- الإعلانات -

یوم قائدؒ اور ”را“ کے آلہ کار

گزشتہ سے پیوستہ
بیرونی دشمن کی آنکھیں تو کھل گئی ہونگی لیکن کچھ اندرونی دشمنوں کی بھی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جو کھاتاتو پاکستان کا ہیں۔ لیکن ان کی دل کی تاریں کبھی افغانستان کے ساتھ دھڑکتی ہیں تو کبھی بھارت انہیں معصوم لگتا اور کسی کو امریکہ کی گود میں چین آتا ہے۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاکستان دشمن طاقتوں کے یہ مٹھی بھر آلہ کار پاکستان کا کچھ بگاڑنے میں ناکام ہوتے رہے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ایسے عناصر چند ٹکوں کی خاطر اب تک اپنی خو سے باز نہیں آرہے ہیں۔ابھی حال ہی میں امریکہ میں امریکی اور بھارتی چھتری تلے اکبر بگٹی کی یاد میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ گزشتہ ماہ واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والی اس تقریب کی خصوصی بات یہ تھی کہ اس میں صرف انہی شخصیات کو مدعو کیا گیا جنہیں کسی نہ کسی شکل میں پاکستان سے بغض ہے۔میڈیا سمیت بیس پچیس افراد پر مشتمل اس تقریب سے براہمداخ بگٹی نے ویڈیو لنک اور ہمارے ایک سابق سفیر حسین حقانی نے خطاب کیا۔مقررین کی تقریروں کا فوکس بلوچستان اور افواج پاکستان کی بدخوئی رہا۔مقررین نے بلوچستان میں انسانی کی خلاف ورزیوں کا اپنے تئیں ڈھول پیٹا لیکن وہ یہ بات بھول گئے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے جاری ہونے والی اب تک کی رپورٹس میں بلوچستان کا کبھی ذکر نہیں آیا ۔ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف رہتی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی اگر کسی کو مارے جانے والے دہشت گردوں سے ہمدردی ہے تو پھر انکی سوچ پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ یہ تقریب اکبر بگٹی کی یاد میں منائی گئی اس سے براہمداخ بگٹی کا مخاطب ہونا تو سمجھ آتا ہے لیکن حسین حقانی صاحب کا اس میں شریک ہو کر پاکستان کے سیکورٹی اداروں کوہدفِ تنقید بنانا سمجھ سے بالا تر ہے۔موصوف پاکستان کے امریکہ میں سفیر رہے ہیں اور بھاری قومی خزانہ ان پر خرچ ہوتا رہا ہے۔ویسے بھی سفیر کسی بھی ملک کی ریاستی آئیڈیالوجی اور پالیسیوں کا امین ہوتا ہے۔وہ جہاں بھی رہے جس حیثیت سے رہے وہ ہمیشہ اپنے ملک سے وفاداری کا دم بھرتا ہے۔مگر موصوف حقانی صاحب اپنے عرصہ سفارتکاری میں ایسی سرگرمی میں مصروف ہو گئے کہ جس سے بعدازاں ملک میں ایک بحران پیدا ہوا۔جس پارٹی نے انہیں سفارتی ذمہ داری سونپی اس کےلئے مشکلات اٹھ کھڑی ہوئیں۔اس وقت کی اپوزشن جماعت کے سربراہ نوازشریف نے اس سے سیاسی فائدہ اٹھایا اور وہ کالا کوٹ پہن کر عدالت جا پہنچے۔جس کے بعد موصوف بمشکل جان بچا کربیرون ملک بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔غرض مختصر یہ کہ موصوف کو اس ملک نے مقام دیا اور عزت دی تھی ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ وہ جہاں بھی رہتے ہر جگہ ملک کا مقدمہ لڑتے خصوصا میڈیا کے محاذ پر اپنی جان لڑا دیتے کیونکہ انہیں قلمی محاذ پر ایک ملکہ حاصل ہے۔مگر یہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ آج ان کا قلم اور زبان پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔آخر سوال تو بنتا ہے کہ ان کی کتب بھارت میں کیوں اتنے اہتمام سے شائع ہوتی ہیں؟کیوں ان کی بکس کو بھارت میں پذیرائی دلوائی جاتی ہے۔کوئی تو ایسی وجہ ضرور ہے جس کی پردہ داری ہے۔کیا بابائے قوم نے اس لیے ہندو سامراج سے الگ وطن چھینا تھا کہ بعدازاں اس کے باسی اسے اپنے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانے پر تل جائیںیا اسی ہندو بنیے کی غلامی کا طوق پہن لیں۔اوپر جس تقریب کا ذکر کیا ہے اسکا اہتمام مودی کے پندرہ اگست والے بیان کے بعد خصوصی طور پر امریکہ میں RAW کی فنانسنگ پر کیا گیا جسکا مقصد بیرون ملک پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔اسکا ایک اور مقصد الطاف حسین کی جو پچھلے دنوں پاکستان میں مٹی پلید ہوئی اس سے مٹھی بھر بھارتی آلہ کاروں کے حوصلے شکستہ ہورہے تھے چنانچہ اسکا ازالہ کرنے کے لیے اس کا اہتمام کیا گیا۔اس تقریب پر را کی فنانسنگ کا محض الزام نہیں لگایا بلکہ اس تقریب کے مہتمم احمر مستی خان نے اسکا خود تقریب میں اقرار کیا۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہاں میں RAW کا ایجنٹ ہوں اور ہندووں کےساتھ مل کر کام کرتا ہوں۔اس بیوقوف کا اس طرح اقرار یقینا اس کے فنانسر تو خوش ہوئے ہونگے لیکن تقریب کے پیچھے چھپی بد نیتی بھی دنیا پرواضح ہو گئی۔ ایسی کٹھ پتلیوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے اپنے فنانسرز کو ضرور بیوقوف بنائیں مگر محب وطن پاکستانی ایسی کسی ڈرامہ بازی پر اب کان نہیں دھرتے۔پاکستان میں کئی ٹرکوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے ”جلنے والے کا منہ کالا“۔اسلئے پاکستان سے جلنے والوں کا منہ کالا ہوتا رہے گا جیسے حالیہ دنوں الطاف حسین کا ہوا۔بانی پاکستان نے یہ ملک ہمیشہ کے لئے قائم رہنے کے لیے بنئے کے چنگل سے آزاد کرایا تھا۔ستر سال قبل بلاشبہ بے سروسامانی کے عالم میں اس قوم نے سفر شروع کیا تھا لیکن اب یہ دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت کی مالک ہے۔کوئی کسی مغالطے میں نہ رہے۔
٭٭٭٭