- الإعلانات -

امریکہ پاکستان اور بھارت سے منصفانہ رویہ اپنائے

 سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے واضح کیا ہے کہ اگر نیو کلیئر سپلائرز گروپ ( این ایس جی) میں بھارت کو اہمیت دی گئی تو خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ روکنے کا خواب ادھورا رہے گا ۔ پاکستان این ایس جی کی رکنیت کا اہل ہے اور اس حوالے سے امتیازی سلوک خطے میں عدم توازن کا باعث بنے گا۔ ماضی میں بھی سیاسی اور تجارتی مقاصد کی خاطر بھارت کو استثنیٰ دیا جاتا رہا امریکہ نے 2008ءمیں بھارت اور پاکستان کے درمیان امتیازی سلوک روا رکھا اور 2008ءکے بعد کئی ممالک سے ایسا مواد حاصل کیا ہے جو جوہری سیف گارڈ کے زمرے میں نہیں آتا ۔ پاکستان نے امریکہ کو باور کرایا دیا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے حوالے سے منصفانہ رویہ اختیار کرے ۔ پاکستان نے کئی تجاویز دیں جو خطے میں اسلحہ کی دوڑ میں ممدومعاون ثابت ہوسکتی ہیں لیکن ان پر کوئی توجہ نہ دی گئی ۔ جنوبی ایشیاءمیں نیو کلیئر سیکورٹی نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز ہے۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور اس کا جوہری پروگرام اور ہتھیار استعمال کیلئے نہیں یہ دفاع ضرورت کیلئے ہیں پاکستان نے حال ہی میں بھارت کو ایٹمی تجربات نہ کنے کے معاہدے پر دستخط کی پیشکش کی جو اس امر کی عکاس ہے کہ پاکستان پرامن ملک ہے پاکستان عالمی سطح پر ایٹمی عدم پھیلاﺅ کا بہت بڑا حامی ہے۔ بھارت کے جارحانہ رویہ نے پاکستان کیلئے مسائل پیدا کررکھے ہیں ۔ بھارت ایک طرف خطے میں بدامنی پھیلا کر اپنی دھاک بٹھانے کی ناکام کوشش کررہا ہے اور دوسری طرف پاکستان کے اندرونی معاملات میں اس کی دخل اندازی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔”را“ کے ذریعے دہشت گردانہ کارروائی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام پر جو ستم ڈھائے جارہے ہیں ان کو دیکھ کر انسان کا دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ بھارت کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیے ہوئے ہے ۔ پاکستان تمام مسائل کا حل پرامن طریقے سے نکالنے کا خواہاں ہے لیکن بھارتی رویہ رکاوٹ ہے پاکستان کی امن کاوشیں سبوتاژ کرکے بھارت خطے کیلئے خطرات پیدا کررہا ہے امریکہ دوعملی کا مظاہرہ نہ کرے ایک طرف وہ پاکستان کی دہشتگردوں کیخلاف کارروائیوں کو سراہتا ہے تودوسری طرف تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کی ترغیب دیتا دکھائی دیتا ہے حالانکہ پاکستان بلا امتیاز کارروائی کررہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں اس کو کافی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے پاکستان یہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ بھارتی وزیراعظم کی ہرزہ سرائی مضحکہ خیز ہے ہر وقت یاوہ گوئی اور بے جا پروپیگنڈ نریندر مودی نے اپناوطیرہ بنا رکھا ہے۔ مودی کا یہ کہنا کہ دہشت گردی کو مٹانا ہے تو پاکستان پر پابندیاںلگانا ہونگی ۔ افسوسناک ہے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے والی بات ہے ۔ بھارت دہشتگردانہ کارروائیوں کو اس طرح کی ہرزہ سرائی سے نہیں چھپا سکتا ۔ بھارت پاکستان میں دہشتگردوں کا مدد گار ہے ۔ کلبھوشن نے واضح کردیا ہے کہ دہشت گردی کون پھیلا رہا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھارتی دہشت گردی کا معاملہ جنرل اسمبلی میں اٹھائیں اور دنیا کو بھارتی روپ سے آگاہ کریں ۔ بھارت خود دہشت گرد ملک ہے اور الزام دوسروں کے سر تھونپنا اس کی عادت بن چکی ہے ۔ امریکی جھکاﺅ بھارت کی طرف ہونا پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان جیسے امن پسند ملک کے ساتھ عالمی برادری کا رویہ منصفانہ ہونا چاہیے۔نیو کلیئر سپلائرز گروپ میں بھارت کو اہمیت دینا خطے میں ایٹمی عدم توازن کا باعث بن سکتا ہے ۔ پاکستان این ایس جی کی رکنیت کا اہل ہے۔ بھارت جیسے نا اہل ملک کو این ایس جی کا رکن بنانا خطے کیلئے خطرے کا باعث ہے ۔ امریکہ منصفانہ رویہ اپنائے پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک سے گریز کرے۔
 سیاسی رواداری اور تدبر کی ضرورت
 چیئرمین تحریک انصاف عمرا ن خان نے قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن ساتھ دے تو رائے ونڈ مارچ کی جگہ اور تاریخ تبدیل ہوسکتی ہے۔ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے پانامہ معاملے پر آخری حد تک جائیں گے ۔ بنی گالہ آنے کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ایاز صادق کو سپیکر نہیں مانتا جمہوریت میں انصاٹف کے دربند کیے جائیں تو انتشار جنم لیتا ہے۔ خدارا(ن؛ لیگی ارکان کرپشن کی تحقشیقات کیلئے نواز شریف کو دباﺅ میں لائیں جبکہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماﺅں کے اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا اور ریفرنس کے معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا ہے کہ سپیکر کے فیصلے سے واضح ہوگیا ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے۔ اجلاس میں مسلم لیگ(ق) کے رہنما طارق بشیر چیمہ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ ، عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی غلام احمد بلور، تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی اور عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد بھی شریک ہوئے۔ قومی وطن پارٹی اور ایم کیو ایم کا کوئی رکن شریک نہیں ہوا ۔ اجلاس میں سپیکر کی طرف سے مسترد کیے گئے ریفرنس اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر مشاور ت کی گئی جبکہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا ہے کہ عمران خان ایوان کی توہین کررہے ہیں ۔ فیصلہ میرٹ پر کیا ہے۔ اپوزیشن نے سپیکر کی جانبداری پر اجلاس کا واک آﺅٹ کیا۔ سیاسی صورتحال کشیدگی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے جو جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار نہیں دی جاسکتی ۔ ملک انتہائی نازک صورتحال سے دوچار ہے ۔ کرپشن پر سودے بازی کی سیاست ملک و قوم کیلئے نقصان دہ ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتے فاصلے سیاسی محاذ آرائی کی راہ ہموار کررہے ہیں ۔ پانامہ لیکس سے اٹھنے والا طوفان تھمنے کی بجائے حکومت اور سیاسی جماعتوں کی کھینچا تانی سے بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ جمہوریت میں سیاسی رواداری تدبر اور بصیرت کی ضرورت ہواکرتی ہے اور برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں سیاست کا مزاج عجوبہ ہے ۔ سیاست دان آپس میں الجھتے رہتے ہیں اور عوام مسائل کے گرداب میں پھنسے بے یارومددگار آہ و بکا کرتے رہ جاتے ہیں ۔ یہ طرز کسی بھی لحاظ سے درست نہیں پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے معاملے کو جتنا طول دیا جارہا ہے اتنا ہی مسائل و مصائب حکومت کیلئے بڑھ رہے ہیں۔ حکومت اپوزیشن کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور پانامہ کی تحقیقات کیلئے خود کو پیش کرے تاکہ اس پر تنقید کی جو بوچھاڑ کی جارہی ہے اس سے حکومت بچ پائے لیکن معاملہ سلجھانے کی بجائے ان کو الجھایا جارہا ہے ۔ حکومتی وزراءجلتی پر تیل چھڑک رہے ہیں ۔ عمران خان جلسے ، جلوس اور مظاہرے کریں لیکن کسی کے گھر جانے کی ریت ہماری نظر میں صحیح نہیں۔ رائے ونڈ کی جگہ کسی اور مقام پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروالیں یہ ان کا جمہوری حق ہے ۔ حکومت بھی ہٹ دھرمی کو چھوڑے اور پانامہ ایشو پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور متفقہ ٹی او آرز کیلئے حکمت عملی اپنائے ملک کو اس وقت کئی چیلنجز کاسامنا ہے اور سیاسی عدم استحکام ملک کی جڑیں کمزور کرنے کا باعث بن سکتا ہے ۔ دشمن کی سازش اور چالبازی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت حالات کو سلجھائے اور سیاسی تدبر کا عملی مظاہرہ کرے ۔ پانامہ کا ہنگامہ اور شور شرابا کم کرنے کیلئے تحقیقات کیلئے اپوزیشن کو اعتماد میں لے قانون سے بالاتر کوئی نہیں کرپشن نے ملک کے اداروں کو تباہ کررکھا ہے ہر طرف بدعنوانی اور کرپشن کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ حکومت اس دلدل سے اسی وقت نکل پائے گی جب وہ احتساب اور تحقیقات کے عمل کو صاف اور شفاف بنانے کیلئے اقدامات کرے گی ورنہ سیاسی اُفق پر چھائے بادل ژالہ باری کا باعث بن کر جمہوریت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں ۔ یہ وقت برداشت اور سیاسی بصیرت کے مظاہرہ کا ہے