- الإعلانات -

مسلمان اور اجتماعی رویے

فارسی کا یک مقولہ ہے کہ” بوزنہ قاضی نمی شود ” بندر قاضی نہیں بن سکتا یہ مثال ان سب پر صادق آتی ہے جو ڈارون تھیوری پر یقین رکھتے ہوئے خود کو اشرف المخلوقات سمجھنے کی بجائے بندر کی ارتقائی شکل سمجھتے ہیں اور بلیوں (مسلمانوں )کے درمیان روٹی کے فیصلے کرنے بیٹھتے ہیں اور بلیوں کی پوری روٹی کھا جاتے ہیں دنیا بھر میں جہاں چاہیں نظر ڈال لیں اقتصادی مفادات تو بنیادی وجہ ہیں ہی لیکن پس منظر میں دین اور عقیدے کا معاملہ بھی سر اٹھائے نظر آتا ہے اب آپ ملاحظہ فرمائیں کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی دہشت گردی ہو تو میڈیا ہم آواز ہو کر اس واقعے کو اسلام سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے کہ فلاں جگہ اسلامی عسکریت پسندوں یا دہشگردوں نے یہ کردیا اور وہ کردیا لیکن کبھی آپ نے سنا کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر بودھوں کے ہونے والے روح فرسا مظالم پر مغرب میں کبھی پریس میں آیا ہو کہ مظالم کے پہاڑ توڑنے والے بودھ دہشت گرد یا عسکریت پسند تھے گجرات میں 2000 سے زیادہ مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا کسی نے نہیں کہا کہ یہ سب کرنے والے ہندو دہشتگرد یا عسکریت پسند تھے صیہونی مذہبی دہشتگرد بے گناہ فلسطینی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کئے بیٹھے ہیں پورا فلسطین اسرائیلی فوجی محاصرے میں ہے جہاں نہ خوراک دستیاب ہے نہ پانی اور نہ ادویہ اور نہ یہ چیزیں فلسطین لے جانے کی اجازت ہے لیکن پورا مغربی پریس بشمول ہندوستان انہی مظلوم اور نہتے شہریوں کو دہشتگرد کہتا ہے اور الزام کہ فلسطینی بچے اسرائیلی فوجیوں پر چھوٹے چھوٹے کنکر اچھالنے لگے ہیں یعنی نہتے بچوں پر براہ راست فائر کرکے ان کو ہلاک کرنے والا تو امن پسند اور مظلوم ہے لیکن چھوٹے بچے جن کے پاس ماسوائے چھوٹے چھوٹے کنکروں کے کچھ بھی نہیں اور وہ اپنے آبا و اجداد کی زمینوں پر ناجائز اور بزور قبضے کے خلاف محض احتجاج کر رہے ہیں ظالم اور دہشتگرد ہیں یورپ خود کو روشن خیال کہتے نہین تھکتا لیکں حجاب جیسی بے ضرر چیز پر بھی مسلمان خواتین کو سر بازار تنگ کیا جاتا ہے اور ان کے سر پر بندھے اسکارف تک کھینچتے جاتے ہیں جبکہ چرچ کی نن بھی سر ڈھانپتی ہیں لیکن تشدد کا شکار صرف مسلمان خواتین ہی ہوتی ہیں اور یورپ ہی میں سربازار تشدد کے بعد مسلمان مردوں کی داڑھی بزور مونڈ دی جاتی ہے کہ یہ مسلمان ہیں مقبوضہ کشمیر میں معصوم اور مظلوم کشمیریوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر نام نہاد آزاد دنیا جس پر مغرب ہی کا تسلط ہے آنکھیں موندے اور کان سئے بیٹھی ہے کہ متاثرین مسلمان ہیں اور یہاں بھی گلہ ہے کہ گن پاﺅڈر ڈال کر مظلوم اور نہتے کشمیریوں کے گھروں اور مارکیٹوں کو جلانے والے نوجوانوں کو عقوبت خانوں میں ڈال کر بدترین تشدد کر کے ہلاک کرنے والے اور ہماری عفت مآب بہنوں اور بیٹیوں کی اجتماعی عصمت دری کرنے والے نوجوانوں پر پیلٹ گن سے براہ راست فائر کرکے بینائی سے محروم کردینے والے تو مظلوم اور حق پر ہیں لیکن ظلم و ستم اور بدترین ریاستی دہشتگردی کا شکار کشمیری بچے جن کے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم ہیں اور وہ نعرے لگا رہے ہیں کی ہم ہیں پاکستانی اور پاکستان ہمارا ہے اور یہ آزاد دنیا کے سامنے دہشتگردی ٹھہری کیوں کہ متاثرین مسلمان ہیں شام میں بشار الاسد جسے مشرق وسطی کا قصاب کہا جاتا ہے اور جو دس فیصدی اقلیت علوی فرقے سے تعلق رکھتا ہے جو خود کو مسلمان نہیں کہتے بشار الاسد نے ایک نئی کتاب تخلیق کی ہے جس کو وہ دیگر مذاہب بشمول قرآن بہتر اور امن کا ضامن قرار دیتا ہے اس شخص کو مغرب نے بزور اور بذریعہ بد ترین تشدد نوے فیصد اکثریتی آبادی کی گردنوں پر مسلط کر رکھا ہے اس کے اقتدار کو طول دینے اور مسلمانوں کی نسل کشی کی اجازت تک دے رکھی ہے اور اس معاملے میں روس بھارت امریکہ برطانیہ اور فرانس بشار الاسد کے نہ صرف ہمنوا ہیں بلکہ اس کی دامے درہمے اور سخنے مدد کر رہے ہیں اس لئے کہ ہدف اور متاثرین مسلمان ہیں انڈیا میں مسلمانوں پرمختلف حیلوں بہانوں اور منظم طور پر مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے گائے رکھشا کے نام پر مسلمانوں پر سر بازار شدید ترین تشدد کیا جارہا ہے کبھی تو گائے کا خریدار اور بیچنے والا دونوں ہندو ہیں مسلمان اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے والی گاڑی کا محض ایک ڈرائیور ہے نہ خریدار اور نہ بیچنے والے سے کوئی باز پرس کی جاتی ہے صرف ڈرائیور ہی کو مسلمان ہونے کی بنا پرگاڑی سے نیچے اتار کر اس پر بدترین تشدد کیا جاتا ہے آج کل ایک حکومتی ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے جس کا کام مسلمانوں کے گھروں پر چھاپے مار کر پکے ہوئے گوشت کو پکڑنا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ہے پہلے تو متعلقہ شخص کو گرفتار کر کے حوالہ زنداں کیا جائے گا اسکے بعد تعین ہوگا کہ گوشت گائے کا تھا بکرے کا یا مرغ کا تب تک ملزم جیل میں ہی سڑتا رہے گا تعین کرنے والے بھی متعصب ہندو ہی ہوں گے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے یو پی میں اس ٹاسک فورس میں شامل ہونے کے لئے بھاری رشوت لی دی جا رہی ہے کہ اس میں ملزم آسان ہدف ہوں گے اور رشوت کا بازار بھی خوب گرم ہوگا اس ٹاسک فورس اور اس قانون کے خلاف کسی بھی حلقے یا کسی این جی او کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں کیا گیا ہے اور نہ کسی نے اس کے خلاف آواز اٹھائی گئی ہے کہ ہدف مسلمان ہے سا طرح کیا عالمی امن کاہدف حاصل کیا جا سکتا ہے کیا منظم طور پر مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے رویے اپنا کر دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے ہر گز نہیں اس کے لئے تمام انسانوں کو چاہے جس بھی مذہب مسلک اور دین سے تعلق ہو اپنے رویوں میں نرمی اور تبدیلی پیدا کرنی ہو گی اپنے اندر برداشت پیدا کرنی ہوگی ورنہ امن اور بقائے باہمی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا اللہ ہم سب کو اپنے محاسبے اور اپنے رویوں پر نظر ثانی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین