- الإعلانات -

وزیر اعظم اقوام متحدہ میں ۔۔۔۔!

 وزیر اعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ میں کیے گئے خطاب کی، پاکستان میں ،سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر تحسین کی گئی ہے جو اس بات کا اعلان بھی ہے کہ سماج بتدریج فکری پختگی کی طرف گامزن ہے اور وہ وقت زیادہ دورنہیں جب معاملات میں حتمی حیثیت ہیجان ،نفرت اور تعصب کی بجائے دلیل ،اعتدال اور انصاف کو حاصل ہو گی۔سماج کسی انقلاب سے نہیں ارتقاءسے بدلتا ہے اور آثار بتا رہے ہیں ہمارا سماج ارتقاءکی اولین دستکوں سے گونج رہا ہے۔
سیاست کے وہ نامعقول کواڑ جن کی قسمت میں مقفل رہنا لکھ دیا گیا ہے ،بند ہی رہیں گے تاہم بیچ کی راس کے لوگوں اور کسی صف میں کھڑے ان سیاسی کارکنان کو جنہوں نے دیانت اور تدبر کو طلاق بائن کبری نہیں دے رکھی ان دستکوں پر توجہ کرنا ہو گی ۔دنیائے فکر کی مقفل اور زنگ آلود کواڑوں کو وا کرنے کا وقت آن پہنچا ہے ۔مارگلہ کے دامن میں موسم انگڑائی لے رہا ہے ۔لازم ہے کہ اب وقت کا موسم بھی بدلے۔ہمیں اپنی نفسیاتی گروہوں کو کھولنا ہو گا۔اس کے لیے ضروری ہے چند امور پر غور فرمایا جائے۔
1۔آج جس نواز شریف کی تحسین ہو رہی ہے کہ اس نے قومی موقف کا احسن طریقے سے ابلاغ کیا ،کل تک اسی نواز شریف کی حب الوطنی کا آملیٹ بنایا جا رہا تھا ۔اب بات صرف تحسین تک محدود نہیں رہنی چاہیے ہمیں خود سے یہ بھی پوچھنا ہے کہ کل جس شخص نے اقوام متحدہ میں اس قوم کا موقف پیش کیا اس کی شناخت کیا ہے ؟ ملک کے منتخب وزیر اعظم کی یا مودی کے یار کی؟وہ وطن عزیز کا منتخب رہنما ہے یا مودی کا یار ہے اور یہ تو ہمیں اب یاد ہی ہو گیا ہے کہ مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ؟
2۔ہماری فکر کی بنیادوں میں وہ کون سی کجی رہ گئی ہے کہ ہم ہر منتخب وزیر اعظم کو غدار قرار دینے میں ایک لمحہ کا تامل نہیں فرماتے؟لیاقت علی خان کی حب الوطنی ہمارے ہاں ایک سوال، بھٹو غدار،بے نظیر سیکیورٹی رسک،نواز شریف مودی کا یار ۔۔۔غدار۔یہ اتفاق ہے یا ایک منصوبہ ہے کہ جمہوری رہنما کو ہمیشہ اتنا مشکوک بنا کر رکھو کہ جمہوریت کا ستیا ناس کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو یہ کار خیر آسانی سے ہو جائے؟حالات کی نزاکت کی وجہ سے بہت سے سخن ہائے گفتنی فی الوقت نا گفتہ ہی چھوڑ دیتے ہیں اور صرف اسی سوال پر اکتفا کرتے ہیں۔
3۔ہمارے ہاں اہم تزویراتی فیصلے اس وقت ہوئے جب ملک میں جمہوریت نہیں تھی یا تھی تو اتنی کمزور کہ فیصلے پارلیمان میں نہیں ہوئے۔چنانچہ اب ایک بیانیہ بھی مرتب ہو چکا ہے اور ایک ماحول بھی تشکیل پا چکا ہے ۔ ایک منتخب وزیر اعظم اگر سوچنے کا کوئی دوسرا انداز اختیار کرے تو ہم کھڑے کھڑے اس کو غدار قرار دے دیتے ہیں۔ایسا کیوں ہے؟اس بات کا تو بالکل امکان موجود ہے کہ وزیر اعظم کے سوچنے کا کوئی زاویہ مکمل طور پر غلط ہو ،ایسے کسی بھی زاویے پر نقد بھی ہوتا رہنا چاہیے کہ جمہوریت میں چیک اینڈ بیلنس ایک بنیادی چیز ہے لیکن کیا اس پر منتخب وزیر اعظم کو غدار قرار دے دینا ایک صحت مند سوچ کہلائی جا سکتی ہے ؟اگر قومی مسائل پر مختلف انداز میں سوچنے کا حق ہم منتخب وزیر اعظم کو بھی نہیں دے رہے تو پھر یہ حق کس کو ہے؟ میری رائے میں تو ان مسائل پر مختلف زاویوں سے سوچنے کا سب سے زیادہ استحقاق ایک منتخب وزیر اعظم کو حاصل ہوتا ہے ۔اختلاف رائے ہونا چاہیے ۔یہ بات بھی درست ہے کہ وزیر اعظم عقل کل نہیں ۔ایک نہیں وہ ایک سو غلطیاں کر سکتا ہے لیکن ہمیں اپنی نفسیاتی گروہوں کو کھول کر قومی مسائل پر غور کرنے کی روش اپنانی چاہیے ۔ یاد رکھیے منتخب وزیر اعظم غدار نہیں ہوتا۔سیاسی مخالفت کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ غداری کی اسناد جاری کرنا شروع کر دی جائیں۔
اعتدال کا راستہ سب سے اچھا راستہ ہے۔جمہوری عمل اور پارلیمان کا احترام ہونا چاہیے ۔
اسی طرح فوج کا بطور ادارہ احترام ہونا چاہیے۔بطور ادارہ فوج کے احترام کا مطلب یہ نہیں کہ آمروں کو گوارا کر لیا جائے اور آمروں سے بے زاری کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ فوج کو بطور ادارہ سینگوں پر لے لیا جائے۔ دونوں مختلف چیزیں اور ہیں اور ہر دو کے ساتھ معاملہ بھی الگ الگ ہونا چاہیے۔
ہر ریاستی ادارے کی افادیت ہے اور یہ افادیت مسلمہ ہے ۔ جدید ریاست کھڑی ہی اسی تقسیم کار کے اصول پر ہے۔اس نے طے کر دیا ہے کہ کون سا کام کس نے کرنا ہے ۔امن ایک نعمت ہے لیکن اگر جنگ مسلط ہوتی ہے تو دفاع وطن کا مقدس فریضہ افواج پاکستان نے انجام دینا ہے ۔زخمیوں کی دیکھ بھال ڈاکٹر حضرات کریں گے۔سفارتی محاذ پر وزیر اعظم اور دفتر خارجہ بروئے کار آئیں گے۔گویا ذمہ داریوں کی تقسیم سے جدید ریاست نے سماج میں ایک توازن پیدا کر دیا ہے ۔یہ توازن ہر حال میں قائم رہنا چاہیے۔اس کےلئے ہمیں اپنی نفسیاتی گروہوں کو کھولنا ہو گا۔مگر عرض ہے منتخب وزیر اعظم غدار نہیں ہوتا۔