- الإعلانات -

عیدالاضحی اور اس کے تقاضے

عیدالاضحی حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی دینے کیلئے اس کے گلے پر چھری چلائی مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ سے فرمایا اے ابراہیمؑ تیری قربانی قبول ہوئی اور اپنے پاس کھڑے مینڈھے کو قربان کردیا چنانچہ آپؑ نے مینڈھے کو راہ خدا میں ذبح کیا ۔ حضرت اسماعیلؑ نے نہایت فرمانبرداری کا نمونہ پیش کرتے ہوئے کہا ابا جان وہ کر گزرئیے جس کاحکم آپ کو آپ کے رب نے دیا ہے۔ آپ انشاءاللہ مجھے ثابت قدم پائیں گے۔ علامہ اقبالؒ نے اس کی منظر کشی کیا خوب انداز میں کی فرماتے ہیں۔
یہ فیضان نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آداب فرزندی
 اس عید کی کئی حکمتیں اور اسرار پوشیدہ ہیں یہ عید مسلمانوں کے اندر ایثار اور قربانی کا جذبہ پیداکرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ہماری قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں جاتا صرف ہماری نیتیں اور جذبہ ایثار جاتا ہے۔ مسلمان عید قربان پر اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ یہ شہادت کی الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہوتا آج یہ عید ہم سے یہ تقاضا کررہی ہے کہ خدا کی رضا کیلئے ہر قربانی کیلئے تیار رہیں لیکن صد افسوس کہ ہم اسلام کی روح سے ہٹتے جارہے ہیں ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے لیکن آج مسلمان ہی مسلمان کا خون کررہا ہے ، قتل و غارت گری ، کا بازار گرم ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے ۔ راہزنی اور چوری ڈکیتی مسلمانوں نے اپنا معمول بنا لیا ہے ۔ اسلام امن کا دین ہے اور سلامتی کا درس دیتا ہے۔ اسلام حقوق العباد پر زور دیتا ہے لیکن آج آجر آجیر سے جو سلوک روا رکھے ہوئے ہے اس کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اسلام محنتی کو اللہ کا دوست قرار دیتا ہے لیکن آج مزدور کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے ۔ سماجی نا انصافی ہے حق تلفی عام ہوگئی ہے اور معاشرے میں طرح طرح کی قباحتیں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ اس عالم میں ایثار کی بات ایک سوالیہ نشان دکھائی دینے لگی ہے۔ آج مسلمان غیر مسلموں کے زیر عتاب ہیں اور دنیا میں جہاں بھی مسلمان بستے ہیں ظلم و ستم کا نشانہ بنے دکھائی دے رہے ہیں جس کے محرکات آپس کی نا اتفاقی اور اتحاد کا نہ ہونا شامل ہے۔ جب تک مسلمان متحد رہے ان کی دھاک ہرسو دکھائی دیتی رہی اب ان میں جذبہ ہمدردی اور ایثار کا فقدان ہے جس سے یہ مار کھائے جارہے ہیں ۔ عیدالاضحی کی خوشیاں تب ہی حقیقی خوشیاں ثابت قرار پاسکتی ہیں جب ان میں غریب و مساکین کو شامل کیا جائے جس خوشی میں غرباءشامل نہ ہوں وہ خوشی خوشی نہیں رہتی آقائے دو جہاں نے درویشی کو پسند فرمایا آپ غریبوں ، محتاجوں اور یتیموں کا بہت خیال رکھتے تھے آج ذرا ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو شرم سے ہماری نگاہیں جھک جاتی ہیں ہم غاصب ہیں جس ملک میں دولت کا غیر منصفانہ سسٹم ہو وہاں سماجی انصاف کیسے ممکن ہے۔ دولت چند ہاتھوں میں ہونے سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے یہ تفریق اسلام کے اصولوں کے منافی ہے آج عید قربان پر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس معاشرے کو اسلام کے سانچے میں ڈھالیں گے اور پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔ ملک کیلئے ہر قربانی دیں گے اور اس کی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ یہی خوشی حقیقی خوشی کہلائے گی یہ قربانی ایک نہ ایک دن دینا پڑے گی تاکہ علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو پائے۔ عیدالاضحی کے تقاضے پورے کرنے سے ہی عید کی حقیقی خوشیاں نصیب ہوتی ہیں آج مسلمان قربانیاں بھی کرتے ہیں لیکن تعجب ہے کہ پھر بھی ان کے گردونواح میں مستحق لوگ ان کا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جذبہ ایثار کو اپنائیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں ، ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے مل جل کر کام کریں۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو حل کرے ان کے معیار زندگی کو بلند کرے اور اپنی ذمہ داریوں کو بطریق احسن نبھائے۔
ٹرانسپورٹروں کی من مانیاں
 عید کے پرمسرت موقع پر ٹرانسپورٹروں نے راولپنڈی ،اسلام آباد اور دیگر شہروں سے اپنے گھر لوٹنے والے پردیسیوں سے انتہائی ناروا سلوک رکھا رکھا زائد کرائے کی وصولی کے ساتھ ساتھ مسافروں کو گاڑیوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونسا گیا اگر کوئی مسافر مزاحمت کرنے کی جرا ¿ت کرتا تو اس کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی ٹریفک قوانین کی بکھری دھجیاں دیکھ کر ایسا لگتا کہ یہاں کوئی قانون نہیں اور ٹرانسپورٹر بے لگام گھوڑے کی طرح من مانیاں کرتے رہے بس سٹاپس ، لاری اڈوں ،مسافروں کی حالت زار دیکھ کر انسان کا دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوجاتا ہے ایک جمہوری دور حکومت میں عوام ذلیل و خوار ہورہے ہیں قانون کی گرفت اتنی ڈھیلی کہ کوئی ان منہ زور ٹرانسپورٹروں کو پوچھنے والا نہیں قانون داری کے فقدان نے کئی مسائل کو جنم دیا ہے جن میں لاقانونیت سرفہرست ہے۔ انتظامیہ قومی تہوار کے مواقعوں پر ایسے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنائے جن کی بدولت مسافر کسی تکلیف کے بغیر سفر کرسکیں سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے بالکل ممکن ہے اگر انتظامیہ اپنے فرائض فرض شناسی سے ادا کرے ، سیکرٹری پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی ڈھیلی گرفت ہی ٹرانسپورٹروں کو قانون شکنی کا مرتکب کرانے کا باعث بن رہی ہے ۔ مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ میں اوورلوڈنگ زائد چارجنگ اور روٹ مکمل نہ کرنے کی شکایات عام ہیں لیکن کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہ آئی۔
پیشہ وربھکاریوں کی یلغار
راولپنڈی اسلام آباد میں بھکاریوں کی یلغار جہاں شہریوں کیلئے پریشان کن بنی دکھائی دیتی ہے وہاں انتظامیہ کیلئے ایک سوالیہ نشان بھی ہے ۔ لاری اڈوں، ریلوے اسٹیشن اور پبلک مقامات پر ان کی فوج ظفر موج دیکھنے میں آتی ہے اور یہ مختلف رنگ میں بھیک مانگنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے ،پیشہ ور بھکاریوں نے اصل حق داروں کے حقوق بھی غصب کررکھے ہیں اور یہ تمیز کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ حق کون ہے۔ پنڈی اسلام آباد اور گردونواح میں بھکاریوں کیخلاف کریک ڈاﺅن کی ضرورت ہے تاکہ ان شہریوں کو پیشہ ور بھیک منگوں سے نجات دلائی جاسکے ۔ اس وقت شہری ان بھکاریوں کی سرگرمیوں سے بے حد پریشان ہیں کیونکہ ہر جگہ یہ ان کو شرمندہ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ بعض دفعہ ان کو جھڑکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یہ اس قدر ڈھیٹ ہوچکے ہیں کہ ان کے اندر غیرت و اہمیت نام کی کوئی چیز نہیں اور یہ ہاتھ پھیلانا ہی فخر محسوس کرتے ہیں۔ سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹانا چاہیے لیکن سائل حق دار بھی ہو۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملک سے غربت و افلاس کو ختم کرنے کیلئے عملی اقدام کرتے تاکہ غریبوں کی عزت و نفس مجروح نہ ہو اگر عوام زکوة، عشر اورخمص دیانتداری سے دینا شروع کردیں تو ملک میں کوئی غریب دکھائی نہ دے لیکن یہ المیہ ہے کہ ہم اپنے فرائض کوادا کرنے میں بھی تغافل پسندی کا مظاہرہ کررہے ہیں جس سے معاشرہ طرح طرح کے مسائل کا شکار ہے۔