- الإعلانات -

محاذ آرائی کی بجائے قانونی راستہ اختیار کیا جائے

 حکومت اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے مد مقابل ہونے سے سیاسی منظرنامہ دھندلاہٹ کا عکاس دکھائی دے رہا ہے اور سیاسی اُفق پر چھائے گہرے بادل کسی طوفانی کیفیت کااشارہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور سیاسی درجہ حرارت آئے دن بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ایک طرف وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد نواز شریف ترقیاتی کاموں کا دھڑا دھر افتتاح کررہے ہیں اور بھرپور عوامی جلسوں سے خطاب کرکے حکومتی کارکردگی پر روشنی ڈالتے نظر آتے ہیں ۔ احتجاجی سیاست کرنے والوں کو عوام ہر جگہ بھرپور جواب دے رہے ہیں ۔ پنجاب اور کراچی میں ان کو خوب جواب دیا گیا۔ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارے دل میں بغض نہیں بلکہ لوگوں کی خدمت کا جذبہ ہے پختونخواہ میں بھی حکومت بنا سکتے تھے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا جس کو جہاں مینڈیٹ ملا اس کا احترام کرتے ہیں ہم نے صوبائی حکومتوں کو مکمل تعاون فرا ہم کیا کچھ لوگوں نے نعرے لگوائے کام نہیں کیا میرے پاس سیاسی مخالفین کو جواب دینے کام وقت نہیں۔یہ وقت واقعی احتجاجی سیاست کا نہیں عوام کی خدمت کا ہے لیکن حکومت کو دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اس بات کے پس منظر میں جانے کی ضرور ت ہے اور ان محرکات و عوامل کا جائزہ لینا چاہیے جو احتجاجی سیاست کا ذریعہ بن رہے ہیں حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جان و مال کی حفاظت کو بھی یقینی بنائے ملک میںا من قائم رکھنا ، مہنگائی ، بیروزگاری کا خاتمہ اور سماجی انصاف کی فراہمی بھی حکومت کے فرائض میں شامل ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ امر کہ سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن صد افسوس کہ ہمارے ہاں سیاست میں برداشت کا فقدان ہے اور ہٹ دھرمی کا رجحان پایا جاتا ہے جس سے سیاسی ہلچل عوام کا مقدر بنی رہتی ہے۔ وزیراعظم جس تواتر سے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں اس سے ان کی نیت پر شبہ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ حکمت عملی اچھی ہے اور یہ اقدامات مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی کارکردگی کو بڑھا رہے ہیں لیکن سیاسی عدم استحکا م کا جو منظر اس وقت دیکھنے میں آرہا ہے یہ قطعی طورپر جمہوریت کیلئے نیک شگو ن قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے وہ سیاسی مخالفین کی بات کو سنے اور اس قیمتی وقت کو ضائع نہ کرے کیونکہ حکومت وہی کامیاب قرارپاتی ہے جو سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کو نہ صرف اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے بلکہ اس کے تحفظات کو بھی دور کرتی ہے پانامہ لیکس پر اپوزیشن کے تحفظات کو دور کرنا حکومت کا کام ہے لیکن حکومتی سطح پر متفقہ ٹی او آرز کا نہ بننا ہی احتجاجی سیاست کا باعث قرار پایا اور تحریک انصاف سڑکوں پر احتجاج کررہی ہے اور اب تو چیئرمین پی ٹی آئی نے رائے ونڈ مارچ کا اعلان بھی کردیا ہے اور اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری تحریک قصاص چلائے ہوئے ہیں اور وہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہداءکا قصاص مانگ رہے ہیں عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید تحریک نجات اور جماعت اسلامی دھرنا اور پیپلز پارٹی بھی سڑکوں پر آنے کیلئے پر تول رہی ہے اور جو سیاسی منظرنامہ بنتا دکھائی دے رہا ہے وہ حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرسکتا ہے حکومت سیاسی تدبر اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے احتجاج پر سنجیدہ غور وفکر کرے اور ان کو اعتماد میں لے ۔پانامہ پیپرز پر متفقہ ٹی او آرز کو یقینی بنائے یہی وہ راستہ ہے جو جمہوریت کیلئے سود مند ہے۔ حکومت کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے ایک طرف دہشت گردی ہے تو دوسری طرف اس کو بھارتی جارحیت اور سازش کا سامنا ہے ان حالات میں سیاسی محاذ آرائی کامتحمل ہماراملک نہیں ہوسکتا اس لئے حکومت برداشت کے جمہوری کلچر کو اپناتے ہوئے ملک میں سیاسی استحکام لائے جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوگا ۔ ملک ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتا ۔حکومت سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور اپوزیشن کے تحفظات کو دور کرے تاکہ جمہوریت پر کوئی کاری ضرب نہ لگے۔ ملک میں جمہوری کلچر کو پروان چڑھائے بغیر محاذ آرائی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت اور سیاسی جماعتیں مل جل کر ملک و قوم کی ترقی کیلئے کام کریں، سیاسی استحکام سے ہی ملک ترقی کے راستے پرگامزن ہوگا۔بالواسطہ جمہوریت کا نظام نجانے کیوں کامیابی سے اپنے منزل کی طرف رواں دواں نہیں ہوپارہا حالانکہ بڑی ریاستوں میں بالواسطہ جمہوری نظام کامیاب قرار پاتا ہے کامیاب جمہوریت کی پہلی شرط تعلیم ہے جب تعلیم پر نظر دوڑائی جائے تو رونا آتا ہے یہ روبہ تنزل ہے۔ جمہوریت کی کامیابی یہ تقاضا کرتی ہے کہ سیاسی جماعتیں صحتمدانہ اور معاشی اصولوں پر قائم ہوں اور ملک کی ترقی و خوشحالی کو اپنا نصب العین سمجھیں۔ سیاسی رہنماﺅں کا قابل دوراندیش اور تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ جمہوریت کی کامیابی میں ایک شرط یہ بھی قرار پاتی ہے کہ ہر ایک کو تحریر اور تقریر کی آزادی ہو تاکہ ملکی مسائل پر آزادانہ رائے قائم ہوسکے ۔ جمہوریت میں حکمران عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتے ہیں اور حکومت فلاح عامہ ، اخلاقی اور تعلیمی ضرورت کے ساتھ ساتھ امن و استحکام ، مساوات، احساس ذمہ داری اور جذبہ حب الوطنی ، خود اعتمادی بھی جمہوریت کی کامیابی کی شرائط میں شامل ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان کا فقدان ہے جس سے حکومت اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کیخلاف صف بندی کیے ہوئے دکھائی دیتی ہیں جس سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہورہا ہے اور ملک کی ترقی و خوشحالی متاثر ہورہی ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ سیاسی جماعتیں صحت مندانہ کردار ادا کریں اور حکومت بھی سیاسی تدبر اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لیکر چلے تاکہ محاذ آرائی نہ ہو اور ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کیا جاسکے۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ اپوزیشن کے تحفظات دور کرے۔ یہی کامیاب جمہوریت کا راستہ ہے۔
 آبی آلودگی کی روک تھام وقت کی ضرورت
 ملک میں آبی آلودگی کا شور عوام الناس کیلئے جہاں پریشان کن ہے وہاں حکومت کیلئے لمحہ فکریہ بھی ہے ۔ آبی آلودگی سے انسان طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہورہا ہے اور اس کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ پانی انسان کی صحت کیلئے انتہائی ضروری ہے بدن کیلئے اہم جزو ہے اس کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا لیکن تعجب ہے کہ وطن عزیز میں لوگوں کو صاف پانی ملنا بھی محال ہے عوام پہلے ہی شور کی آلودگی ، زمینی آلودگی کے شکار تھے اور اب آبی آلودگی بھی ان کا مقدر بنے دکھائی دینے لگی ہے ۔ حکومت آبی آلودگی کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ لوگوں کو موذی امراض سے بچایا جاسکے ۔ حکومت اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے اور عوام کو صاف و شفاف پینے کا پانی بہم پہنچائے ۔ آبی آلودگی پر عدالت عظمیٰ نے بھی نوٹس لیا ہے اور اس ضمن میں کئی وفاقی سیکرٹری بھی سرزنش کے شکار ہوئے ۔ حکومت کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اس کے باسی پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہیں۔ جمہوریت میں عوام حکمران جماعت کا محاسبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے ۔