- الإعلانات -

یہ بھارتی بربریت ۔ ۔کب تلک ؟

غیر جانبدار مبصرین نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ جب تک دہلی سرکار کے ظالم حکمران مقبوضہ کشمیر میں ظلم و سفاکی کا سلسلہ بند نہیں کرتے تب تلک دنیا میں پائیدار امن کا قیام مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے ۔ اسی حوالے سے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ۔ انسان دوست حلقوں نے کہا ہے کہ دہلی کے سفاک حکمران جس ظالمانہ روش کو چھیڑے ہوئے ہیں ، اس اکا انجام آنے والے دنوں میں بھارت کے لئے انتہائی سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ ظلم و جبر کی بہر حال کوئی نہ کوئی آخری حد ضرور ہوتی ہے ۔ اسی پس منظر میں حریت رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت وادی میں ظلم روک دے امن خود ہی ہوجائے گا کیونکہ بدامنی کی ذمہ دار بھارت سرکار ہی ہے ۔ ایک بڑی ریلی سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ ہم اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد چاہتے ہیں ، بھارت وادی میں ظلم روک دے امن خود ہی ہوجائے گا ۔ امن لانے کی بات کرنے والی بھارتی سرکار ہی بے امنی کی ذمے دار ہے۔بھارتی وزیرداخلہ بیس روز کے اندر دو بار کشمیرآئے لیکن انھوں نے مسئلہ کشمیرکے حل کی کوئی با ت نہ کی ۔ سید گیلانی کا کہنا تھا کہ ہم کبھی مذاکرات کے مخالف نہیں رہے،نہ ہوں گے البتہ کسی بھی بے معنی کوششوں کاحصہ نہیں بن سکتے جن سے کشمیر کا مسئلہ منصفانہ طور پر حل نہ ہو ۔دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں۔یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں ایک ہی ملک ہے جو کہ خطے میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔جی – 20 فورم پر بات کرتے ہوئے پاکستان کی جانب واضح اشارہ کرتے ہوئے نریندر مودی نے انتہائی اشتعال انگیز لہجے میں کہا تھا کہ ایک ہی ملک ہے جو ہمارے خطے میں دہشت گردی کے عناصر پھیلا رہا ہے ۔ ان کی اس لغو بیانی پر پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے مدلل لہجے میں کہا کہ انڈیا ہی وہ ملک ہے جو خطے میں دہشت گردی کا ذمہ دار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن یادو کے اقبالی بیان سے واضح ہوتا ہے کہ کون سا ملک دہشت گردی پھیلا رہا ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ کہ مقبوضہ کشمیر میں 62 دنوں سے مسلسل بھارتی فوجیوں کی جارحیت پاکستان کے لیے انتہائی تشویش کی بات ہے۔انھوں نے بتایا کہ چھرّوں والے کارتوسوں کے استعمال سے 90 بے گناہ افراد ہلاک اور 700 زخمی ہوئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ میاں نواز شریف نے سبھی پارٹیوں کے مندوبین کا ایک وفد بیرونِ ملک بھیجا ہے تاکہ بھارت کی کشمیر میں جارحیت اور مظالم کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جا سکے۔انڈیا کے زیرِ اثر ممالک کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پارلیمان کے اراکین کی مدد سے پیغام پہنچانا انتہائی موثر ہوگا۔انھوں نے پاکستان کا موقف دہرایا کہ شملہ معاہدے کی وجہ سے اقوام متحدہ کی قراردادیں منسوخ نہیں ہو جاتیں اور بہر طور بھارت کو یہ مسئلہ حل کرنا ہو گا ۔ مبصرین نے اس پاکستانی موقف کو انتہائی بر وقت اور وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا ہے۔