- الإعلانات -

ملکی مسائل پر یکدم حملہ آور ہونے کا بہترین وقت

ہماری نظروں سے یہ حقیقت کیسے اوجھل رہ سکتی ہے بحیثیت ِ پاکستانی قوم ہم کیسے اور کیونکر دھوکے میں آئیں پاکستان کی مخالفت میںاپنی حدوں کی نچلی سطحوں کو چھوجانے والے بعض ہمارے ملکی اور بعض غیرملکی، خصوصاً مغربی ‘ یہودی اور بھارتی میڈیا کے یہ سرپرست، آپریشن ضرب ِ عضب کی تاریخ ساز اور ناقابل ِ یقین شاندار کامیابیوں کو نام نہاد ورلڈ آرڈر کی دھول کی گرد میں جتنا چاہئیں چھپائیں لیکن ایسے ہر گمراہ کن مواقعوں پر ناکامی اُن کا مقدر بنے گی ہمارا یہ کہنا کل بھی تھا آج بھی ہم یہی کہہ رہے ہیں تاریخ اور وقت یہ ثابت کردئے گا کہ پاکستان نے ہمیشہ علاقہ میں اسٹرٹیجک تعلقات کے بیانئیے کو زمینی حقائق کے آئینے میں دیکھا اور جنوبی ایشیا میں حقیقی امن کے لئے اپنی اسٹرٹیجک ذمہ داری کو بڑی سچائی کے ساتھ بڑی نیک نیتی سے ادا کیا ساتھ ہی پاکستانی قوم کو اپنی بہادر ‘جاں نثار اور سرفروش افواج کے ادا کردہ کارناموں پر بڑا پختہ یقین رہا، بھارتی اور صہیونیتی سامراج کے اُس خفیہ گٹھ جوڑ کا کچھا چھٹا پاکستانی سیکورٹی اداروں نے وقت سے بہت پہلے کھول کر رکھ دیا ،جبکہ اُن کے مذموم عزائم کے سازشی غباروں میں سے رہی سہی ہوا پاکستانی افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پے درپے اپنے اہم غیر ملکی دوروں میں عالمی زعماو ¿ں سے اپنی موثر اور بامقصد ملاقاتو ں میں نکالنے کا اپنی ملکی فرض بڑی خوبی سے ادا کیا ہے، تجز یہ کاروں ‘ تبصرہ نگاروں اور سیاسی و سفارتی پیش بینی کرنے والوں کے تجزئیے ‘ تبصرے اُس وقت دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جب کبھی اچانک سے پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف ایسے متذکرہ بالا ’تقدیر پرست ‘ جلد باز پاکستانی سیاسی وسفارتی حلقوں کو حیران وپریشان پاو ¿ں کے نیچے آئے کنکروں کی مانند اُن پر یہ ثابت کردیتے ہیں کہ وہ یقینا ستاروں کو دیکھ ضرور سکتے ہیں، مگر ستاروں کا وہ خاک علم نہیں رکھتے، یوں اُن کی یہ خود ساختہ پیش بینیاں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں، اگر کوئی ہم سے آج یہ سوال کرئے کہ پاکستان کو موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں کن مشکلات کا سامنا ہے ؟ تو یہ بات یقینی طور سے کہہ دی جائے گی ’پاکستان کے اندر چھپے ہوئے دہشت گرد اور اُن کے سہولت کاروں کا صفایا کیئے بغیر پاکستان اپنے گنجلک مسائل کا 70% مسئلہ حل نہیں کرسکتا ،یعنی ملکی امن وامان کی ترجیح کی بات ہوئی کسی حد تک یہ صحیح، ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا جائے نا کہ ’جب تک پاکستان کے ساتھ ملنے والی مغربی سرحدوں پر سختی کی نگرانی کا کوئی موثر اور ٹھوس انتظام بروئے ِ کار نہیں لایا جا ئے گا !چونکہ یہ واقعی بات دنیا بھر کے غیر متعصب حلقے گزشتہ تین برسوں سے عالمی فورموں پر مختلف انداز میں کہہ چکے ہیں جس کی بازگشت اب تک بھی سنی جارہی ہے اگر کسی نے تعصب میں اپنے کان بند کرلیئے ہوں تو اِس کا علاج پاکستان کے پاس کیسے ہوسکتا ہے ؟ امریکا کو پہلی فرصت میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی تاریخ ساز کامیابیوں کو تسلیم کرنا ہو گا بھارتی اور یہودی پروپیگنڈے کے اثرات سے نکل کر دہشت گردی کا سرکچلنے کے لئے اُن ناگزیر تقاضوں کے حقائق پر غور وفکر کرنا بہت ضروری ہے، جو بھارتی اور یہودی پروپیگنڈے نے پاکستان اور مسلم دنیا کو اپنے نشانے پر لے کر مذموم مہم چلا ئی ہوئی ہے، امریکا کے لئے پاکستانی مسلح افواج کے سربراہ نے یقینا ایک گائیڈ لائن ضروری مہیا کردی ہمارا خیال ہے بلکہ دنیا بھر کے باشعور حلقے بھی ایسا ہی سوچتے ہیں کہ9/11 کے بعد بعض امریکی فیصلوں کے نتیجے میں دہشت گردی کو ہوا ملی تقویت ملی چونکہ امریکی فیصلے یکطرفہ تھے، متعصبانہ فیصلے تھے، بعض مسلمان ممالک بالخصوص پاکستان کے گرد گھیرا ڈالنے کی بڑی منفی اور ظالمانہ طرز کی انسانیت کش پالیسیاں اپنائی گئیں، تقریباً کتنے برس ہوگئے’ امریکی ڈومور ‘ کا مطالبہ ہم آج بھی سن رہے ہیں، جون2014 سے قبل جب شمالی وزیر ستان تا وادی ¾ ِ شوال تک جواں مردی اور والہانہ جاں نثاری سے پاکستان کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کردینے والا آپریشن شروع نہیں ہوا تھا ذرا یاد ہے کسی کو ؟‘ خوف ووحشت ناکی کا کیا عالم تھا ملک بھر میں؟‘بہت افسوس ہوتا ہے بڑا دل دکھتا ہے بڑی ندامت ہوتی ہے جب ہم کہیں یہ بات سن لیتے ہیں کہ پاکستان کے ’سیٹلیڈ ایریا‘ میں فاٹا سے پَرے افغان بارڈر کے علاقے تک پاکستانی فوج سے بنرد آزما آئین شکن دہشت گردوں کی سرپرستی میں بعض ایسی سیاسی شخصیات ملوث ہیں، جو کھلے عام میڈیا میں تو دہشت گردی کی مذمت کرتی ہیں مگر اندر خانے اُن کے دہشت گردوں سے رابطے ہیں تعلقات ہیں یہ معززین اُن کے لئے سہولت کار ی کے امور انجام دیتے ہیںایسے نازک بلکہ انتہا ئی قسم کی نازک ترین حساس صورتحال میں دہشت گردوں پر حقیقی آہنی شکنجہ کسنے کے حوالے سے ایک ’انتظامی خلائ‘ پیدا ہوگیا تھا جسے کسی نہ کسی ’وطن پرستانہ جذبے کی طاقت ‘سے پُر کرنا تھا سُو یہ اہم انتہائی اہم آئینی فرض جنرل راحیل شریف نے اپنے عہدہ ِ منصب کے دوران بخوبی پورا کیا ہے جسے دنیا نے تسلیم کیا پاکستانی قوم نے اِن اقدامات پر اپنے تاریخ ساز سپہ سالار کو خراج ِ تحسین پیش کیا کاش ملکی سیاسی قیادت بشمول ملکی اپوزیشن بھی بدگمانی کا شکار ہوئے بغیر اُن کے ساتھ ہم قدم ہوتی ؟ چند دن پیشتر ملک بھر میں 6 ستمبر کو ’یوم دفاع ِ پاکستان ‘ کی تقریب جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی تھی اپنی نوعیت کی اِس اہم تقریب میں جنرل راحیل شریف نے کلیدی خطاب کیا اُس پر ملک میں مختلف انداز سے بحث ہوئی ہورہی ہے کہ جنرل راحیل شریف نے ’ سیاسی خطاب‘ کیوں کیا؟ کوئی یہ نہیں سوچ رہا کہ جوکچھ جنرل راحیل شریف نے اپنے خطاب میں کہا اُس میں کیا ’غلط ‘ تھا بقول عالمی مبصرین کے ‘ جنہیں نہ کشمیر سے کوئی تعلق ہے نہ پاکستان کی سلامتی سے ‘ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ جنرل راحیل کے خطاب نے ملکی خارجہ، داخلہ اور سکیورٹی پالیسیاں سب واضح کر دیں کہ’ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور سی پیک اس وقت کی ملک کی اہم ترین ضرورت‘ جس کے لیے کسی دشمن کی ہینکی پینکی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی ‘ کسی کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا یہ کہنا اچھا لگے یا بُرا‘ مگر یہ تو مان لیں کہ اُن کی پیشہ ورانہ بصیرت میں اِتنی ہمت و جراّت اور دانائی پائی جاتی ہے وہ ملکی مسائل پر یکدم حملہ آور ہونے کی جراّت وصلاحیت رکھتے ہیں نیک نیت مرد ِ مومن ‘ جس کا اپنا دامن دنیاوی لالچ و خواہشات سے پاک ہووہ ہی تو مضبوط ایمانی قوت ِ ارادی کے محرکات کا مجسم پیکر ہو تا ہے اُنہوں نے راولپنڈی جی ایچ کیو میں منعقد ہونے والی یوم ِ دفاع ِ پاکستان کی تقریب سے اپنے تاریخی کلیدی خطاب میں پاکستان کے دشمنوں کو دوٹوک تنبیہ کی یقینا ملکی ترقی وخوشحالی کی راہ میں بیرونی رکاوٹ پیدا کرنے والے اب خوب سمجھ چکے ہونگے اور اپنے طور پر سمجھ بھی چکے ہونگے کہ بھارتی خواہشات ہوں یا مغربی اور امریکی تمنائیں کبھی بھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتیںملکی سیاسی قیادت کو بھی ملکی مسائل سے خوف زدہ ہونے کی بجائے صرف اور صرف ملک کی خاطر کمر ٹھوک کر اب میدان میں آنا ہی ہوگا ۔