- الإعلانات -

یہ نئی بھارتی سازشیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

یوں تو بھارت نے عرصہ دراز سے ہر سطح پر پاکستان کے خلاف سازشوں اور مکروہ ہتھکنڈوں کا جال بچھا رکھا ہے ۔ اور اس حوالے سے ہمیشہ سے ہی مکاریوں اور ریا کاریوں پر مبنی ایسے ایسے ہتھ کنڈے استعمال کیے جاتے رہے ہےں جن کا تصور بھی کوئی مہذب انسانی معاشرہ نہیں کر سکتا ۔
مگر گذشتہ چند ہفتوں سے تو دہلی کے ان روایتی حربوں میں خطر ناک حد تک تیزی آ گئی ہے ۔ تبھی تو بھارت کے اوچھے ہتھکنڈوں سے آگاہی رکھنے والے با اعتماد حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم مودی اور ان کے حواری پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی غرض سے کئی نئی طرح کے حربے اعلانیہ اور خفیہ دونوں ڈھنگ سے استعمال کر رہے ہیں ۔
 اسی پیرائے میں با خبر حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ ایک طرف ”را “ ، ” این ڈی ایس “ اور کچھ دوسرے بھارتی مہرے وطن عزیز میں دہشتگردی کے اپنے پرانے طریقوں کو خطرناک حد تک تیز کر چکے ہیں تو دوسری جانب بھارتی سفارت کار اس ضمن میں ہراول دستے کا کردار ادا کر تے ہوئے گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں اپنے میڈیائی رابطوں کو بروئے کار لا کر ایسے عناصر اور خیالات کو پروان چڑھانے کی مکروہ کوشش کر رہے ہیں جن کے ذریعے ان مذکورہ علاقوں میں پاکستان مخالف جذبات کو ابھارا جا سکے ۔
با خبر ذرائع کے مطابق اس ضمن میں مقبوضہ کشمیرکے مختلف علاقوں میں ایسے عناصر کو خاص طور پر تیار کیا گیا ہے جو آکاش وانی اور ٹیلی ویژن کے ذریعے اپنے زہریلے خیالات کو پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں وطن عزیز کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی ،قطعی بے سروپا پروپیگنڈے اور لغو قسم کے افسانے تراشے جارہے ہیں ۔ اور ان حربوں کے ذریعے مقبوضہ ریاست میں جاری انسانیت سوز مظالم سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تناظر میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایک سے زائد مرتبہ اس امر کا مطالبہ کر چکے ہیں کہ انھیں اس بات کی اجازت دی جائے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں جا کر خود زمینی حقائق کا مشاہدہ کر سکیںاور اس حوالے سے باقاعدہ ” فیکٹ فائنڈنگ مشن “ کے قیام کا کہا گیا ۔ مگر چونکہ ہندوستان اچھی طرح جانتا ہے کہ در حقیقت وہ نہ صرف کشمیریوں پر ظلم ڈھانے کا مجرم ہے بلکہ اس کی پوری تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ دہلی سرکار اور اس کے حواری عرصہ دراز سے مقبوضہ ریاست میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو تے رہے ہیں ، اس لئے انھوں نے ” UNCHR “ کو اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا حالانکہ انسانی حقوق کے ان اداروں نے کوئی ایسا مطالبہ نہیں کیا تھا جسے پورا کرنا بھارت سرکار کے بس میں نہ ہو ۔ اگر بھارت سرکار ذرا سی بھی غیر جانبدار ہوتی اور اگر اس کا انسانیت پر ذرا سا بھی یقین ہوتا تو وہ اس بات سے انکار نہ کرتی بلکہ خندہ پیشانی سے ان کا استقبال کرتی ۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھارت کی ان سازشوں کا تفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے اعتدال پسند ماہرین نے واضح کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں بھارت کی منسٹری آف ایکسٹرنل افیئرز سے تعلق رکھنے والے ” اشیش “ نے با قاعدہ طور پر بھارتی وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ضمن میں انھیں فوری طور پر مطلوبہ مدد فراہم کی جائے اور اسی پس منظر میں پاکستان میں تعینات بھارتی سفارت کار اور فرسٹ سیکرٹری پی او ایل ” ستے نارائن ساشتری رگھو رام “ نے محض چند روز قبل یعنی 26 اگست 2016ءکو ایک خصوصی مراسلے میں پاکستان کے خلاف بھارتی کارروائیوں کو تیز کرنے کی بات کی ہے ۔ مبصرین نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی کی ان تمام تر سازشوں کے باوجود اگر بھارت سرکار خود کو بے گناہ اور پاکستان کو قصور وار ٹھہرائے تو اسے ستم ظریفی ہی قرار دیا جا سکتا ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ دہلی کے حکمران اپنی اس مکروہ روش پر نظر ثانی کریں گے ۔