- الإعلانات -

بانیِ پا کستان قا ئد اعظم محمد علی جناحؒ

بے مثال سےاسی بصےر ت ، اعلیٰ تد بر ، بے خو ف اور بے لو ث قائد
نگہِ بلند سخن دلنواز جاں پرُسو زےہی ہے رخت سفر مےر کارواں کےلئے
بقول قائداعظمؒ جس دن پہلا مسلمان بر صغےر ہندوستان مےں داخل ہوا اُسی دن دو قو می نظرےہ اور نظرےہ پاکستان وجو د میں آ گےا تھا ۔ محمد بن قاسم کی سند ھ مےں آمد اورمحمو د غز نو ی کے ہندوستان پر حملو ں مےں دو قومی نظرےہ کی داغ بےل ڈال دی جس کو بعد مےں مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ دورِ حکو مت میں مسلم تشخص کو اجا گر کیا گےا لیکن اورنگزےب کے بعد مغلےہ سلطنت کا بتد رےج زوال مسلمانوں کےلئے عظمت رفتہ بنتا جارہا تھا آخر کا ر 1857ءمیں انگر ےز وں نے بر صغےر مےں اپنا سےا سی تسلط قائم کر لےا جس کے بعد ہندوﺅ ں اور انگرےزو ںکی مشترکہ رےشہ دوانےاں مسلمانو ںکی معاشی و معاشرتی زبوں حالی ، طر ز حےا ت اور تہذ ےب مذہبی اور ملی آرزوئےں مسلمان معاشرے کےلئے برابر انحطا ط کا باعث ہو رہی تھیں ۔ انگر ےزوں کے دور میں بر صغیر میں سر سےد احمد خان اور اُس کے رفقاءنے بروقت اس سازش کو بے نقاب کیا اور اُردو ، ہند ی جھگڑے کے نتےجے مےں بھا نپ لیا تھا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہےں اور اسی نظرےے کی آ بےا ری بر طانو ی ہندوستا ن میں مسلمانوں نے مختلف مواقع پر بڑے شدو مد سے کی تارےخی تنا ظر میں دےکھا جا ئے تو ےہ با ت اظہر من الشمس ہے کہ مسلمانو ں کے آٹھ سو سال دورِ حکومت میں مسلمان حکمرانوں اور حکومتوں نے عوام کے سا تھ مذہب زبان علا قائی تعصبات سے بالا تر ہو کر تمام معا شرے کو آزادی مذہب عقائد ، رسم و رواج اور شخصی آزادی جےسی اعلیٰ معاشرتی اقدار کو راہ دی اور قےام اور حصو ل عدل و انصاف سارے سماج کو برابر ی اور مساوات کا حق دےا گےا لےکن برطانوی ہندوستا ن نے جب مسلمانانِ بر صغیر اور اسکی رہنما قےا دت نے محسو س کیا کہ مغلےہ سلطنت کے خا تمے کے ساتھ انگرےزو ں کی غلامی و ہندو ذہےنت دونوں آپس مےں سا ز با ز کر کے مسلمانوں کی ہر طرح کی ترقی خوشحالی سےا سی و معاشی آزادی اور اسلامی نظر ےے کی بنےا دو ں کوہلا رہی تھی اور حےلے بہا نو ں سے مسلمانوں کو انگرےز اور ہندو دونوں مل کر غلام بنا کر اپنے وقت کی حکمران قوم کا ہر طر ح کا استحصال کر نا چاہتے تھے تو ےہ کڑا وقت مسلمانو ں کےلئے بہت فےصلہ کن مر حلے کا تقاضا کر رہا تھا ۔
ےہی حالا ت تھے جس مےں اےلن ہےوم انڈےن سول سروس کے ذرےعے انڈ ےا نےشنل کا نگر س کی اےک سےاسی جماعت کے طور پر انےسو ی صدی کی ساٹھ کی دہائی میں ہندوستا تی سےاست کے منظر عام پر آ گئی اگر چہ مسلمان کچھ عرصہ سمجھتے رہے کہ شا ےد ہمارے حقو ق کی پا سداری بھی ےہی جماعت کر ے گی لےکن جلد ی مسلمانوں کو معلوم ہو گےا کہ کا نگر س ہندوﺅ ں کی نمائندہ سےاسی جماعت ہے ۔ لہذا انہو ں نے اپنی الگ سےاسی جماعت جو اُن کے سےاسی شعور ،بلوغت ، جذبا ت احساسات اور سےاسی اور معاشرتی امنگو ں اور حقوق تحفظ کی ضا من ہو اور صحےح معنوں مےں اُ ن کی آ رزﺅں کی تر جما ن ہو اُس کے بنانے کا وقت آ گےا تھا ۔ پھر 1906ءنواب سلےم اﷲ خان ، نو اب آف ڈھاکہ، کے گھر مےں آل انڈ ےا مسلم لےگ کا قےام عمل مےں لاےا گےا اور ہندوستا تی سےا ست مےں مسلمانو ں کی نمائندہ جما عت آل انڈ ےا مسلم لےگ اُبھر کر سامنے آئی۔ پہلا شملہ وفد اور اسکے بعد ہندوستان چھو ڑو تحرےک اور تر ک ِ موالات علامہ اقبال ؒ کا خطبہ الہ آباد 1930نہرو رپورٹ اسکے جواب مےں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے تارےخی 14نکات نے کا نگر س اور انگرےزوں کے مسلمانو ں دشمن اےجنڈے کو طشت از بام کر دےا ۔ 1937ءکے انتخابا ت اور اس مےں انڈین نےشنل کا نگر س اور آل انڈ ےا مسلم لےگ کی پا رٹی پو زےشن واضح ہو گئی اور پھر قائداعظم ؒ کی قےادت مےں تےن سال کے بعد لا ہور منٹو پا رک مےں 1940مےں قرار داد پےش کی گئی جس کو ہندو پر ےس نے قرار داد پاکستان کا نام دےاجو حقےت بن کر سامنے آئی ۔ آئےنی اصلاحات کے نام پر کی گئی کو ششےں جس مےں کر پس مشن ، وےول پلا ن اور 1946ءکے انتخابا ت مےںا ٓل انڈ ےا مسلم لےگ کی کا میابی آخر کا ر ہندو اعلیٰ قےادت کی روائتی ہٹ دھرمی نہرو اور پےٹل کی دشمن پالےسی نے مسلمانوں پر عرصہ حےات تنگ کر دےا ۔ جس مےں کئی کانگرےسی مسلمان لےڈر بھی شامل تھے جو بد قسمتی سے بھارت کی سےاسی چالوں مےں آ گئے اور پاکستان کے قےام کی مخا لفت مےں اُنکی ہا ں مےں ہاں ملائی لےکن قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور اُنکے رفقا ءکی گہری سےاسی اور قائدانہ بصےرت حوصلہ و ہمت جرا ت کر دار اور تارےخی تد بر ہی تھا جو تمام تحرےک پاکستان مخا لف قو توں کا بغےر آئےن اور قانو ن تو ڑے ہر محاذ پر مقابلہ کر رہے تھے ۔
 نہرو ، پےٹل، اور لا ڈ ما ﺅ نٹ بےٹن کی سازش سے اتنے بڑے انتقال آبادی کےلئے متحدہ پنجا ب اور دےگر مسلمان اکثرےتی علا قوں مےں فسادات کر ا ئے گے جس سے لا کھوں انسان لقمہ اجل ہو ئے اورلاکھوں گھر بار لٹ گئے لوگ در بدر ہو ئے اور بڑے پےمانے پر ما لی و معاشی تباہی علےحدہ ہو ئی پا کستان کے حصے مےں آنے والے مالی وسائل کو روک لےا گےا تربےت ےا فتہ اہلکار اور کار پر دازنِ حکومت کو نہ آنے دےا گےا ۔ نوازئےدہ مملکت پر لا کھوں مہا جر ین کا بو جھ ڈال کر اُسے بے ےا رو مد دگار چھوڑ دےا گیا تاکہ ےہ مملکت وجو د مےں آتے ہی ان گنت مسائل مےں اُلجھ جا ئے تاکہ پاکستان کے قےام کے سا تھ ہی لو گ اسکے مستقبل سے ماےو س ہو نا شروع ہو جائےں ۔ لےکن ےہ قائدا عظم محمد علی جناحؒ کی اعلیٰ بے لو ث اور بے خوف اور با کر دار قےادت ہی تھی جس کے بل بو تے پر اپنوں اور غےروں جس مےں دونوں محاذ انگرےز اور ہندو ، قوم پر ست اور نےشنلسٹ مسلمان شامل تھے تمام تر مخالفتوں کے باو جو د قائداعظمؒ ان طو فا نوں سے وطن عزےز کی کشتی آزادی اور صحےح و سلامت کنارے مےں لگانے پر کامےاب رہے ۔ کےسا عظےم لےڈر تھا اور کتنی بڑی قر بانی قائداعظم نے اپنی ذاتی زندگی مےں دی کہ انہو ں نے اپنی صحت کی پروا ہ بھی نہ کی اور بمبئی کے قےام کے دوران ہی انہےں اپنے ٹی بی کے مر ض کا علم ہو چکا تھا لےکن انہو ں نے اپنے معالج سے وعدہ لیا کہ وہ اپنی نہتی اور مظلوم قوم جو ظلم کی چکی مےں پس رہی تھی کو آزادی دلانا چاہتے ہےں لہذا مےرے مر ض کو راز مےں رکھے ورنہ مےری قوم کی آزادی کی منزل کہےں کھو ٹی نہ ہو جا ئے ۔ با لا آخر 14اگست 1947ءکو اےک بڑی اسلامی مملکت دُنےا کے نقشے پر وجو د مےں آ گئی جس کو آزادی کے سا تھ ہی تعمےر پا کستان کے بارے مےں بےشمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس مےں سر دست لا کھوں کی تعدادمےں مہا جر ین کی آباد کا ری ، وسائل کی کمےابی اور قومی افرا تفری اور ہندوستا ن کی بھر پور مخا لفت اور ہر قسم کا بو جھ ان تمام عنا صر نے ملکر ہمارے عظےم اور محبوب قائد کے آہنی قو یٰ کو مضمحل کر نا شروع کر دےا اور بےمار ی نے انہےں سنبھالنے کا مو قع کم دےا اگر چاہتے تو علاج کےلئے بےرون ملک بھی جا سکتے تھے لےکن انہو ں نے قومی اہمےت کےلئے وقت اور سرماےہ کو ضا ئع کر نے کا سوچا ہی نہےں تھا ۔ زےارت مےں اپنے آخری دنوں مےں پا کستان کے مستقبل کے بارے مےں بار بار سوچتے تھے کہےں سازشی اور غدار عناصر اس نعمت خدا داد کو نقصا ن نہ پہنچا ئےں آخر کا ر 11ستمبر1948کو وہ دن آگےا جب ہمارے محبو ب قائد اﷲ کو پےارے ہو گئے ۔ انہو ں نے وفات سے پہلے اپنی جا ئےداد اور اثاثے پا کستا ن کے قومی تعلےمی اداروں کو عطےہ کر دےے اگر آج دےکھےں تو پوری قوم قائداعظم سے شرمندہ ہے کہ ہم نے اپنی پے در پہ غلطےوں اور کو تاہےوں کے نتےجے مےں ملک کا اےک حصہ گنوا دےا اور پھر بھی سمجھ نہےں رہے کہ مورخ ہمارے با رے مےں کیا لکھ رہا ہے اور آئندہ کیا رقم کر ے گا ؟ ہم سب خاص کر اشرافےہ اور حکمران طبقہ اپنے گر بےانوں مےں جھا نکے کہ ہم نے قائدا عظم اور مسلمانان بر صغےر کی جا نی و ما لی قربانےوں سے کسی حد تک وفاکی ہے اور کتنی بد دےانتی اور بے اےما نی کو اپنا قومی شعار بنانے کےلئے رات دن اےک کررہے ہےں ۔ اور بد قسمتی سے قائداعظم کے نظرےے اور آثار کو مٹانے اور دھندلانے کےلئے زور و شور سے کام کر رہے ہےں ۔
آئےے! ہم جس طبقے سے بھی تعلق رکھتے ہو ں اﷲ تعالیٰ کے حضور وعد ہ کر ےں کہ ہم قائداعظم ؒ کے پاکستان کو ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر قومی و ملی امنگوں اور آدرشوں کے مطابق اسکو بنا ئےں اور سنواریں گے تاکہ اقوام عالم اور اسلامی دُنےا مےںہم ذمہ داراور پر امن ، متوازن قوم کے ذرےعے اپنی شناخت کرائےں ۔ آج کل بد قسمتی سے نظرےہ پاکستان کو اسلام کے بجائے کہےں اور جو ڑا جا رہا ہے تاکہ ہر طرف موجودہی نہےں بلکہ مستقبل کےلئے قوم مےں فکر ی گمراہی پھےلا ئی جائے ۔ لہذا ہمیں بحےثےت پاکستانی قوم اندرونی اور بےرونی اور اسلامی نظرےاتی اورجغرافےائی سرحدوں کی حفاظت کےلئے جامع حکمت عملی بنانا ہوگی۔ اسی طر ح ملکی آئےن و قانون کی بالا دستی اور جمہوری رواےت کی پا سداری اور عوام کو پائےدار اور جلد رسائی دےنے والا نظام حکمرانی جس کے ثمرات عوام کی دہلےز پر بہم پہنچا ئے جا سکےںتاکہ سب قوتوں کو ساتھ ملاکر خلو ص نےت سے شا د باد اور منزل با مراد ہو اجا سکے۔ اسی طرح قائداعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ کے فلسفہ فکر اور افکار کو ہر سطح پر قومی زند گی کے ہر شعبے مےں اُسکا حصہ بنائے اور اُسکو نافذ العمل کر ےں جس مےں تما م تعلےمی اداروں کے نصاب تعلےم کا ان افکار و فلسفہ فکر کو اپنے نصاب مےں جگہ دینی ہو گی تاکہ ہماری قومی نظرےاتی فکر کو اےک مضبوط بنےاد مےسر ہو سکے جو مستقبل کے معماران قوم کو اےک ٹھو س نہج فراہم کر سکے ۔
ہزاروں سال نر گس اپنی بے نوری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہو تا ہے چمن مےں دےدہ ور پےدا
مضمون نگار:(پاکستان سو ل سروسز کے سابق بےورو کر ےٹ ہےں )