- الإعلانات -

وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس

وزیراعظم محمدنوازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس بڑی اہمیت کاحامل قرار پایا۔ اس اجلاس میں ملک میں رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کے قیام کی مدت میں مزید تین ماہ کی توسیع کافیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اس توسیع سے قبل افغانی دسمبر تک پاکستان میں رہ سکتے تھے اب مارچ تک رہ سکیں گے۔ اجلاس میں دیامر بھاشا ڈیم کیلئے اراضی اور معاوضہ کی منظوری دی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم کاکہناتھا کہ ڈیموں کی تعمیر سے نہ صرف ملک کی توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ سیلاب کے خطرات میں بھی کمی آئے گی۔ جبکہ حکومت توانائی کے مسائل حل کرنے کیلئے پرعزم ہے کئیدرمیانے اور طویل المدتی منصوبوں پرکام جاری ہے ۔ حکومت داسوڈیم کیلئے عالمی بنک سے فنانسنگ کاانتظام کررہی ہے ۔ کابینہ کے اجلاس میں پاک انڈونیشیا دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری اور بیلاروس کے ساتھ کسٹم ٹریڈ ڈیٹا کے تبادلے کیلئے بات چیت کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے ای سی سی کے چار سال میں ہونیوالے فیصلوں کی بھی منظوری دی اوراسٹیٹ بنک اور اردن کے مرکزی بنک میں ماہرین کے تبادلوں کے سمجھوتے کی منظوری سمیت نجکاری کمیٹی کے مختلف اجلاسوں کیلئے فیصلوں کی توثیق کی گئی اس کے علاوہ دوہرے ٹیکسوں کے بچاﺅ کے سارک معاہدے پردستخط کی منظوری بھی دی گئی ۔کابینہ نے الیکٹرانک جرائم کی تحقیقات کااختیار ایف آئی اے کو دے دیا۔ حکومت عوام کو مسائل سے نکالنے کیلئے کوشاں ہے۔ وفاقی کابینہ نے جن18 فیصلوں کی توثیق کی ہے وہ اس امر کی عکاس ہے کہ حکومت توانائی پر قابو پانے کیلئے عملی اقدام کررہی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین کو معاوضہ کی تقسیم میں شفافیت کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ جب ملک میں ڈیموں کی تعداد بڑھے گی تو توانائی بحران بھی کم ہوگا اور توانائی کی ضرورت پوری ہوگی اس وقت توانائی بحران نے عوام الناس کاجینا دوبھرکررکھا ہے دن رات کئی کئی گھنٹوں برقی روبند رہتی ہے او رلوڈشیڈنگ کاغیراعلانیہ سلسلہ صارفین کیلئے پریشان کن بنا ہوا ہے ۔ حکومت2018ءتک لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی نوید ایک تواتر سے ستاتی چلی آرہی ہے۔ عوام بھی وضع دار اور ثابت قدم ہے ہرمشکل اور ہرمصیبت کو جھیلنے کے عادی ہوچکے ہیں ان کی ثابت قدمی دادبیداد ہے۔ لیکن اس عاجز عوام کا اتنا بھی امتحان نہ لیاجائے کہ یہ پھٹ پڑے اور اس کی آہیں ہرسو پھیل جائیں۔ جہاں تک افغان پناہ گزینوں کو توسیع دینے کامعاملہ ہے یہ حیران کن بنتا جارہا ہے حکومت توسیع پہ توسیع کرتی جارہی ہے۔ حکومت نے جو توسیع دی ہے اس کے اندر افغان پناہ گزینوں کاانخلاءیقینی بنایاجائے پاکستان نے برسوں سے ان کی مہمان نوازی کی ہے جو لائق ستائش ہے لیکن افغانیوں نے پاکستان کیلئے کئی مسائل پیدا کئے ہیں اوربعض تو دہشتگردی کی کارروائیوں میں بھی ملوث پائے گئے اور انہوں نے غیرقانونی شناختی کارڈ بنواکر خود کو پاکستانی ظاہر کیا ہوا ہے۔وفاقی کابینہ کافیصلہ اپنی جگہ بے کم وکاست سہی لیکن اس توسیعی مدت کو مزید بڑھانے کی حماقت نہ کی جائے ۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی زبوں حالی کاشکار چلی آرہی تھی اوپر سے افغانیوں کے آجانے سے مزید بوجھ پاکستان نے برداشت کیا اب افغان حکومت او رعالمی ادارے افغان پناہ گزینوں کی ہرممکن مدد کریں اور ان کو واپس افغانستان ایڈجسٹ کیاجائے۔سائبرکرائمز کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کرنے کافیصلہ خوش آئند ہے اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ وفاقی حکومت نے جو فیصلے کئے ہیں ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی
حکومت نے پنجاب میں دہشت گرد کالعدم تنظیموں کیخلاف مخصوص علاقوں میں آپریشن کیلئے رینجرز کو طلب کرلیا ہے ۔صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ پنجاب میں دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف برسرپیکار انسداد دہشتگردی کی فورس کی مدد کیلئے رینجرز کو تعینات کیا جائے جگہ اور وقت کاتعین اپیکس کمیٹی کرے گی ۔یہ ایک مستحسن اقدام ہے اور وقت کی ضرورت بھی کیونکہ پنجاب میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات عوام الناس میں عدم تحفظ کااحساس پیدا کرنے کاباعث قرارپارہے ہیں نیشنل ایکشن پلان پرکماحقہ عملدرآمد کیاجاتا تو ملک بھر سے کب کا دہشت گردی اورر ان کے سہولت کاروں کاخاتمہ ہوچکا ہوتا لیکن اس میں تساہل کامظاہرہ کیا گیا ۔ پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے۔ دہشت گردی نے ملک میں خوف وہراس پھیلا رکھا ہے اور جب ملک میں لوگوں کی جان ومال محفوظ نہ رہے اور وہ خود کو غیرمحفوظ گردانیں لگیں تو یہ حکومتی بے اعتنائی قرار پاتی ہے حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائے اور ملک میں امن قائم کرے دہشت گردوں نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے ۔ آپریشن ضرب عضب دہشت گردی پر قابو پانے کاذریعہ ہے اب ملک بھر میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی کے ناسورکا خاتمہ ہوسکے۔ پنجاب بھر میں رینجرز کو آپریشن کرنے کااختیار دینے کی ضرورت ہے۔
وادی تیراہ میں8 دہشت گردوں کی ہلاکت
خیبرایجنسی کی وادی تیراہ میں پاک فوج کا دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔ گزشتہ روز جیٹ طیاروں نے پاک افغان سرحد کے قریبی علاقوں میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں 9 دہشت گرد ہلاک اور ان کے چار ٹھکانے تباہ ہوگئے پاک فوج دہشت گردوں کیخلاف دن رات برسر پیکار ہے اور اس کی قربانیوں نے اب تک سینکڑوں دہشت گردوں کو مارا جاچکا ہے اور ان کے نیٹ ورک اور ٹھکانے بھی تباہ کئے جاچکے ہیں کئی علاقے ان سے واگزار کروالئے گئے ہیں آپریشن ضرب عضب اپنے اہداف پورے کرتے دکھائی دے رہاہے ۔ آپریشن کی کامیابی سے ہی ملک کو امن کاگہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے ملک بھر میں آپریشن کی ضرورت ہے اب تک کی کارروائیوں کے نتائج قابل ستائش ہیں عسکری قیادت دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کاتہیہ کئے ہوئے ہے جس پر قوم کو فخر ہے اور یہ دہشت گردی کیخلاف پاک فوج کے کردار کو کبھی بھی فراموش نہیں کرپائے گی دہشت گرد ملک وقوم کے دشمن ہیں ان کو منطقی انجام تک پہنچا کر ہی ملک میں امن قائم کیاجاسکتا ہے ۔وادی تیراہ میں فورسز کی کامیاب کارروائی نے دہشت گردوں کے حوصلے پست کردیئے ہیں اس کا تسلسل جاری رہناچاہیے