- الإعلانات -

نجی سود کے خلاف کے پی کے اسمبلی کا انتہائی اچھا اقدام

خیبر پختو10سال قید کی سزا اور دس لاکھ روپے تک جُرمانے کی سزا مقرر کر دی گئی ہے۔سودی لین دین میں معاونت کرنے والے بھی سزا کے حق دار ہونگے ۔ ماضی قریب میں سراج الحق صاحب جب صوبائی اسمبلی کے ممبر تھے تو اُنہوں نے اُس وقت پہلی بار یہ بل پیش کیا تھا مگر اس بل میں کچھ کمی اور بیشی کی وجہ سے اس کو واپس لیا گیا۔علاوہ ازیں جماعت اسلامی کے کچھ اور قائدین جس میں پروفیسر ابراہیم خان، فرید احمدپراچہ اور ڈاکٹر عطا ءالرحمان شامل تھے اُنہوں نے بھی سپریم کو رٹ میں سودی نظام کو چیلنج کیا تھا ۔ جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے سابق امیر مولانا گوہر الرحمان مرحوم نے وفاقی شرعی عدالت میں اسکو چیلنج کیا تھا اور وفاقی شرعی عدالت میں جو دلائل پیش کئے وہ ایک کتابی شکل میں چھپ گئے ہیں۔اگر ہم اسی نجی بل پر نظر ڈالیں تو اس بل میں جماعت اسلامی کے علاوہ خیبر پختون خوااسمبلی میں موجود تمام پا رٹیوں کا Contributionہے ۔ آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ پو رے ملک اور باالخصوص خیبر پختون خوا میں حکومتی سطح کے علاوہ نجی سطح پر سود کا کاروبار انتہائی عروج پر ہے۔ لوگ گا ڑیاں، مو ٹر سائیکل ، دوسرے املاک تین یا چار چند سود پر دیتے ہیں اور اس سودی کاروبار سے غریبوں اور لاچاروں پر ظلم کرتے ہیں۔بد قسمتی سے خیبر پختون خوا میں قانون نہ ہونے کی وجہ سے سودیے غریب لوگوں انتہائی ظلم ڈھاتے تھے۔ سود ی کاروبار میں ملوث لوگ اتنے طاقت ور ہوتے ہیں کہ کوئی سائل اُسکے خلاف بات کرنے کی جرات نہیں کر سکتا اور یہ سودخورغریب مقروض لوگوں سے تھوڑے سے عرصے کےلئے دئے گئے پیسوں پر 4 یا 5 چندسود لیتے تھے۔ اللہ نے بیو پار کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔قُر آن مجید کی4 آیاتوں اور40 احادیث میں سود کی حُرمت کا ذکر ہے۔سورة آل عمران میں ارشاد ہے اے ایمان والو دگنا چوگنا سود نہ کھاﺅ اور دوزخ کی آگ سے بچو۔ اللہ نے بیو پار کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ سورةلبقرة میں ارشاد ہے اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اسکو چھوڑ و اگر تم ایمان والے ہو۔پھر اگر تم عمل نہ کرو تو اللہ اور اسکے رسول ﷺ سے اعلان جنگ سُن لو۔ حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے سود کھانے والے، سود لینے والے اور سودی تحریر فرمانے یا حساب لکھنے والے اور سودی شہادت دینے والے پر لعنت فرمائی ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا سود کے ستر گناہ ہیں ان میں ادنیٰ ایساہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے زنا کرے۔ فاروق اعظمؓ کا ارشاد ہے کہ سود کو بھی چھوڑو اور جس میں سود کا شُبہ ہے انکو بھی چھوڑو۔حضرت علی ؓ کا ارشاد ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو قرض کوئی منافع پیدا کرے وہ ربا یعنی سود ہے۔ اسلام کا کوئی عمل ایسا نہیں جو انسانوںکے فلاح کےلئے نہ ہو۔ اور دوسرے مذاہب کی طر ح دین اسلام میں سودکو حرام قرار دیا گیا ہے۔ سود سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتے جاتے ہیں۔غُربت جوکہ سماجی بیماری ہے اس سے معاشرے کا ایک عزت دار انسان ذلالت کا شکار ہوجاتا ہے اور اُس کی اخلاقی قدریں تباہ وبر باد ہوجاتی ہیں۔ جہاں دولت چند ہاتھوں میں ہوگا تو اس سے معاشرے میں لالچ ،کرپشن، چو ری ، اقدام قتل اور قتل جیسے واقعات میں اضا فہ ہوجاتا ہے نتیجتاً معاشرے کا توازن بگڑ جاتا ہے ، ملک افراتفری اور سول وار کا شکار ہوجاتا ہے ۔تجارت میں برابری اور توازن ہے جبکہ اسکے بر عکس سود میں برابری اور توازن نہیں۔ کسی کی جائز ضرورت اور تکلیف سے فائدہ اُٹھا کر ناجائز پیسے کمائے جاتے ہیں۔ سود سے مختلف اشیاءکی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کی وجہ سے بے روز گاری میں اضافہ ہوتا ہے۔پیسہ جب گر دش میں ہوتا ہے تو اس سے زیادہ فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ سود سے دولت کی گر دش رُک جاتی ہے اور معاشرے کے زیادہ لوگوں کے بجائے چندلوگ اس سے استفادہ کرتے ہیں۔سودی نظام میں سودخوردوسروں کی تکالیف سے فائدہ اُٹھا کر دولت کو اکٹھا کرکے اسکو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ سو دی نظام سے خود عرضی لالچ، نفاق ، نفرت اور اللہ پر توکل اور اچھائی کا جذبہ ختم ہوتا جاتا ہے۔ اورا نسان پیسوں کے اکٹھا کرنے اور اسکو نتھ نئے طریقوں سے حا صل کرنے کے لئے کوشاں ہوتا ہے۔سود خور کے آگے رشتے اور تعلق کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ اُسکا محور پیسہ اور بس پیسہ ہوتا ہے۔ سود جوکہ ظالمانہاور دولت کا غیر مساویانہ نظام ہے اس کا اصل مقصد دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ہوتا ہے جس سے معاشرے میںغریبوں کوامیروں سے نفرت ہوجاتی ہے اور معاشرہ افرا تفری کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسلام میں سود کے خلاف جو نظام تشکیل دیا ہے وہ دولت کا مساویانہ طور پر خرچنا، زکواة کی ادائیگی، صدقات ، وراثت اور اللہ کے راہ میں خرچنا شامل ہے، جس سے معاشرے میں محبت اور اخوت میں اضافہ ہوتا ہے۔۔فرماتے ہیں جتنا لیاجائے اتنا دیا جائے اگر زیادہ کا مطالبہ کیا جائے تو یہ سود ہے۔ کسی کو اجارے ٹیکے پر زمیں دینا سود نہیں مگر Mortgage کرنا سود ہے۔ پاکستان اپنی قومی آمدنی کا 65فی صد سود کی ادائیگی پر دے رہے ہیں۔اتنی بھاری رقم عالمی سود خوروں کو دینے کے بعد غریبوں کے لئے کیا بچا ۔ امریکہ کے جان برگر جنہوں نے اپنی پو ری عمر آئی ایم ایف ورلڈ بینک اور ڈبلیو ٹی او ،امریکہ بر طانیہ کے صدور اور وزرائے اعظم کے ساتھ گزاری۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نمائندہ بھی رہے، انہوں نے اپنی کتاب Confession of economic hit man میں وہ سب کچھ بتا دیا جو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف غریب ممالک کے ساتھ کرتے ہیں۔اُنہوں نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ان دو اداروں کے ممبر ممالک ہو تے ہیں جو ان اداروں کو فنڈنگ کرتے ہیں۔ امریکہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا سب سے بڑاعطیہ دینے والا ملک ہے ۔ عطیہ دینے کیوجہ سے امریکہ کا سب سے زیادہ اثر رسوخ ہے اور امریکہ دنیا میں اپنی مرضی کی خا رجہ پالیسی عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے ذریعے تسلط کرتی ہے۔جان بر گر کہتے ہیں کہ امریکہ ان دو عالمی اداروںکے ذریعے اُن ممالک کو ٹارگٹ کرتے ہیں جہاں پر معدنی وسائل ہوں یا انکی جغرافیائی سٹریٹجک لوکیشن ہو۔ان کے اکثر شکار تیسرے دنیا کے ترقی پذیرممالک ہوتے ہیں۔ یہ اُن ممالک کو غیر پیداواری پروجیکٹس کےلئے قرضے دیتے ہیں جس سے نہ تو کوئی آمدن اور نہ کوئی اقتصادی بڑھوتری ہوتی ہے اور نہ اس سے کوئی روزگار دلائی جاسکتی ہیں۔جس وقت مقروض ممالک قرضوں کی ادائیگی سے قاصر ہوںتو پھر اس ممالک پر دباﺅ ڈالا جاتا ہے کہ قومی اداروں کی نجکاری کریں ، یا اپنی تجارت کو بڑھانے کے لئے زبر دستی من پسند تجارتی روٹس کھولے جاتے ہیں جو کسی ملک پر قبضہ کرنے کےلئے ضروری ہے۔ جان بر گر کہتے ہیں اسکے بعد وہ ان مقروض ممالک کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی فوج انکے حوالے کردیں تاکہ وہ انکے لئے دنیا کے کسی حصے میں اُنکی مفا دات کی جنگ لڑ سکیں۔ اگر کسی ملک کی لیڈر شپ اس قسم کی بات سے انکار کر دیں تو پھر اسکو دو آپشن دئے جاتے ہیں ۔ یا تو اُنکے سوئس بینک اور سوس اکاﺅنٹ بھر دئے جاتے ہیں بصورت دیگر انکی حکومت تبدیل کی جاتی ہے۔ اگر وہ سیاسی طور پر مضبو ط ہے تو اسکے جہاز کو ہوا میں اُڑاکر قتل کیا جا سکتا ہے۔ آکسفام کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹرنے کہا کہ سال2016 میں دنیا کے ایک فیصدمالدار ترین لوگوں کے وسائل دنیا میں 99 فیصد لوگوں سے زیادہ ہوں گے۔ 600 ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس دنیا کے 60 فیصد دو لت ہے-