنی سی بات کا جھگڑا ہے بس

ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ہم میانہ روی کے قائل نہیں، حتیٰ کہ میانہ روی کا رویہ ہماری سمجھ سے ہی بالاتر ہے۔ ہم دوستی کرتے ہیں یا پھر دشمنی۔ اس کے درمیان کوئی راستہ ہمیں سجھائی ہی نہیں دیتا۔ سیاست کی بات کریں تو رہنماﺅں سے لے کر ان کے حامیوں اور عوام تک یہی رویہ بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص مسلم لیگ ن کی کوئی برائی بیان کرے تو وہ اس کا دشمن قرار پاتا ہے اور اگلے روز وہ مسلم لیگ ن کی کوئی اچھائی بیان کر دے تو اس کا نمک خوار کہلاتا ہے۔ ہم یہ سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں کہ کوئی شخص میانہ روی کی بات بھی کر سکتا ہے، کوئی شخص غیرجانبدار بھی ہو سکتا ہے اور وہ ہر سیاستدان یا سیاسی جماعت کی اچھائیاں اور برائیاں دونوں بیان کر سکتا ہے۔ یہاں ”سچا“ صرف وہی ہے جو ہماری طرفداری کرے۔ جس نے ہماری مخالفت یا ہمارے مخالف کی حمایت کر دی وہ ہمارے لیے بکاﺅ مال ٹھہرتا ہے اور اس مخالف کے لیے ”سچا“قرار پاتا ہے۔ دینِ فطرت ”اسلام“کو اگر ایک لفظ بھی بیان کرنا ہو تو ”میانہ روی“ کے لفظ سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہمارا مذہب سراپا میانہ روی ہے مگر ہم؟”اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی“ کے مصداق ہمارا کون سا طریق ہے جو اسلام سے ہم آہنگ ہو۔ پھر میانہ روی پر عملدرآمد نہ ہونے کا شکوہ ہی کیا۔ ہمارے ہاں ہر لیڈر سچا ہے اور اس کا ہر حامی سچا ہے۔ باقی تمام ملک جھوٹا۔ عمران خان حکمرانوں کی کرپشن کی بات کرے تو درست، مگر حکمران جماعت عمران خان کے پہلو میں کھڑے جہانگیر ترین، علیم خان و دیگر کے ”اچانک“ کھرب پتی بننے کا معاملہ اٹھائے تو غلط، بلکہ انتقامی کارروائی۔ حضور! جہانگیر ترین کا نام بھی تو پانامہ لیکس میں آیا ہے۔ اگر نواز شریف اور اس کے خاندان کے احتساب کے لیے سڑکوں پر دھمکاچوکڑی مچائی جا رہی ہے اور کاروباری حضرات کا اربوں کا نقصان کیا جا رہا ہے، تو آپ پانامہ زدہ جہانگیر ترین کے خلاف تحقیقات کی بات کیوں نہیں کرتے؟ وہ جہانگیر ترین جو کل تک بینک میں ایک ادنیٰ سی نوکری کرتے تھے اور ان کے والد چند ایکڑ میں کاشت کاری کرتے تھے۔ آج وہ ہزاروں ایکڑ زمین اور کئی شوگر ملوں سمیت نجانے کس کس ملک میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔ جواب ملتا ہے وہ ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دے رہے ہیں۔ اگر یہی ایمانداری کا پیمانہ ٹھہرا تو ڈاکوﺅں کو بھی اجازت دے دی جائے کہ وہ بھی اپنی ڈکیتی کی کمائی سے ٹیکس اداکرکے ملک کے معزز شہری بن جائیں۔ نواز شریف جیسوں کی کرپشن کے خلاف تحریک ان نقطے پر چلائی جائے کہ وہ اس کرپشن کی کمائی سے ٹیکس ادا کریں۔ کئی پانامہ زدگان کو کنٹینر پر اپنے پہلو میں کھڑا کرکے نواز شریف کی پانامہ زدگی پر ماتم کنائی، حصولِ اقتدار کے لیے کی جانے والی نوٹنکی کے سوا کیا ہو سکتی ہے؟ دوسری طرف پیپلزپارٹی کے کئی رہنماﺅں کے نام پانامہ لیکس میں آئے ہیں۔ عمران خان ان کے خلاف بھی اُف تک نہیں کرتے، الٹا انہیں بھی اپنی اس ”احتساب“ تحریک میں شامل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان تمام احوال کو مدنظررکھ کر حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو کیا سمجھ آتی ہے؟ہم بھی جانتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کرپشن اور اقرباءپروری کی روش جاری رکھے ہوئے ہے۔مگر کوئی یہ بھی بتا دے کہ خیبرپختونخوا میں کیا ہو رہا ہے؟ خود تحریک انصاف ہی کے وزراءاور ایم پی ایز ہر چند ماہ بعد وزیراعلیٰ پرویز خٹک ودیگر چند ناموں کی اقرباءپروری اور کرپشن کی دہائی دیتے ہوئے بنی گالہ کیوں آ دھمکتے ہیں؟پرویزخٹک کے گھر کے پانچ پانچ افراد اعلیٰ حکومتی و انتظامی عہدوں پر آ جائیں تو قانونی ہے اور اگر شریف ایسا کر لیں تو غیرقانونی۔ ایسا کیوں؟ پنجاب پولیس کو حکومتی ٹارگٹ کلر تک کہا جا رہا ہے اور ان کی ”غلامی“ کا رونا رویا جا رہا ہے اور خیبرپختونخوا پولیس کا ایک کانسٹیبل اگر مراد سعید کے والد کی گاڑی کا چالان کر دے تو اسے نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔ کیا پولیس کی سیاسی اثرورسوخ سے آزادی اسی کو کہتے ہیں؟ اس پیمانے میں رکھ کر پرکھیں تو پنجاب پولیس تو کب کی آزاد ہو چکی ہے اور بہت زیادہ آزاد ہو چکی ہے۔ نواز شریف ہو، آصف زرداری ہو ، عمران خان ہو یا کوئی اور، یہ سب ایک ہی تھالی کے بینگن ہیں۔ سبھی کی منزل اقتدار ہے۔ اس کے لیے انہیں اپنے گرد قبضہ گروپ کھڑے کرنے پڑیں تو وہ کرتے ہیں۔لوٹے صفائی کے مرحلے سے گزار کر رہنماءبنانے پڑیں تو وہ بناتے ہیں۔ دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنی بھی عزت و ناموس داﺅ پر لگانی پڑے تو وہ لگاتے ہیں۔ نواز شریف اور آصف زرداری کو ”باریوں“ کا طعنہ دینے والے عمران خان خود اپنی ”باری“ کے طالب ہیں۔ اس کے سوا انہیں کچھ مقصود نہیں۔ یہ جو بھی ہنگامہ بپا ہے، یہ ایسی نوٹنکی ہے جو اقتدار کی دیوی سے بغلگیر ہونے کے لیے لازمی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ 2013ءکی انتخابی مہم میں مسلم لیگ ن کے رہنماءآصف علی زرداری کو دنیا کا کرپٹ ترین شخص قرار دیتے رہے ہیں۔ کہتے رہے ہیں کہ وہ انہیں سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور ان کے پیٹ سے حرام کا مال نکالیں گے۔ جب انہیں اقتدار مل گیا تو وہ آصف زرداری کی کرپشن بھول گئے۔ یونہی عمران خان کو اقتدار دے دیجیے، وہ مسلم لیگ ن کی کرپشن بھول جائیں گے۔ اتنی سی بات کا جھگڑا ہے بس۔