- الإعلانات -

پاکستان ناقابل تسخیر ہے!

 جی ایچ کیو میں یوم دفاع پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ قربانیاں دینے والے شہداءکو سلام پیش کرتے ہیں جن کی بدولت آزاد اور باوقار ملک میں سانس لے رہے ہیں۔ جنگ ستمبر 1965ءنے قوم کو نیا عزم اور اتحاد دیا۔ ملک کے دشمنوں پر واضح کرتا ہوں پاکستان پہلے مضبوط تھا آج ناقابل تسخیر ہے۔ اللہ کے کرم سے پاکستان نے دہشت گردی کے چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کیا۔ شمالی وزیرستان پہلے دہشت گردوں کی آماجگاہ تھا۔ضرب عضب کے نتیجے میں وطن عزیز کا کوئی بھی علاقہ آج سبزہلالی پرچم کے سائے سے محروم نہیں۔ قومی سلامتی کی خاطر کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرینگے۔ ضرب عضب دہشت گردوں کے بلاامتیاز خاتمے کا عمل تھا۔ ہم نے ضرب عضب کے عسکری مقاصد حاصل کرلئے ہیں۔ دنیا کے نزدیک ضرب عضب فوجی اپریشن ہو سکتا ہے۔ ہمارے لئے ضرب عضب وطن کی بقاءکی جنگ ہے۔ ہمارے امن کو لاحق اندرونی و بیرونی خطرات پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 18 ہزار شہریوں، 5 ہزار فوجی جوانوں نے جانوں کا نذرانہ دیا۔ مکمل امن کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو نیشنل ایکشن پلان پر اسکی روح کے مطابق پورے ملک میں عمل کرنا ہوگا۔ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ ہر طرح سے کشمیریوں کی مدد جاری رکھیں گے۔ سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔مسئلہ کشمیر کا حل نہتے کشمیریوں پر گولیوں کی بارش نہیں۔ مسئلہ حل کرنے کیلئے کشمیریوں کی آواز سننا ہو گی۔جنرل راحیل شریف نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم دوستوں اور دشمنوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ہم دوستی نبھانا بھی جانتے ہیں اور دشمنی کا قرض بھی اتارنا جانتے ہیں۔ سی پیک کا عظیم منصوبہ پورے خطے کی خوشحالی میں مددگار ہوگا۔ کسی کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دیں گے۔ سی پیک کی بروقت تکمیل ہمارا قومی فریضہ ہے۔ سی پیک منصوبے کیخلاف ہر کوشش سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ دہشت گردی کے حوالے سے افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے۔ وہاں امن پاکستان کیلئے بھی ناگزیر ہے۔ افغانستان میں امن کیلئے بھرپور کردار ادا کررہے ہیں۔ افغان حکومت کے ساتھ مل کر سرحدی نگرانی کا مو ¿ثر نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ عناصر افغانستان میں امن کے خواہشمند نہیں۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کے خواہاں ہیں۔مفادپرست عناصر پاکستان افغانستان تعلقات میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ 65ءاور 71ءکی جنگوں میں فرق صرف قوم کی جانب سے ان جنگوں میں شمولیت اور عدم شمولیت کا تھا جس کے باعث ہم 65ءکی جنگ میں سرخرو ہوئے جس میں قوم فوج کے شانہ بشانہ تھی اور 71ءکی جنگ میں فوج کے تن تنہاءلڑنے کے باعث ہولناک نتائج پر منتج ہوئی۔ بھارت نے اس جنگ میں سازشوں کے علاوہ اپنی فوج بھی استعمال کی مگر اب حالات بہت تبدیل ہوچکے ہیں۔ گو بھارت کے پاس اسلحہ کے لاتعداد ذخائر موجود ہیں فوج بھی کئی گنا بڑی ہے جس کے باعث پاکستان اور بھارت کے مابین دفاعی عدم توازن تھا مگر پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد سے دفاعی عدم توازن ختم ہوگیا ہے۔ اب بھارت کا پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے صرف سازشوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ آج پاکستان میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے‘ بلوچستان میں علیحدگی پسند شر پھیلا رہے ہیں‘ کراچی کے امن کو برباد کرنے کی کوشش ہو رہی ہے‘ ان سب کے پیچھے وہی دشمن ہے جسے 65ءمیں عبرت ناک شکست دی تو وہ ایسی سازشوں پر اترآیا تھا جن کا سلسلہ آج اس نے تیز کر دیا ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے شہداء اور ان کے ورثاءکی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں۔ آرمی چیف نے یوم دفاع پاکستان کی تقریب کے اختتام پر شہدا کے لواحقین سے طویل ملاقات کی۔ ان کے مسائل سنے اور موقع پر ہی احکامات جاری کرتے رہے۔ جی ایچ کیو میں یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے تقریب ہوئی جس میں مسلح افواج کے سربراہان، وزیر دفاع خواجہ آصف، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ، غیرملکی سفیروں اور اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کا انعقاد یادگار شہداء پر کیا گیا۔ مسلح افواج کے چاک و چوبند دستوں نے مارچ پاسٹ کیا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یادگار شہداء پر پھول چڑھائے اور شہداءکیلئے فاتحہ خوانی کی۔ آرمی چیف نے یادگار شہداءپر سلامی دی۔یوم دفاع کے موقع پر جنرل راحیل شریف کا دشمن کو جرات مندانہ انداز میں پیغام بلا شبہ ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔خواہش ہے کہ ایسی ہی جرات مندانہ آواز سیاسی قیادت کی طرف سے بھی اٹھے۔