- الإعلانات -

بھارتی جنگی جنون، پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے کئی مقامات پر بوفرز توپیں سمیت بھاری اور درمیانے ہتھیار پہنچانے شروع کردئیے ہیں اور انتہا پسند بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا پورا دن ملٹری آپریشن میں گزارنا جہاں جنگی جنون کا آئینہ دار ہے وہاں بھارت کے مذموم عزائم کی بھی عکاسی کرتا ہے ۔ اوڑی حملے کے بعد بھارتی فوج کی غیر معمولی سرگرمیاں اور پاکستان پر بے سروپا اور من گھڑت الزمات اس کے مخاصمانہ رویے کا ثبوت ہیں۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فوجی نقل و حرکت تیزکردی ہے اور دوسری طرف پاکستان کی فضائیہ نے ملک کے شمالی حصے کی فضائی حدود اور موٹر ویزے کو بند کر کے جنگی مشقیں مکمل کر لی ہیں۔لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی طرف سے بھاری اور درمیانے توپے خانے کی نقل و حرکت کی بھارت کے اعلی دفاعی اہلکاروں نے بات چیت میں تصدیق بھی کی۔ بوفرز توپوں اور 105 درمیانی رینج کی دوسری توپوں کو اوڑی کے چڑی میدان، موہرا اور بونیار میں نصب کیا جا رہا ہے۔ سونہ مرگ میں بھی بڑے ہتھیاروں کی تنصیب ہو رہی ہے۔ ان مقامات سے آزاد کشمیر مِیں پاکستان کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے موسم سرما شروع ہونے اور برف پڑنے سے پہلے اس کی ہر سال کی معمول کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ لیکن اس بار کی تیاری میں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کنٹرول لائن پر بوفرز توپوں، اور دیگر طرح کا جنگی ساز و سامان سرحد پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ خفیہ بیورو سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر فوج یہ تیاری کر رہی ہے۔ گزشتہ روز سرینگر ہوائی اڈے پر مگ 21 ساخت کا ایک جنگی طیارہ حادثہ کا شکار ہوگیا تھا، تاہم پائلٹ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔فوجی حکام نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا مگ طیارے کی پرواز کسی جنگی تیاری کا حصہ تھی۔ ہماری تنصیبات اور پاکستانی اہداف کے تازہ سروے کے بعد اسلحہ اور جنگی سازوسامان کی نقل و حرکت ہو رہی ہے۔ میں بھارتی فوج کے دعوے کے حوالے سے کہاگیاکہ فوج کو اطلاع ملی ہے کہ شدت پسند مبینہ طور پر سرحد پار سے دراندازی کی تیاری میں ہیں۔شمالی کشمیر کے مختلف حصوں میں اگلے مورچوں پر تعینات مسلح افواج کے دستوں کو متحرک اور ضروری جنگی مواد پہنچانا شروع کر دیا گیا تھا۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیرمیں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ کنٹرول لائن کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں بھارت اور پاکستان کی حقیقی سرحد پر دو جگہوں پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ اڑی حملے کے بعد بھارت میں پاکستان کے خلاف فوجی کاروائی کے شدید مطالبوں کے پس منظر میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب جنگی طرز کی فوجی نقل و حرکت سے سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس کی لہر پھیل گئی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ محمد نفیس زکریا نے کہاہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کے ہرصورت میں دفاع کے لیے تیا ر ہیں ،پاکستانی فوج اور قوم ملکی سا لمیت پر کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں،اڑی حملے کے بعد بھارت نے بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام لگایا ، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے پیدا ہونے والی صورتحال خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ دنیا کی توجہ حاصل کر چکا ہے، ا قوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم نے کشمیر کا مقدمہ مضبوط انداز میں پیش کیا،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ثبوت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو دئیے ، فیکٹ فائنڈنگ مشن مقبوضہ کشمیر بھیجنے کا مطالبہ کیا،اقوام متحدہ اور او آئی سی کے سیکریٹری سمیت دنیا کے دیگر ممالک نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کی مزمت کی ،براہمداغ بگٹی کو بھارتی شہریت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت اور پاکستان میں دہشت گردی کو فنڈنگ کررہا ہے۔ بھارت خوش فہمی میں نہ رہے ۔ پاکستان کسی بھی حملے کا جواب دینے کیلئے تیار ہے اور پاک فوج وطن کے دفاع سے غافل نہیں ہے اور بھارت کا جنگی جنون کو ہوش میں لانے کیلئے پاک فوج کے بہادر سپاہی تیار ہیں ۔ مکار دشمن خطے کے امن کو تباہ کرنے اور بھارتی مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے لیکن پاکستان اس کیلئے تیار ہے۔
دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مسلح افواج قانون نافذ کرنے والے اداروں، معصوم شہریوں پرحملوں، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ وارداتوں سمیت سنگین جرائم میں ملوث مزید 7 دہشت گردوں کی سزائے موت کے فیصلوں کی توثیق کردی ہے ۔ فوجی عدالتوں نے جرم ثابت ہونے پر ان دہشت گردوں کو موت کی سزا سنائی تھی جن دہشت گردوں کی سزائے موت میں توثیق کی گئی ان میں محمد قاسم ، عابد علی ، محمد دانش ، جہانگیر حیدر، معتبر خان، رحمان الدین شالم ہیں۔ فوجی عدالتیں فوری انصاف کی فراہمی میں جو کردار ادا کرتی چلی آرہی ہیں وہ قابل صد تعریف اور داد بیداد ہے۔ فوجی عدالتوں کے ذریعے دہشت گرد عبرت کا نشان بن رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جہاں ایک طرف آپریشن ضرب عضب جاری ہے جو اپنے مطلوبہ اہداف پورے کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ آپریشن کی کامیابی کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اب تک سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے اور ان کے نیٹ ورک کو توڑنے کے ساتھ ساتھ ان کے ٹھکانے تباہ کردئیے گئے ہیں اور پاک فوج کے بہادر سپاہیوں اور افسروں نے کئی علاقے دہشت گردوں کے تسلط سے واگزار کروالئے ہیں۔ دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا جو انتہائی موثر انداز میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کررہی ہیں اور ان کی کارکردگی لائق تحسین ہے۔ دہشت گردی کے ناسور نے ملک میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کررکھا ہے اورلوگ عدم تحفظ کا شکار چلے آرہے تھے اور ہر طرف دھماکوں اور خودکش حملوں نے خوف و ہراس پھیلانا شروع کیا تو آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا اور بعدازاں فوجی عدالتی قائم کی گئیں جن کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ دہشت گردی میں بھارت کا عمل دخل اس قدر بڑھ گیا کہ وہ اپنی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے دہشت گردانہ کارروائیوں پر اتر آیا جس کے خلاف موثر حکمت عملی کارگر ثابت ہورہی ہے ۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہی ملک میں امن کی بحالی اور خوشحالی کا ذریعہ قرار پاسکتا ہے۔
انسانی حقوق کمیشن کی پاکستانی موقف کی حمایت
وزیر اعظم نواز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ بھارتی فورسز کے تشدد اور جارحیت سے اب تک 107 سے زائد کشمیریووں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ جس کی وجہ سے اب وہاں کے لوگ بہت زیادہ غصے میں ہیں۔ پاکستان پر الزامات لگانا بھارت کی عادت بن چکا ہے بلاجواز الزامات لگانا غلط ہے اب اس نے سوپور واقعہ کی ذمہ داری بھی پاکستان پر ڈال دی ہے۔ پاکستان دہشتگردی کی بھاری قیمت چکا رہا ہے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔پاکستان امن کا داعی ہے ۔ اب تک ہونے والی تمام ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا، وزیراعظم کے دورے کا مقصدصرف مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا تھا ، امریکہ اور اقوام متحدہ کو کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کے ثبوت دئیے گئے، یہ مسئلہ صرف دو ملکوں کا نہیں بلکہ اقوام متحدہ کا بھی ہے