- الإعلانات -

گیارہ ستمبر اور میڈیا

سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے کہ ایک قومی اخبار نے گیارہ ستمبر کوبابائے قوم کا یوم پیدائش قرار دے دیا ۔ اب میرا دکھ یہ ہے کہ میڈیا نے صرف بابائے قوم کے یوم وفات کو ان کا یوم پیدائش قرار دینے کی غلطی نہیں کی بلکہ اس نے فہم قائد کے حوالے سے بھی ایسا ہی طوفان اٹھا رکھا ہے۔بابائے قوم کی یوم وفات ہو یا یوم پیدائس ان کی فکر کے حوالے سے ہر دو ایام پر احباب مضامین باندھتے ہیں اور موضوع سخن ہوتا ہے گیارہ اگست کا خطاب۔
 اک شور مچتاہے: دیکھیے صاحب ! قائد اعظم تو سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔۔۔۔شور سے مجھے اقبال یاد آ گئے ۔روایت ہے جب آ غا حشر کاشمیری لاہور میں پہلی دفعہ آئے تو یہاں کی بزم ادب نے استقبالیہ مجلس منعقد کی۔وقت مقررہ پر حاضرین نے شور مچانا شروع کر دیا ” آغا حشر کو بلاﺅ “ ۔اقبال بھی اس محفل میں موجود تھے۔اٹھے اور فی البدیہہ یہ شعر پڑھ دیا:
” شور ایسا ہے قصابوں کی ہو جیسے بارات
آ ئیے لاہور کی یہ بزم ما تم دیکھیے“
خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم، میں یہ دعوت تو نہیں دے سکتا کہ آئیے لاہور کی یہ بزم ماتم دیکھیے لیکن شور ایسا ہی ہے قصابوں کی ہو جیسے بارات۔” گیارہ اگست کی تقریر ، سیکولرزم سیکولرزم، ہائے سیکولرزم وائے سیکولرزم “ ۔تو جناب سوال یہ ہے کہ گیارہ اگست کی تقریر میں سیکولرزم کہاں سے آ گیا؟ ذرا سمجھا دیجیے، غالب کے الفاظ مستعار لوں تو ”حضرت ناصح گر آئیں،دیدہ و دل فرش راہ “
یہ بنیادی بات گذشتہ کالموں میں بیان کی جا چکی ہے کہ ریاست کی نظری شناخت کا تعین اس بات سے نہیں ہو گا کہ قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے۔علم کی دنیا میں یہ دلیل اجنبی ہے۔پاکستان کی فکری شناخت کے تعین کی دو صورتیں ہیں۔ اول مذہبی بیانیہ، اس میں حتمی فیصلہ قرآن و سنت کا ہے کسی اور شخصیت کا جتنا بھی احترام ہو اس کی رائے کو دینی احکامات پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔دوم: سیکولر بیانیہ ،اس میںصرف عوام الناس فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے کس شناخت کے ساتھ زندگی گزارنا ہے ۔اس میں پارلیمان اگر اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیتی ہے تو پھر کوئی شخصی رائے اسے سیکولر نہیں بنا سکتی۔پاکستان کی فکری شناخت کے باب میں حجت بنائے بغیر البتہ قائد کی فکر کا مطالعہ ہونا چاہیے کہ وہ کس رجحان کے آدمی تھے۔
اب آئیے گیارہ اگست کی تقریر کی جانب۔دو سوال بہت اہم ہیں۔اول، کیا اس تقریر سے اس تاویل کی کوئی گنجائش نکلتی ہے کہ قائد اعظم سیکولر پاکستان چاہتے تھے؟۔دوم،کیا قائد شناسی کے باب میں ہم مجبور ہیں کہ صرف گیارہ اگست کی تقریر کو دیکھیں ؟کیا یہ قائد اعظم کا واحد دستیاب خطاب ہے اور ان کی فکر سے آ گہی اور ریاست کی نظریاتی شناخت کے تعین کا واحد ذریعہ ہے؟
پہلے سوال کے جواب میں ہم گیارہ اگست کو دستور ساز اسمبلی سے قائد اعظم کے خطاب کے متعلقہ اقتباسات دیکھتے ہیں۔قائد نے فرمایا: ” آپ آزاد ہیں۔آپ اس معاملے میں آزاد ہیں کہ ریاست پاکستان میں آپ مندر مسجد یا کسی بھی عبادت گاہ میں جائیں۔ریاست کے معاملات سے اس بات کا کوئی تعلق نہیں کہ آپ کس مذہب ،ذات یا نسل سے تعلق رکھتے ہیں “۔
” آپ دیکھیں گے کہ عنقریب یہاں نہ ہندو ہندو رہیں گے اور نہ مسلمان مسلمان۔دین کے اعتبار سے نہیں ،اس لیے کہ وہ ہر شخص کا انفرادی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی مفہوم میں، ریاست کے شہریوں کی حیثیت سے “
یہ اہم ترین دو اقتباسات ہیں جن کی بنیاد پر سیکولرزم کا مقدمہ کھڑا کیا جاتا ہے۔ان اقتباسات میں سے سیکولرزم برآمد کرنے والے حضرات کا یا تو فہم اسلام ناقص ہے یا وہ فکری دیانت سے کام نہیں لیتے۔ان حضرات کے نزدیک کیا اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ ہندوﺅں کو اپنے مندروں میں جانے کی اجازت نہ دی جائے؟ اسلام کب یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اسلامی ریاست میں موجود غیر مسلموں کو رسوا کر دیا جائے ؟انہیں مندروں اور گرجوں میں جانے سے روک دیا جائے اور شعبہ ہائے زندگی کے دروازے ان پر بند کر دیے جائیں؟ہم جانتے ہیں کہ اسلامی ریاست میں اقلیتوں کا تعین دو طرح سے ہوتا ہے ۔ایک وہ غیر مسلم جو جنگ کے بعد مفتوح کی حیثیت سے ریاست کے شہری بنے ہوں۔ انہیں ذمی کہا جاتا ہے۔دوسرے وہ غیر مسلم جو کسی معاہدے کے نتیجے میں ریاست کے شہری بنے ہوں۔انہیں معاہد کہتے ہیں۔انہیں مسلم شہریوں کے برابر حقوق حاصل ہوتے ہیں۔پاکستان کے غیر مسلم ذمی نہیں ۔ان کی حیثیت معاہد کی ہے۔انہیں اسلام وہ تمام حق دیتا ہے جن کا ذکر قائد اعظم نے اپنی تقریر میں کیا۔اس بات کو میثاق مدینہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔میثاق مدینہ وہ معاہدہ تھا جو رسالت مآب ﷺ نے مدینہ کی ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے یہودی قبائل کے ساتھ کیا۔اس معاہدے میں لکھا گیا کہ تمام تنازعات میں فیصلہ کن حیثیت اللہ اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہو گی۔اور بنی عوف کے یہود سیاسی حیثیت میں مسلمانوں کے ساتھ ایک امت تسلیم کیے جائیں گے۔رہا دین کا معاملہ تو یہودی اپنے دین پر رہیں گے اور مسلمان اور ان کے موالی اپنے دین پر۔میثاق مدینہ کے ان نکات کی روشنی میں اب قائد اعظم کے گیارہ اگست کے خطاب کو دیکھیے۔میثاق مدینہ نے بنی عوف کے یہودیوں کو سیاسی اعتبار سے امت تسلیم کیا اور قائد اعظم کہہ رہے ہیں کہ سیاسی حیثیت سے نہ ہندو ہندو رہیں گے نہ مسلمان مسلمان۔میثاق مدینہ کہہ رہا ہے کہ یہودی اپنے دین پر رہیں گے اور مسلمان اپنے دین پر اور گیارہ اگست کی تقریر کہہ رہی ہے کہ دین کے اعتبار سے نہیں کہ وہ ہر شخص کا انفرادی عقیدہ ہے۔ چنانچہ ہیکٹر بولیتھو نے ” جناح۔دی کری ایٹر آف پاکستان “ میںگیارہ اگست کی تقریرپر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا : ”الفاظ جناح کے تھے۔خیالات اور عقائد رسول اللہ ﷺ سے لیے گئے تھے “۔ہا ئیڈل برگ یونیورسٹی سے فلسفے میں نام کمانے والے کانسٹنٹ ورجل جیورجیولکھتے ہیں: ” ہمیں ماننا پڑے گا کہ محمد ﷺ نے اس قانون اساسی میں جو تمام مذاہب کو آزادی دی ہے وہ قرآن سے الہامی طور پر ماخوذ ہے۔۔۔سابق ادیان کے بانیوں میں سے کوئی بھی محمد ﷺ کی نسبت رواداری اور مدارات کاقائل نہیں گذرا۔آپ کی یہ اعلی کوشش تھی کہ دوسرے مذاہب کے لوگ مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ پوری آزادی کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔مزید اطمینان ان کو دلایا گیا کہ کوئی ان کے مزاحم نہ ہو گا“۔ میثاق مدینہ میں جو اصول طے کر دیے گئے تھے قائد اعظم کی تقریر انہی اصولوں کا ابلاغ تھی۔وہ جانتے تھے کہ ایک ایسی ریاست وجود میں آ رہی ہے جسے وہ اسلام کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے ہیں اس لیے انہوں نے طے کر دیا کہ غیر مسلموں کے ساتھ اسی حسن سلوک سے معاملہ کیا جائے گا جو میثاق مدینہ میں کیا گیا۔اب جنہیں اس تقریر میں سیکولرزم نظر آتا ہے وہ اپنے فہم اسلام کے بارے میں متفکر ہوں۔
اب آتے ہیں دوسرے نکتے کی طرف ۔کیا قائد شناسی کے باب میں واحد ذریعہ گیارہ اگست کی تقریر ہے؟کیا یہ قائد اعظم کا واحد دستیاب خطاب ہے اور ان کی فکر سے آ گہی اور ریاست کی نظریاتی شناخت کے تعین کا واحد ذریعہ ہے؟اس کا جواب نفی میں ہے۔قائد کی ڈھیروں تقاریر موجود ہیں جن میں انہوں نے واضح طور پر اسلام کی بات کی ہے۔تاہم سیکولر نفسیات کی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف ان تقاریر سے چند حوالے پیش خدمت ہیں جو گیارہ اگست کے بعد کی گئیں تا کہ سیکولر احباب یہ نہ کہیں کہ گیارہ اگست کے خطاب میں قائد اعظم نے اپنی ابتدائی رائے سے رجوع کر لیا تھا۔گیارہ اگست کی تقریر کے چھ ماہ بعد قائد اعظم نے فروری 1948میں سبی دربار سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ” یہ میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات ان سنہری اصولوں پر عمل کرنے میں ہے جو ہمیں ہمارے عظیم قانون ساز پیغمبر اسلام نے دیے۔آئیے ہم اپنی جمہوریت کی بنیادیں صحیح اسلامی تصورات اور اصولوں پر رکھیں“ ۔تذکیر کے طور پر عرض کروں کہ قائد کے الفاظ تھےGolden rules set for us by our great law giver. the prophet of Islam. ۔ان الفاظ میں عشق رسول ﷺ ±کاجو والہانہ پن موجود ہے ذرا اس پر غور فرمائیے۔کیا یہ سیکولرزم ہے؟
قائد کی زندگی کی آخری تقریب وہ تھی جب وہ یکم جولائی 1948کوسٹیٹ بنک آف پاکستان کے افتتاح کے لیے تشریف لے گئے۔آپ نے اس موقع پر فرمایا:” سٹیٹ بنک مملکت کے لیے ایک ایسا ٹھوس اقتصادی نظام وضع کرے گا جو اسلامی اصولوں کے مطابق ہو گا۔میں اشتیاق اور دلچسپی سے معلوم کرتا رہوں گا کہ آپ کی مجلس تحقیق بنکاری کے ایسے طریقے کیسے وضع اور اختیار کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں “ ۔مقام حیرت ہے کہ قائد کا اشتیاق اور دلچسپی اسلام میں ہے لیکن سیکولر حضرات فرماتے ہیں قائد رحلت فرما گئے تودستور ساز اسمبلی میں بیٹھے سازشیوں نے قرارداد مقاصد منظور کرا لی۔
دستور ساز اسمبلی کے حق دستور سازی پر انگلیاں اٹھانے والے سیکولر حضرات کو قائد اعظم کے امریکی عوام کے نام پیغام کو توجہ سے پڑھ لینا چاہیے۔آپ نے فرمایا” پاکستان کا آئین ابھی آئین ساز اسمبلی نے ترتیب نہیں دیا ۔میں نہیں جانتا یہ آئین کون سی حتمی شکل اختیار کرنے جا رہا ہے لیکن میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک جمہوری آئین ہو گا جو اسلام کے اہم اصولوں کے مزین ہو گا “۔
سیکولر احباب سے گذارش ہے کہ وہ شور بے شک مچائیں۔لیکن فکری دیانت ملحوظ خاطر رکھیں۔جس رویے کا وہ ابلاغ فرما رہے ہیں علم کی دنیا میں اسے اجنبی تصور کیا جاتا ہے۔