- الإعلانات -

ڈنڈا برداریا بلا بردار، قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں

زیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ میرٹ، انصاف اور قانون کی عملداری کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو ان اصولوں کو اپناتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے پولیس سمیت دیگر تمام محکموں میں میرٹ کی پالیسی کو اپنایا ہے کیونکہ میرٹ کے بغیر ترقی کی منزل حاصل نہیں کی جا سکتی۔ کسی بھی معاشرے کی بقا کیلئے انصاف اہم ستون ہے۔ جن معاشروں میں انصاف کا بول بالا نہیں ہوتا وہ تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ تھانوں کو مظلوم اور بے سہارا افراد کی داد رسی اور انصاف کی فراہمی کا ذریعہ بننا ہو گا۔
شہباز شریف نے ایلیٹ پولیس ٹریننگ سکول بیدیاں لاہور میں پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھانوں میں چور کو چوہدری، ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنا کر پیش کرنے کے کلچر کا خاتمہ کرنا ہے۔ دیگر شعبوں کی طرح انصاف کی فراہمی کا شعبہ بھی انحطاط کا شکار رہا ہے اور ہمیں اسے بدلنا ہے۔ جن کے پاس سفارش یا پیسہ نہ ہو وہ انصاف کے حصول کے لئے رل جائیں اور جو پیسے سے تھانوں اور کچہریوں میں انصاف خرید لیں اس سے بڑا ظلم اور ہو نہیں سکتا۔ وقت آگیا ہے کہ اب ہمیں اس کلچر کو ختم کرنا ہے۔ میری سینئر پولیس افسروں اور پولیس فورس سے اپیل ہے کہ انصاف، انصاف اور انصاف کے سوا صوبے میں دوسری کوئی اور بات نہیں ہونی چاہئے۔
وزیراعلی نے کانسٹیبل کا گریڈ 5 سے بڑھا کر 7، ہیڈ کانسٹیبل 7 سے بڑھا کر 9اور اے ایس آئی کا گریڈ 9 سے بڑھا کر 11 کرنے اور سوا لاکھ سپاہ کو مراعات دینے کیلئے ہیڈ کانسٹیبل رینک میں 13 ہزار نئی اضافی آسامیوں کا اعلان کیا۔ پنجاب پولیس کے سپاہ میں جو جوان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کریں گے ان کے ورثا کو دی جانے والی مالی امداد کو 50 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح افسر جو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کریں گے ان کی مالی امداد میں بھی 50 لاکھ روپے اضافہ کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلی نے پولیس کے شہدا کی لازوال قربانیوں کی یاد میں ایک بڑے پارک میں یادگار شہدا بنانے کا بھی اعلان کیا۔
وزیر اعلی نے کہا کہ چند سال قبل یہ تاثر موجود تھا کہ پولیس دہشت گردی کے چیلنج سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اللہ کا شکر ہے کہ پنجاب میں آج ایسی کوئی صورتحال نہیں۔ ہمیں دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ یہ ایک بڑ ا چیلنج ہے جس کو قبول کرتے ہوئے عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہے۔ سفر طویل ہے لیکن عزم، جذبہ، ہمت اور حوصلہ موجود ہوتو کوئی پہاڑ اورسمندر راستے میں حائل نہیں ہو سکتا۔ سی پیک پاکستان کے لئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے اور اگر خدا نخواستہ سی پیک خراب ہوا تو پاکستان کی قسمت خراب ہو جائے گی۔ سی پیک کے منصوبوں میں تاخیر پیدا کرنے والے ہوش کے ناخن لیں۔ ملک احتجاج اور انتشار کی سیاست کا کسی طور پر بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔ 800 سب انسپکٹرز مزید بھرتی کئے جائیں گے جبکہ سی پیک کے منصوبوں اور چینی انجینئرزکی حفاظت کیلئے خصوصی یونٹ بنایا گیا ہے جو 5000 اہلکاروں پر مشتمل ہے تا ہم ان کی تعداد جلد 10ہزار تک پہنچ جائے گی۔ سی پیک ہماری آئندہ نسلوں کی خوشحالی کا منصوبہ ہے اور اسے ہمیں ہر حال میں مکمل کرنا ہے۔
وزیر اعلی نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں کسی کو ملک کی ترقی میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔ ڈنڈا بردار ہو یا بلا بردارہو کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس سی پیک کے تحفظ کیلئے جان لڑا دے۔ جن لوگوں نے 2014ء میں چینی صدر کا دورہ ملتوی کرایا اب وہ پھر باہر آگئے ہیں اور ترقی وخوشحالی کی خوشبو کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
پولیس سسٹم میں اصلا حا ت سے بہتر ی آ رہی ہے اور شہریو ں کے جا ن و مال کے تحفظ کو یقینی بنا یا جارہا ہے۔حکومت پنجاب کی پولیس نظام میں انقلا بی تبدیلیو ں کے باعث تھا نو ں کے ما حو ل میں بہترآئی ہے اور عا م آ د می کا اعتماد بحا ل ہو رہا ہے۔معاشر ے میں قیا م امن اور عدل وانصاف کی فرا ہمی کیلئے تما م وسائل بروئے کا ر لائے جائیں گے۔ ہما را مقصد عا م شخص کو ریلیف فرا ہم کر نا اور اس کی مشکلات اور مسائل کو حل کر نا ہے۔دعا ہے کہ ہما ر ی پولیس جذ بے کے تحت لوگو ں کے جا ن و ما ل کا تحفظ موثر طر یقے سے کر یں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے تھانوں میں شکایات کے اندراج کے لئے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کوانتہائی ضروری قرار دیدیا۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ عام آدمی کو انصاف کی فوری فراہمی کیلئے پولیس کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے عام آدمی کو تھانوں میں فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ مانیٹرنگ کا موثر نظام وضع کر کے پولیس کی کارکردگی میں بہتری لانے کیلئے مزید اقدامات اٹھائے جائیں۔