- الإعلانات -

شٹ اپ!

زندہ قوموں کے لیے ان کا ملکی آئین کا کتابچہ کسی مقدس صحیفے سے کم نہیں ہوتا مگر ہمارے یہاں سیاستدان باہمی منافرت میں ملکی آئین کے تقدس کو یوں پائمال کرتے ہیں گویا اس کی کوئی وقعت ہی نہ ہو۔ بقیدِ حیات رہنے کی خواہش تو سبھی قوموں میں ہوتی ہے اور وہ اس کے لیے تگ و دو بھی کرتی ہیں مگر ہمارے بعض سیاستدانوں کے اعمال دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم اپنی بربادی کے لیے سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایسے سیاستدانوں کی خواہشات کو دیکھ کر اس بات پر یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ پاکستان کا قیام ایک معجزہ تھا اور اس کا آج تک قائم رہنا بھی اللہ کی نعمت کے سوا کچھ نہیں۔کون سا دن ہے جب سیاستدانوں کا ایک ٹولہ فوج سے آئین کو سبوتاژ کرنے کی پرزور درخواست نہیں کرتا۔ یہ وہ ٹولہ ہے جو عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ انہیں اقتدار میں آنے کے لیے سیڑھی چاہیے۔ ہر بار ملک میں جو مارشل لاءلگا، اس کے پیچھے ایسے ہی ایک سیاسی ٹولے کا بھی ہاتھ ہوتا تھا۔ یہی سیاسی ٹولہ فوج کے اقتدار پر قابض ہونے پر ملک میں مٹھائیاں بانٹتاآ رہا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ خود کو سیاستدان کہلوانے پر بھی مصر ہے۔ جب ان سے پوچھا جائے کہ حضور! آپ آئین کی پائمالی کی بات کیوں کرتے ہو؟ تو جواب ملتا ہے کہ ”کون سا آئین؟ اس آئین نے عوام کو دیا ہی کیا ہے؟ اس آئین نے چند خاندانوں کی نسلیں سنواری ہیں، عوام آج بھی فاقوں مر رہے ہیں۔ ہر طرف بربادی ہی بربادی ہے۔“ سننے میں ان کا یہ بھاشن نما جواب خاصا دل گداز ہے مگر اس کے جواب میں میں صرف اتنا کہتا ہوں کہ ”کیا مسلمانوں کی ریشہ دوانیوں کا الزام قرآن مجید یا اسلام پر عائد کیا جا سکتا ہے؟“اس ملک کے فتویٰ گروں سے گزارش ہے کہ یہ ایک مثال تھی اور اسے مثال تک ہی محدود رکھا جائے۔دنیا میں دہشت گردی کے اضافے کے ساتھ ساتھ اسلام سے نفرت کا گراف بھی بہت بلند ہوا ہے۔ غیرمسلم، جو اسلام کو نہیں جانتے، چند نام نہاد مسلمانوں کے کرتوتوں کو اسلام کے ساتھ نتھی کرکے اس امن و سلامتی کے مذہب کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں، جس پر ہمارا دل بہت کڑھتا ہے۔ اسی مثال کو لیتے ہوئے اگر ہمارے سیاستدان بداعمالیوں پر مصر ہیں تو کیا اس کا ذمہ دار آئین کو قرار دیا جا سکتا ہے؟ آئین اور ملکی نظام کے حصے بخیے کرتے ہوئے اگر حکمران جماعت کرپشن اور اقرباءپروری کے ریکارڈ قائم کر رہی ہے تو کیا ضروری ہے کہ اپوزیشن بھی آئین ہی کے درپے ہو جائے؟ اپوزیشن رہنماﺅں کو سمجھنا ہو گا کہ آئین اور ملکی نظام ایک الگ چیز ہے اور حکمرانوں کا کردار ایک یکسر الگ چیز۔ آئین اور ملکی نظام کسی کو کرپشن، اقرباءپروری اور ملک کو اپنے باپ کی جاگیر بنانے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس کے باوجود اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یہ سراسر اس کا جرم ہے اور یہ جرم اسی کے سر جانا چاہیے، نہ کہ آئین اور ملکی نظام ہی کو لپیٹ دینے کی باتیں شروع کر دی جائیں۔ کسی بھی زندہ قوم کے لیے آئین کی پائمالی ناقابل برداشت جرم ہوتا ہے اور وہ ملک جہاں سزائے موت کا تصورتک ختم ہو چکا ہے وہاں بھی آئین سے غداری کی سزا موت ہے اور وہ ممالک ایسے غدار کو سزا دینے سے ایک لمحے کو بھی نہیں چونکتے۔ یہ ہمارا ہی ملک ہے جہاں کھلے بندوں آئین کو سلب کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں اور قانون حرکت میں نہیں آتا۔ چار بار عملاً آئین کو بوٹوں تلے کچلا گیا مگر قانون خاموش رہا۔ حد تو یہ ہے کہ گزشتہ دنوں ٹی وی پر ایک احمق سیاستدان کو آئین کو برابھلا کہتے ہوئے بھی سناہے مگر وہاں موجود کسی شخص نے اس کی زبان نہیں روکی اور نہ ہی کوئی ملکی ادارہ اس کے خلاف حرکت میں آیا ہے۔آئین کوئی مجسم ذی روح نہیں ہے کہ خود جا کر اپنی پائمالی کرنے والوں کا گریبان پکڑ لے۔ہمیں کو اس پر عملدرآمد کرنا اور کروانا ہے۔ اگر ہم اس کے خلاف عمل کرتے ہیں تو گناہ ہمارا ہے، ناقابل معاف گناہ۔ آج اگر ہم عہد کر لیں کہ کسی کو بھی آئین کی تذلیل نہیں کرنے دیں گے تو اس ملک کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پاکستان کے آج تک جو کرپشن کے ناسور میں جکڑا ہوا ہے، عدم استحکام کا شکار ہے، یہاں جمہوریت نہیں پنپ سکی، ادارے مضبوط نہیں ہو سکے اور نظام پروان نہیں چڑھ سکا اس کی واحد وجہ آئین کی بار بار پائمالی ہی ہے، جو آج بھی جاری ہے۔ حیف صد حیف! کہ جس اپوزیشن نے حکومت کو آئین، نظام اور اداروں کی بربادی سے روکنا ہوتا ہے وہ خود حکومت سے زیادہ ان کی تباہی کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ عوام ہی کو اپنے ملکی آئین کی حفاظت میں سامنے آنا ہو گا۔ جب اپوزیشن حکومت کی کرپشن اور بیڈگورننس کے خلاف بات کرے اس کا ساتھ دیجیے، مگر جب وہ آئین کے لتے لینے شروع کرے تو اسے شٹ اپ کہنا آپ کا فرض ہے۔ یہی ایک صورت ہے کہ اس ملک کی نیا پار اتر سکتی ہے۔قرآن مجید طاقوں میں سجا کر مسلمان دنیا میں خوار ہو رہے ہیں اور ہم پاکستان آئین کو فراموش کرکے رسوائی جھولیاں بھر بھر کر سمیٹ رہے ہیں۔ ہمیں آئین و نظام اور حکمرانوں و سیاستدانوں کے اعمال میں فرق سمجھنا ہو گا۔ آئین پامال کرکے دنیا میں سرخروئی کی خواہش پاگل پن کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔