- الإعلانات -

ایک بلند کردار میرِ کارواں!

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا( علامہ اقبالؒ)
تاریخ شاہد ہے کہ کسی قوم کے کارہائے نمایاں کے پس منظر میں جہاں افراد کے ذاتی اوصاف، افکار کی پاکیزگی، عزم و ہمت کا تسلسل او ر نصب العین کے حصول کے لئے سچی لگن کا کارفرما ہونا ضروری ہے، وہاں ایک ایسے رہبر کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جو نہ صرف اعلیٰ خوبیوں کا مالک ہو بلکہ اپنے قافلہ میں شامل تمام افراد کی قوت کو یکجا کرنے ، اس سے کام لینے اور اسے درست سمت میں رواں دواں رکھ کر منزلِ مقصود سے ہمکنار کرنے کا جوہر بھی رکھتا ہو۔ بلا شبہ قائد اعظم محمدعلی جناح برِ صغیر کے مسلمانوں کے ایک ایسے رہنما تھے، جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسے جوہر عطا کر رکھے تھے جن سے کام لے کر انہوں نے برصغیر کے 10کروڑ مسلمانوں کی ،جو غلامانہ زندگی بسر کر رہے تھے ، ثابت قدمی اور اولوالعزمی کے ساتھ قیادت کی ۔علامہ اقبال ؒنے برِ صغیرکے مسلمانوں کی غلامی کی زنجیروں کو پاش پاش کرنے کے لئے جہاں مسلمانوں کے حقوق کی محافظ ”آل انڈیا مسلم لیگ“ کی قیادت کا تاج قائد اعظم محمد علی جناح ؒکے ماتھے پر سجانے کا عندیہ دیا وہاں ان کے کردار کی خصوصیات کی نشاندہی بھی کی”1936ءمیں ایک روز علامہ اقبال کے ہاں قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی دیانت، امانت اور قابلیت کا ذکر ہو رہا تھا تو آپ نے فرمایا ”مسٹر جناح کو خدا تعالیٰ نے ایک ایسی خوبی عطاکی ہے جو آج ہندوستان میں کسی مسلمان میں مجھے نظر نہیں آتی“۔ حاضرین میں سے کسی نے پوچھا وہ خوبی کیا ہے؟ آپ نے انگریز ی میں جواب دیا
 "He is incorruptible and un-purchasable”. (نہ تو وہ بد عنوان ہیں اور نہ انہیں خریدا جاسکتا ہے) ۔ علامہ اقبالؒ نے اس مختصر جملے میں ©”دریا کو کُوزے میں بند کرنے“ کے مصداق ،قائد اعظم کی سیرت و کردار کی اس طرح توصیف کی ہے جو کسی شخصیت کی خوبیوں پر مشتمل ہزاروں صفحات پر مبنی کتاب سے زیادہ بھاری اور بامقصد محسوس ہوتا ہے۔ جب قائد اعظم محمد علی جناح ؒ دوبارہ انگلستان چلے گئے تو علامہ اقبال ؒنے انہیں وطن واپس آنے اور ”مسلم لیگ “ کی قیادت سنبھالنے کے لئے اپنے مکتوب میں لکھا کہ” ہندوستان میں صرف آپ ہی ایک ایسے مسلمان ہیں جو اپنی قوم کو اس طوفان سے بچا سکتے ہیں ،جو شمال مغربی علاقے او ر شاید سارے ہندوستان پر ٹوٹنے والا ہے۔ اس لئے قوم کو حق حاصل ہے کہ وہ آپ کی رہنمائی کی اُمید رکھے ۔
نگاہ بلند سخن دلنواز جان پُر سوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کےلئے
 علامہ اقبال ؒکے اس ولولہ انگیز شعر پر قائد اعظم محمدعلی جناح کی شخصیت کی مناسبت سے غور کیا جائے تو نہ صرف یہ حرف بحرف قائد اعظم کی شخصیت پر صادق آتا ہے بلکہ اس کی مکمل تشریح ذہن و دل میں اُجاگر ہوجاتی ہے ۔ اچھے حالات ، خوشگوار لمحات اور فتح و کامرانی کے بعد اقتدار کے سنگھاسن پر برا جمان ہو کر ہر کوئی قوم کا ناخدا بننے کا دعوے دار ہوتا ہے لیکن جب آزادی کی بات کرنا کانٹوں پر چلنے کے مترادف ہو….جب حق و صداقت کا ساتھ دینا جان کی بازی لگاناہو….جب مکرو فریب کے خلاف سینہ سپر ہو کر، علم آزادی بلند کرنا جیتے جی موت کو دعوت دینے کے مساوی ہو…. جب پوری قوم غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہو تو ایسے وقت میں قوم کی قیادت کی باگ ڈور سنبھالنا گویا سر پر کفن باندھنے کے مترادف ہوتا ہے۔ جب برصغیر کے مسلمانوں کی کشتی گرداب میں گری ہوئی تھی، طوفانوں اور آندھیوں سے نبرد آزماہو کر اسے ساحل مراد تک پہنچانے کا فریضہ ادا کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ کوئی معمولی قوتِ ارادی کا مالک انسان ایسا عظےم کارنامہ سر انجام نہےں دے سکتاتھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ایسے گھمبیر حالات میں مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی ۔اُس وقت مسلم لیگ برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور مذہبی حقوق و مفادا ت کے تحفظ کا فریضہ ادا کرنے کیلئے اپنے کٹھن سفر کا آغاز کر چکی تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی قیادت میں ”مسلم لیگ “ نے جوں جوں آزادی کے بلند نصب العین کی طرف بڑھنا شروع کیا توں توں مخالفت کی آندھیوں اور طوفانوں میں شدت آتی گئی تاکہ مسلم لیگ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر کے نہ صرف اسکی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکا جاسکے بلکہ اسے برصغیر کے مسلمانوں کے مقدر کا فیصلہ کرنے اور انہیں آزادی کی منزل مقصود پر پہنچانے کے پختہ عزم سے برگشتہ کیا جاسکے۔ ایسے وقت میں جب انگریز حکمران اپنی حکمرانی کی قوت سے ،ہندو اپنی عدد ی برتری اور انگریز حکمرانوںکی کا سہ لیسی کی طاقت کے بل بوتے پر اور کچھ مسلمان ان دونوں کی فریب کاری کا شکار ہو کر ”قائد اعظم محمد علی جناحؒ“ کے عزم و ہمت کے سفر میں رکاوٹوں پر رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے ….قائد اعظم محمد علی جناح نے ”مسلم لیگ“ کی شمع کو ایک باشعور ، باکردار ، باوقار ، باہمت ، باوفا، خوددار، صداقت پسند، نفاست اور عزم و ہمت کا پیکر بن کر اپنے خون ِ جگر سے ایسی تابندگی بخشی جس کی چمک دمک سے مخالفین کی نگاہیں بے نور ہو گئیں اور قافلہ ¿ حریت کے مسافروں کی نظر یںجگمگانے لگیں…. قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے مشکل ترین حالات میں اپنی خداداد صلاحیتوں کو عمل میں لا کر غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں کو ایک نیا عزم و حوصلہ بخشتے ہوئے ان کے سینوں میں اتحاد و اتفاق کی ایک سچی تڑپ پیدا کردی۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے برِ صغیر کے منتشر مسلمانوں کو ”مسلم لیگ“ کے پرچم تلے اس طرح متحد و منظم کر دیا کہ برصغیر کے کونے کونے سے ”لے کے رہیں گے پاکستان “ …….. ”بن کے رہے گا پاکستان“ ……..”پاکستان کا مطلب کیا ؟لا الہ الا اللہ “ کے رُوح پرور نعرے بلند ہونے لگے۔قائد اعظم نے 1945ءمیں فرنٹیئر” مسلم لیگ کنونشن“ میں قیام پاکستان کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے فرمایا! ”مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ خود اپنے ضابطہ حیات، اپنے تہذیبی ارتقائ، اپنی روایات اور اسلامی قانون کے مطابق حکمرانی کر سکیں“۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے ایک ”بلندکردا ر میرِ کارواں“ کی حیثیت سے انتہائی روح فرسا حالات کا انتہائی بے جگری اور اعلیٰ حکمتِ عملی سے مقابلہ کر کے ،قیامِ پاکستان کے تمام مخالفین کے حربوں کو خاک میں ملاتے ہوئے نہ صرف نا ممکن کو ممکن کر دیا بلکہ پوری دنیا کو انگشت بد نداں کر دیا اور 14اگست1947ءکو برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کی نعمت سے سرفراز کیا۔ بلا شبہ پاکستان کا قیام قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کا ایک عظےم ملی اور تاریخی کارنامہ تھا ۔یہ کارنامہ سر کرنے کے بعد انہوں نے فرمایا!” پاکستان کا قیام تاریخ عالم کا ایک اہم ترین واقعہ ہے۔ ہم نے جو مملکت قائم کی ہے اس کی آزادی ، اس کی ترقی اور اس کے استحکام کو وحشت و بربریت کے واقعات متزلزل نہیں کر سکتے۔ پاکستان ایک روشن حقیقت ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ ہم اس عظےم مملکت کے مسائل کو آئین و ضبط ، صبر و تحمل اور عدل و انصاف سے حل کریں گے۔ ہم اس آزاد اور خود مختار مملکت کو دنیا کی عظےم ترین ترقی یافتہ مملکت بنا دیں گے“۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے قوم کے ایک دیدہ ور رہنما کی حیثیت سے ایمان، اتحاد اور تنظیم کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ،برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی کے اندھیروں سے نجات دلا کر انہیں آزادی کی روشنی سے منور کیا۔قائد اعظم محمد علی جناحؒ پاکستان کو جمہوری ، خوشحال، فلاحی اور دنیا کی اقوام میں ایک مضبوط اسلامی ریاست بنانے کے آرزو مند تھے۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان دنیا کی ساتویں اور عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی اور میزائل سازی کی صلاحیت رکھنے والی ریاست ہے۔ آج پاکستان کی دفاعی سرحدیں قائد اعظم کی تمنا ¶ں کے مطابق ،سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانندمضبوط و مستحکم ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی نمایاں ترقی کی ہے ، با ایں ہمہ آزادی کی نعمت سے مستفید ہونے کے 70برس گزرنے کے باوجود پاکستان کا اندرونی نظام کما حقہ‘ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی تمنا ¶ں کے مطابق ڈھالا نہیں جاسکا۔قائد اعظم کی برسی مناتے ہوئے جہاں پوری پاکستانی قوم، بانی ¿پاکستان کو خراجِ عقید ت پیش کرتی ہے وہاں” من حیث الملت“ ہمیں اپنے آپ سے بھی یہ پوچھنا چاہیے کہ جن مقاصد کی تکمیل کے لئے پاکستان کے حصول کی خاطر ،قائد اعظم کی باکردار شخصیت کی قیادت میں، ہمارے آبا ¶ اجداد نے جدوجہد کی تھی کیا ہم انہیں عملی جامہ پہنا چکے ہیں؟ ہمیں اس امر پر بھی غور و فکر کرنی چاہیے کہ پاکستان کا نظام زندگی قائد اعظم ؒ کے افکار ِ عالیہ کی روشنی میں منظم کرنے میں کون کون سی دشواریاں ہیں؟ بانی پاکستان کی یادمنانے کے موقع پر ہمیں اپنی کامیابیوں اور ترقی کی منازل طے کرنے پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہوئے اپنی ناکامیوں پر غور و فکر کرتے ہوئے اپنی کوتاہیوں اور خامیوں کو دور کرنے کا عہد بھی کرنا چاہیے۔قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے”قیا م پا کستان “کی خا طر اپنی پو ر ی زند گی کی تما م تر تو انائیاں وقف کر تے ہو ئے ،اپنا عظیم قو می اور ملی فر یضہ ادا کر نے کے بعد 11ستمبر 1948ءکو اس جہا ں فا نی سے کو چ کر گے۔ بانی ¿ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی یا د منانے ان کے ملی اور تارےخی کارناموں کو خراجِ عقید ت پیش کرنے کا بہترین اندا ز یہ ہے کہ ہم بانی پاکستان کے افکار ایمان، اتحاد اور تنظیم کو مشعلِ راہ بنا کر مملکتِ خداداد کو اہلِ پاکستان کیلئے امن ، سلامتی ، ترقی ، خوشحالی اور عدل و انصاف کا گہوارہ اور پوری دنیا کیلئے ایک ماڈل ریاست بنانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے میاں محمد نواز شریف کو یہ موقع عطا کیا ہے کہ وہ ”علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒاور قائد اعظم محمد علی جناح ؒکے افکار ِ عالیہ کی روشنی میں نا صرف پاکستان کے دفاع کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی عملی جدوجہد کریں بلکہ اہلِ پاکستان کے مسائل حل کر کے انہیں پُر امن ، خوش حال اور باوقار زندگی گزارنے کے قابل بنا کر ان کی دعائیں ، تعاون ، ہمدردیاں حاصل کر یں اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے پھولوں سے اپنا دامن لبریز کریں۔ بقول شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدرکا ستارہ