- الإعلانات -

کشمیر میں تشدد کی لہرپراے ایس دلت کی دہائی

بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کے سابق سربراہ امر جیت سنگھ دلت مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر نریندر مودی کے خوب لتے رہے ہیں،چونکہ اے ایس دلت سابق وزیر اعظم واجپائی کے دور میں کشمیر کے حوالے سے مشیر تھے اس لیے ان کی بے چینی اور تشویش میں وزن محسوس ہوتا ہے۔ گزشتہ ماہ اگست کے آخری ہفتے انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل مذاکرات میں ہے اور بات چیت میں پاکستان کو شامل کرنا ضروری ہے۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ کہا کہ مودی کے اقدامات کشمیر میں شورش کا سبب بن رہے ہیں۔اے ایس دلت نے جو بات کہی ہے پاکستان ایک عرصہ سے کہہ رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل بامعنی بات چیت سے ہی ممکن ہے،الزام تراشی سے مسئلہ مزید بگڑ جائے گا۔اس کا عملی مظاہرہ مودی حکومت دیکھ رہی ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے کشمیر جل رہا ہے مودی حکومت کا ہر حربہ ناکام ہورہا ہے۔ایک سو کے قریب کشمیری اس وائلینس میں شہید ہوچکے ہیں۔تشدد کی اس لہر کے سامنے کشمیریوں کے حوصلے پست ہوتے دکھائی نہیں دیتے بلکہ وہ اور زیادہ عزم کے ساتھ مزاحمت کررہے ہیں۔مودی حکومت اسکا مورد الزام پاکستان کو ٹھہراتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ برہان وانی کے بعد وہاں کا نوجوان آگ بگولہ بن کر باہر نکل آیا ہے۔یہ بات مودی حکومت کو سمجھ لینی چاہیے کہ آج کی نسل بھارتی مظالم کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور سہتے پروان چڑھی ہے۔اے ایس دلت نے مذکورہ انٹرویو میں درست کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی دونوں کو تشدد کی اس پالیسی سے کچھ نہیں ملا اورناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مودی حکومت کشمیر کے معاملے سے نہایت خراب انداز سے نمٹ رہی ہے۔ کشمیر کی سڑکوں پر غصہ نظر آتا ہے جس پر ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بڑے پیمانے پرتشدد کوئی اچھا تاثر نہیں دے رہا۔ ”را“ کے سابق سربراہ امر جیت سنگھ دلت نے کہا کہ بھارتی حکومت نے تشدد کے علاوہ غصے میں بپھری کشمیری عوام کیلئے کچھ نہیں کیا۔ بھارتی حکومت کو کشمیر سے متعلق فریقین کو اعتماد میں لینا چاہئے اور ان سے بات چیت کرنی چاہئے۔ کشمیر میں پہلے سے غم و غصہ موجود تھا۔علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی شہادت نے اسے بھڑکانے کا کام کیا۔ اے ایس دولت نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے پاکستان کا مذاکرات میں شامل ہونا ضروری ہے، یہ وہ سوچ ہے جسے لےکر ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔اے ایس دلت کی بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر کی حالیہ صورتحال پر بھارت بھر میں گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیںاور اپوزیشن جماعتیں مودی کو ہوش کے ناخن لینے کا کہہ رہی ہیں۔حتی کہ مودی کے پندرہ اگست والے بیان جسمیں انہوں نے بلوچستان میں گڑ بڑکا اقرار کرتے ہوئے مزید مداخلت کا عندیہ دیا پر بھی شدید تنقید کی کہ اس سے کشمیر کی صورتحال پر منفی اثرات پڑیں گے۔قبل ازیں بھی اے ایس دلت نے ایک اور انٹریو میں برہان وانی کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حزب کمانڈر برہان وانی کشمیریوں کیلئے آئیکون کی حیثیت رکھتا تھا۔ نئی دہلی وانی کو دہشت گرد، حملہ آور یا ملی ٹینٹ کہے لیکن وہ مختلف تھا وہ بیحد مقبول تھا لہذا جب اسے مار گرایا گیا تو پوری وادی میں غم و غصہ پھیل گیا۔ دوسری طرف بھارتی حکومت نے اس کا جواب ظالمانہ طریقے سے دیا اور احتجاج کچلنے کیلئے گولیاں چلادیں جس سے درجنوں افراد مارے اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ وادی میں بدامنی کو ہوا دینے کا الزام پاکستان پر لگایا جا رہا ہے۔را کے سابق چیف کی اس نکتے پر حیرانی بجا ہے۔اے ایس دلت ہی نہیں پوری دنیا اس پر حیران ہے کہ اس میں پاکستان کا کیا کردار ہے۔کیا وانی کو شہید کرنے کا مشورہ بھارتی افواج کو پاکستان نے دیا تھا۔دوسرا یہ کہ یہ کشمیریوں کی مکمل داخلی تحریک ہے۔ کسی کے اشاروں پر تحریکیں اتنی دیر تک مزاحمت نہیں کر پاتیںَ وانی کی شہادت کو دو ماہ ہونے کو ہیں اور پچھلے دوماہ سے مقبوضہ کشمیر ایک جیل کی شکل میں ڈھل چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد کی یہ تازہ لہر مودی اور محبوبہ مفتی کے گٹھ جوڑ کےلئے گلے کا پھانس بن چکی ہے۔پی ڈی پی اور بھارتیہ جنتاپارتی کے درمیان اتحاد کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایس اے دلت نے کہاکہ ساوتھ اور نارتھ پول کے ملاپ کے باعث ہی کشمیریوںمیں شدید غم وغصہ پایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کو سابق وزیر اعظم واجپائی کے اصولوں پر چل کر کشمیر مسئلے کو حل کرنے کی طرف توجہ مبذول کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ہر کشمیری واجپائی کی عزت کرتاتھا۔انہوں نے کہاکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرئے ہو رہے ہیں اور لوگوں کی کثیر تعداد ان میں اپنی موجودگی دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے مودی حکومت کو مشورہ دیا کہ وادی میں امن و امان بحال کرنے کیلئے فوری طورپر تمام سیاسی پارٹیوں بشمول علیحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جانا چاہیے۔وادی کی صورتحال بھارتی فورسز کے کنٹرول سے باہر ہوچکی ہے اور اب 90 والی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جب سارے کشمیری مجاہدین کی حمایت میں نکل آئے تھے۔ادھراپوزیشن جماعت کانگریس کے سینئر رہنمااورسابق وزیرمانی شنکرآئر نے بھی کہا ہے کہ کشمیری بھارت سے آزادی چاہتے ہیں جب کہ فوجی ایکٹ اور دیگر سختیوں کے ذریعے انکی جدوجہد کو روکا نہیں جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ کشمیری بھارت سے آزادی کیلئے نئے عزم سے جدوجہد کر رہے ہیں، کشمیرکے اسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں مگر انکے ہاتھوں پرآزادی کے حق میں نعرے درج ہیں، کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا سیاسی حل ہی نکالنا چاہیے“۔مودی ان مشوروں پر نجانے کہاں تک عمل کرتے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ بی جے پی کی مودی حکومت خطے کو کسی اور جنگ میں دھکیلنے کے موڈ میں ہے۔بہجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے مودی حکومت کے عزائم کو بھانپتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اترپردیش میں آنےوالے الیکشن میں شکست سے بچنے کےلئے مودی سرکار پاکستان کےساتھ جنگ چھیڑ سکتی ہے۔مایاوتی کے خدشے کورد نہیں کیا سکتا۔مودی کادور حکومت بھارت کےلئے بدترین دور ثابت ہوا ہے۔کشمیر اسکے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور دنیا میں اس کے موقف کو رد کیا جارہا ہے۔اپوزیشن اسے مشورہ دےرہی ہے کہ کشمیر پر بات چیت کا معطل سلسلہ بحال کیا ہے۔ایسے حالات میں مودی سے کسی بھی قسم کی بونگی بعید نہیں ہے۔