- الإعلانات -

امریکی ڈومور،ترکی کا یورپی بلاک کی طرف جھکاو اور پاکستان

اگلے روزامریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے پاکستان پر کسی قسم کی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز کو تو مسترد کردیاگیالیکن ساتھ ڈومور کی گردان ضرور الاپی۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونر نے نیوز بریفنگ کے دوران پاکستان پر پابندیوں سے متعلق صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ”نہیں“ اسکا جواب یہ ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور اس حوالے سے ہم نے اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے کہ اسلام آباد کو اپنی سرزمین پر چھپے ہوئے تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے“۔مارک ٹونر کا مزید کہنا تھا کہ کافی وقت سے یہ ہمارا واضح موقف ہے، ہمیں اس میں کچھ بہتری نظر آئی ہے، لیکن مزید بہتری بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ہم پاکستان کی حکومت سے مذاکرات میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں پر زور دیتے رہیں گے، ان دہشت گردوں کے خلاف بھی جو پڑوسی ممالک کو نشانہ بناتے ہیں“۔امریکہ بہادر کی طرف سے یہ الزام تو لگایا گیا ہے کہ پاکستان سے دہشت گرد دوسرے ممالک میں دہشت گردی کرتے ہیں لیکن کبھی انہیں یہ توفیق نہیں ہوئی کہ پاکستان کے پڑوسی خصوصاً افغانستان بھارت کےساتھ مل کر کیا کھلواڑ کررہے ہیں۔کیا افغانستان کی سر زمین سے روزانہ پاکستان کو گلِ داودی بھیجے جاتے ہیں۔کیا اوبامہ انتظامیہ نے کبھی اشرف غنی حکومت سے پوچھا کہ اس کی سرزمین پر ملا فضل اللہ کس کی چھتری تلے آزادانہ گھومتا پھرتا ہے۔کیا کبھی مسٹرغنی سے پوچھا گیا ہے کہ وہ بارڈر منیجمنٹ کےلئے پاکستان کےساتھ کیوں تعاون نہیں کررہے۔کیا سرحدوں کی نگرانی صرف پاکستان کی ذمہ داری ہے۔کیا اتنا کہہ دینے سے مسئلہ حل ہو جائے گا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اور انہیں جڑ سے اکھاڑ دینا پاکستان اور افغانستان کے مفاد میں ہے اور امریکا خطے میں امن کا خواہاں ہے۔نہیں ایسا نہیں ہے اگریہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے تو پھر دونوں کو ملکر آگے بڑھنا ہوگا۔پاکستان اپنے حصے کا کام کررہا ہے جبکہ اس پار صرف ایسے حکم جاری کیے جاتے ہیں جیسے پاکستان اس کی کوئی طفیلی ریاست ہے۔ہاں افغانستان بھارت کی کٹھ پتلی ضرور بن چکا ہے۔امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا مذکورہ بیان 8ستمبر کو ہونے والے اہم اجلاس سے قبل سامنے آیا۔ کانگریس کے اس اجلاس کے دوران پاکستان کے حوالے سے کچھ مصالحتی رویہ دیکھنے میں آیا کیونکہ اجلاس میں کئی ارکان نے بھارت کی بے جا حمایت پر اعتراضات اٹھا دیے تھے جبکہ اس سے قبل جون میں ہونے والے اجلاس میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے پر پاکستان کی فوجی امداد میں 30 کروڑ ڈالر کی کمی کردی گئی تھی۔ 8 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں امریکی سینیٹرز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امداد میں کمی سے پاکستان کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلیوں پر مجبور نہیں کیا جاسکتا،ایک تھنک ٹینک کے چیئرمین روبرٹ ایل گرینیئر نے نشاندہی کی کہ پاکستان نے 1990 میں شمالی کوریا اور ایران سے ا ±س وقت رابطہ کیا، جب امریکا نے اس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنا جوہری پروگرام ہندوستان کی جانب سے ممکنہ لاحق خطرات کی وجہ سے جاری رکھنا چاہتا ہے۔وہ روایتی ہتھیاروں سے ہندوستان کا مقابلہ نہیں کرسکتا لہٰذا انھوں نے یہ راستہ اختیار کیا۔گرینیئر نے امریکا پر زور دیا کہ وہ بہت زیادہ محتاط رہے اور حقانی نیٹ ورک پر اختلافات کے باوجود پاکستان کےساتھ تعلقات برقرار رکھے۔انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ہم ان سے ایک اچھوت کی طرح سے سلوک کریں گے تو وہ بھی ایک اچھوت کی طرح ہی برتاو ¿ کریں گے۔گرینیئر نے اوبامہ حکومت کو درست مشورہ دیا ہے کہ وہ بے جا دباو ¿کی پالیسی سے گریز کرے۔انہوں نے نوے کی دہائی میں اقتصادی پابندی کے حربے کی درست مثال دی کہ کس طرح پاکستان نے متبادل آپشن استعمال کر کے اپنا دفاع مضبوط کر لیا تھا۔
کوئی بھی ملک اپنی سالمیت پر سمجھوتا نہیں کرسکتا،پھرایسی صورت میں جب بھارت جیسا جارح ملک اسکے پڑوس میں روایتی اور غیر روایتی اسلحے کے انبار لگا رہا ہو۔امریکی پالیسی سازوں کو اوبامہ انتظامیہ کی گرفت کرنی چاہیے کہ وہ کس ڈگر پر چل نکلی ہے۔اس طرح وہ اپنے اتحادی تیزی کے ساتھ کھو سکتا ہے۔ابھی حالیہ دنوں میں ترکی کے ساتھ ڈبل گیم کھیلی تو ترکی نے تیزی کے ساتھ اپنا جھکاو ¿ یورپی بلاک کی طرف دکھانا شروع کردیا ۔آج ترکی اور روس بہت کم وقت میں ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں۔ترکی نے امریکہ پر الزام عائد کیا جو درست بھی ہے کہ اس نے گولن کے ذریعے اسکی خودمختاری کو چیلنج کیا جو ناقابل برداشت ہے۔ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوت نے استنبول اور واشنگٹن کے فاصلے بڑھا دیئے اور امریکہ کا برسوں سے نیٹواتحادی اس سے دور جا کھڑا ہوا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ترکی نے بروقت اور درست فیصلہ کیا۔اس سے یقینا امریکہ کو ایک دھچکا لگا ہے اور اس نے مشرق وسطیٰ میں ایک اہم اتحادی کھو دیا ہے۔ترکی کی نئی پالیسی میں پاکستان کےلئے بھی ایک پیغام ہے کہ وہ کب تک امریکی ڈومور کی منافقانہ پالیسی کا شکار ہوتا رہے گا۔پاکستان تو واشنگٹن کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں رہا ہے مگر وہاں کاطرز عمل کبھی بھی مناسب نہیں رہا۔بوقتِ ضرورت پاکستان کو استعمال کیا اور مطلب نکل جانے کے بعد چلتا بنا، جس سے پاکستان کےلئے شدید مشکلات پیدا ہوئیں۔ایک بار پھر امریکی طرز عمل ماضی سے مختلف نہیں ہے۔ایک ایسے ماحول میں جب پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کےلئے ایک بڑا آپریشن شروع کررکھا ہے اور ہر طرح کے گروہوں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ امریکہ کا پاکستانی فوجی امداد میں بھاری کٹوتی کرنا اور اس پر یہ بھی کہنا کہ وہ مطمئن نہیںمزید کارروائی کی جائے سمجھ سے بالا تر ہے۔یہ رویہ جنوبی ایشیا میں ایک با اعتماد اتحادی کے لیے یورپی بلاک جس میں روس چین ابھرتی ہوئی طاقتیں ہیں میں جانے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ویسے بھی امریکہ اس خطے میں تیزی کےساتھ ساکھ کھورہا ہے جبکہ چین اور روس اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ترکی کا مختصر عرصہ میں روس کے ساتھ جا کھڑا ہونا خطے کے دیگر ممالک کے لیے ترغیب بن سکتا ہے۔پاکستان کے ساتھ امریکی طرزعمل ناقابل برداشت ہوتا جاتا رہا ہے۔قرائن بتا رہے ہیں کہ وہ خطے میں اپنا ایک اتحادی کھو سکتا ہے۔ اگرچہ امریکہ اور بھارت بڑی تیزی کےساتھ قریب آرہے ہیں لیکن امریکی پالیسی سازوں کو دیکھنا ہو گا بھارت اس کا قابل اعتبار اتحادی کیسے ہوسکتا کہ وہ برکس (BRICS) کا ایکٹو ممبر بھی ہے۔برکس وہ اقتصادی بلاک ہے جو روس اور چین کی طرف سے امریکی اجارہ داری کے توڑ کے لیے بنایا گیا ہے۔ امریکہ ڈبل گیم کا ماہر ہے نجانے اسے بھارتی ڈبل گیم کیوں سمجھ نہیں آرہی۔امریکی گیم اسی ڈگر پر چلتی رہی تو پھر آنے والے کچھ عرصہ میں خطے میں امریکہ کا کردار نظر نہیں آتا۔