- الإعلانات -

عید قرباں

عالم اسلام کے موضوعی حالات میں ، اپنے جلو میں ہزاروں سوچیں، صدہا فکریں ، بے انتہا کرب لیکر عیدالاضحی پھر آگئی۔تا قیامت وقت کی گردش جاری رہے گی ۔ مسرور ایام دوڑتا رہے گا ، صبح و شام اپنا سفر مکمل کرتے رہیں گے اور وقت گزرتارہے گا ۔
 وقت گزراں ہے کسی طورگزر جائے گا
 تہوار اور رتیں اسی طرح آتے رہیںگے لیکن ہر بار نئے انداز ،نئے طور اور نئی طرح سے حالات و واقعات ، حادثات احساس کو نیازاویہ ، فکر کو نیا وزن اور خیال کو ایک نئی جہت عطا کرتے رہیں گے۔ عید قرباں ایک اشاریہ ہے اللہ سے محبت کا، اس کیلئے ہر چیز کو تجنے کا اور اس کی راہ میں عزیز ترین شے کو قربان کرنے کا، قربانی ایک جذبہ صادقہ ہے اور یہی جذبہ ہے جس کے تحت کائنات کا یہ نظام رواں دواں ہے ۔ وطن عزیز کی بنیادوں میں بھی قربانیوں کی ایک طویل داستان رقم ہے ۔ ہمارے ہاںہر آنے والی حکومت غریب عوام سے قربانیوں کی طلبگار رہی اور لاچار عوام کو مسلسل یاد دلاتی آرہی ہے کہ قربانی دیں اپنے لئے ، قوم کیلئے لیکن اکابرین اقتدار نے خود ہمیشہ غریب عوام کیلئے قربانی دینے سے گریزاں رہنے کی پالیسی ہی اپنائی ، برعکس ان کے قوم نے کبھی ان اکابرین اقتدار کو مایوس نہیں کیا ۔ موجودہ دور میں بھی بعض حکمرانوں اور سیاسی زعما نے اپنی قوم کو ، اپنے قبیلے اور کمیونٹی کو قربانی کی بھینٹ چڑھایا اورقوم کو ناکردہ جرم کی پاداش میں قربانی کا بکرا بننا پڑا ۔ ایسی قربانیاں قوم کیلئے تباہی و آفت کا سبب بنتی ہیں ۔ اپنے سماج کا مشاہدہ کریں ہر فرد دوسرے فرد کو ہی قربانی کا درس دیتا نظر آئے گا لیکن خود قربانی کیلئے ہرگز آمادہ نہیں۔ مولانا حضرات مساجد اور جلسوں میں آقا اور اہلبیت و صحابہ کی ناموس پر قربانی کیلئے ہمہ وقت تیار لیکن جب کہا جائے کہ آپ اپنی اس تقریر کو ہی آپ پر نچھاور کردیں اور اس کا معاوضہ نہ لیں تو ہرگز تیارنہیں۔ حالیہ بلدیاتی الیکشن میں ایک امیدوار کا سپورٹر اپنے امیدار پر کڑا وقت آنے کی صورت میں اپنے بچے قربان کردینے کا تذکرہ جذبات کی رو میں بہہ کر رہا تھا لیکن جب راقم نے اسے کہا کہ محترم آپ اپنے امیدوار کا صرف ایک دن کے خرچ بمعہ مٹھائی کے قربان کردیں ، اپنے بچوں کی قربانی رہنے دیں تو پھر ان کی ساری جذباتی روانی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی ، بات کدھر چلی گئی تو قارئین رہنما قربانی دیتے ہیں قوم کیلئے ، والدین قربانی دیتے ہیں اولاد کیلئے ، بھائی بہن ، رشتے دار ، دوست احباب ، الغرض تمام رشتوں کے قائم و دائم رہنے کی بنیاد اور ان میں استحکام و پائیداری جذبہ قربانی پر ہی منحصر ہے ۔ فلسطینی اور کشمیری عوام اپنی آزادی کیلئے کئی دہائیوں سے مسلسل قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کی نئی لہر کو جاری و ساری ہوئے دو ماہ کے قریب ہوچکے ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام 64 ارب کا معاشی خسارہ برداشت کرچکے ہیں ۔ مقبوضہ وادی میں خوراک ، ادویات اور ایندھن کی شدید کمی ہے، بچوں کیلئے دودھ ناپید ہے، سوسے زائد افراد کو شہید کیا جاچکا ہے ، سات ہزار سے زائد مکانات کو منہدم کردیا گیا ہے، ایک ہزار سے زائد افراد نابینا ہوچکے ہیں۔18 لاکھ سے زائد پیلٹ گن کے چھرے فائر کیے جاچکے ہیں۔ کشمیریوں کی قربانیوں کی ایک طویل تاریخ رقم ہورہی ہے۔ اس بار عیدقربان نے مسلمانوں پر فکر کے کتنے دریچے واکردئیے ہیں۔ اس موقع پر انفرادی اور اجتماعی سطح پر اُمت کو بہت کچھ سوچنا ہے، عمل کی ایک راہ متعین کرنی ہے۔ مسلمان تمام ذرائع کے حامل ہونے کے باوجود جس حالت سے گزر رہے ہیں،عید قربان ہمارے لئے پھر اخوت کا، اللہ کی رضا کے حصول کا اور قربانی کا پیغام لیکر آتی ہے ۔ کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ عالم اسلام اس نئے اسلامی سال میں حکمت عملی کی ایک نئی جہت اپنائے ۔ اپنا تاج و تخت اور اقتدار بچانے کیلئے مسلمان بادشاہ اور حاکم کس کس کا دامن تھامے ہوتے ہیں، صاحبان خیر کو سب اندازہ ہے لیکن بدلتے ہوئے زمانے میں وہر کی اس صدی میں اب کسی اور سہارے اقتدار قائم رکھنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ آج عام آدمی جاگ چکا ہے ۔ ذرائع ابلاغ نے دنیا کے کونے کونے کو حالات حاضرہ سے آگاہی بخش دی ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان صاحبان اقتدار و اختیار اپنے عوام کے بارے میں سوچیں ۔ یہی سوچ ان کی قربانی ہوگی اور عوام کی فلاح کیلئے اٹھایا جانے والا ان کا ہر قدم ایثار ہوگا اور یہ قربانی اور ایثار دراصل ان کے اقتدار کیلئے نیک فال ہوگا ۔ شخصی حکومتیں ، خاندانی بادشاہتیں اب زیادہ چلنے والی نہیں ہیں، سازشوں اورحکمت عملیوں کی بنا پر اقتدار کو کسی حدتک طول دیا جاسکتا ہے لیکن بغیر جذبہ قربانی کے دلوں پر حکومت نہیں کی جاسکتی ۔ آج عید قرباں پکار پکار کر جذبہ قربانی کا اعادہ چاہتی ہے ۔ صاحبان اقتدار سے بھی اور عوام سے بھی ، مسلم امہ کو بہتر سنجیدگی سے سوچناہے کہ آج مسلمان ہونا ”جرم“ کیوں قرار دیا جا رہا ہے ؟ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ مغرب کے بہت سے ملکوں میں عام مسلمان خود کو ظاہر کرنے میں ایک طرح کاہر اس محسوس کرتا ہے ۔ دہشت گردی ، بغاوت، شدت پسندی ، وحشت انگیزی ، ہر ناپسندیدہ عمل مسلمان سے وابستہ کردیا گیا ہے آخر کیوں؟ غالباً ہم نے اللہ کی رضا کو پس پشت ڈال دیا ہے اور قربانی کے اس جذبے کو فراموش کردیا ہے جس نے مسلمانوں کو عالم کی سروری عطا کی تھی ۔ جو قومیں اپنے وجود، قومی تشخص اور ملی سربلندی کیلئے قربانی دیتی ہیں وہی عالم میں سرفراز ہوتی ہیں۔ تاریخ ایسی قوموں کے تذکرے سے پروقار بھی ہے اور سبق دہندہ بھی ۔ عید قرباں مسلم اُمہ کو ایثار اور قربانی کا یہ سبق پھر حرز جاں بنانا ہے اور عہدکرنا ہے کہ نفس امارہ کی قربانی دے
کر ثابت کیا جائے گا کہ امت مسلمہ آج بھی ایثار و قربانی سے تہی نہیں ہے۔
 عید قرباں پر کریں یہ عہد ہم
 خیر کی اب ہوگی ارزانی بہت
 اور دنیا سے کہیں ملت میں ہے
 جذبہ ایثار وقربانی بہت
 ہم ایثار و قربانی کے جذبے کے خالق اس معبود برحق سے عالم اسلام کیلئے خیر کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت ابراہیمؑ کو ان کی قربانی قبول کرکے سرخرو کیا ۔ مسلم اُمہ کو ان کی قربانیوں کاصلہ عطا فرمائے ۔ تیرے نام لیوا اس کرہ ارض کے مختلف خطوں ، عالم انسانیت کی سرفرازی کیلئے جو قربانیاں دے رہے ہیں انہیں شرف قبولیت عطا فرمائے ۔ کاش اگلی عید قرباں مسلمانوں کیلئے خیر و امن و آشتی ، سرفرازی اورسرخروئی کا پیغام لائے ، تیری رحمت سے توکچھ بھی بعید نہیں۔