- الإعلانات -

بھارتی مکروہ چہرہ اور پاکستان کا کردار

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت یکطرفہ طورپر نہ تو سندھ طاس ختم کرسکتا ہے اور نہ ہی اسے معطل اس کی خلاف ورزی کرسکتا ہے ۔ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے ۔ بھارتی مداخلت کے تفصیلی شواہد تیار کررہے ہیں اقوام متحدہ اور دیگر اہم ممالک کو بجھوائے جائیں گے۔ عالمی بینک معاہدے میں سہولت کار اور ضامن بھی ہے۔ بھارت تین دریاؤں کا پانی استعمال کرسکتا ہے روک نہیں سکتا ۔ پاکستان کسی بھی قسم کا دباؤ قبول نہیں کرے گا۔ پاکستان نے اس ضمن میں عالمی بینک سے رجوع کرلیا ہے۔ بھارت نے پانی روکا تو یہ جنگ تصور ہوگی ۔ سرتاج عزیز نے درست کہا ہے پانی روکنا جنگ کرنے کے مترادف ہے۔ بھارت ایک طرف مقبوضہ کشمیر بھی مظالم ڈھا رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے اندر دہشت گردی کروانے کے ساتھ ساتھ اب پانی کی بندش کی دھمکی دے رہا ہے۔ بھارت کا یہ جارحانہ رویہ پاکستان کیلئے سخت تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور اس کی خواہش ہے کہ بھارت کے ساتھ تمام متنازعہ مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہوں لیکن بھارتی مخاصمانہ انداز دوطرفہ تعلقات کو خراب کرنے کاذریعہ قرار پارہا ہے ۔ نریندر مودی کبھی جنگ کی اور کبھی پانی روکنے کی دھمکی دے رہا ہے جو اس کی انتہا پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو دشمن کے دانت کھٹے ہونگے کیونکہ پاکستان کی افواج اپنے وطن کیلئے جان قربان کرنے پر فخر محسوس کرتی ہیں اور جذبہ شہادت اس کی طرہ امتیاز کیفیت ہے ۔ بھارت بخوبی جانتا ہے کہ پاک فوج وطن کے دفاع میں تغافل پسند نہیں ہے اور اس میں وہ صلاحیت موجود ہے جو ایک بہادر فوج میں ہونی چاہیے ۔ 1965 کی جنگ میں عملی طورپر بھارت نے پاک فوج کے لڑنے کے جوہر دیکھے ہوئے ہیں پھر اس فوج کو للکارنا بھارتی حماقت ہی کہی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی پرامن کوششوں کو کمزوری نہ گردانا جائے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اور عوام ایک ساتھ ہیں اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جوا ب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت کیلئے بہتر ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرے ۔ عالمی ادارں کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھارت پر اپنا دباؤ بڑھائیں اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل نکالیں ۔ بھارت خطے کو تباہی کی طرف لے جارہا ہے جس کے انتہائی بھیانک نتائج برآمدہونگے۔ بھارت کی مکاری سے دنیا بخوبی آگاہ ہے اور وہ جانتی ہے کہ بھارت کے عزائم کیا ہیں وہ کیا چاہتا ہے ایک طرف وہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے کی ناکام کوشش کررہا ہے تو دوسری طرف کبھی جنگ کی دھمکی دے کر اور کبھی پانی کی بندش کی دھمکی دے ک اپنی دھاک بٹھانا چاہتا ہے لیکن پاکستان اس طرح کی گیدڑ بھبھکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا ۔ عالمی بینک کو بھارتی رویہ کا نوٹس لینا چاہیے ۔ پانی روکا گیا تو پاکستان اس کا شدید ردعمل دے گا ۔ بھارت کیلئے بہتر ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرے اور اس طرح کا رویہ ترک کرے۔ بھارت ہمیشہ جارحانہ انداز اپناتا چلا آرہا ہے جس سے خطے میں بدامنی کے بادل منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ خطے میں پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔ عالمی اداروں کو اس ضمن میں اپنا بھرپورکردار ادا کرنا چاہیے۔
پاک فوج کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کیلئے تیار
ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ مشرقی سرحد پر نظر ہے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ راجگال کی پہاڑیوں پر پاک افغان سرحد کی کلیئرنس کردی گئی خفیہ معلومات پر یکم جولائی سے 1400 آپریشنز ہوچکے ہیں۔ ورسک حملے کے دو ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ راجگال کی پہاڑیوں پر جوان مورچہ زن ہیں اور بارڈر مینجمنٹ کی بیس فیصد پوسٹیں مکمل ہوچکی ہیں۔ چیک پوسٹیں مکمل ہونے سے بارڈر پر نقل و حرکت ختم ہوجائے گی ۔ وارسک کی کرسچن کالونی میں چار خودکش حملہ آوروں نے کارروائی کی تھی حملے میں دہشت گردوں کے چار سہولت کار شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ کرسچن کالونی پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی گرفتار دہشت گردوں کے قبضے سے خودکش جیکٹس بھی برآمد کیں۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے گیارہ واقعات کو ناکام بنایا ہے اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے افغان حکومت اور انٹیلی جنس اداروں سے رابطے میں ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے 75 فیصد افراد گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔ ٹی ڈی پیز کی بحالی میں ہر ممکن مدد کرنا ہوگی۔ سہولت کار خواتین کو بھی گرفتار کیا ہے۔ باعزت طریقے سے ر کھاگیا ہے اور سہولت کاروں کا نیٹ ورک گھیرے میں آرہا ہے۔افغانستان کے تعاون سے ہی بارڈر مینجمنٹ کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ کوشش ہوگی کہ آنے والے دنوں میں افغانستان اپنی سرحد پر سکیورٹی بڑھائے اور مشرقی سرحد پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور پوری طرح تیار ہیں ۔ کے پی کے کے لوگ اپنے ارد گرد کے علاقوں پر نظر رکھیں ۔پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری کے ساتھ بات کی کبھی جھوٹا الزام نہیں لگایا۔ پاکستان میں کئی حملے ہوئے لیکن کبھی کسی پر انگلی نہیں اٹھائی۔ سہولت کار خواتین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔ پاکستان پر بغیر ثبوت کے الزام لگا دیئے جاتے ہیں۔ اڑی حملے میں بھارتی الزامات پر ہمیں افسوس ہے۔ پاک فوج کی نظریں سرحدوں پر بھی مرکوز ہیں وہ ایک طرف دہشت گردوں سے برسرپیکار ہے تو دوسری طرف مکار دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار بیٹھی ہے۔ دشمن نے ہوشن کے ناخن نہ لئے تو پھر خطے کی تباہی کا ذمہ دار خود ہی ہوگا ۔ بھارت کے الزامات بے بنیاد اور بے سروپاا ہیں ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ بھارت کا جنگی جنون اس کی تباہی کا باعث بنے گا۔
وزیراعظم نا اہلی درخواستیں سماعت کیلئے منظور
سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے متعلق عمران خان ، سراج الحق ، وطن پارٹی اور طارق اسد کی درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرکے سماعت کیلئے منظور کرلیں ۔ سماعت اوپن ہوگی ۔ رجسٹرار کی طرف سے درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دینا درست نہیں۔ سماعت تین رکنی بنچ کرے گا ۔ پانامہ کا ہنگامہ حکومت کیلئے درد سر بنتا جارہا ہے ۔ سینٹ میں پانامہ لیکس کی تحقیقات کی قرارداد کی منظور کے بعد حکومت کیلئے دوسرا بڑا دھچکا ہے ۔ عدالت عظمیٰ ٹی او آرز بنا کر تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لیتی اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرتی تو آج یہ شورنہ ہوتا حکومت کی ہٹ دھرمی سے معاملات بگڑتے چلے گئے اور اپوزیشن احتساب کا ایک تواتر سے مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے اور ہر طرف پانامہ کا شور سنائی دیتا ہے ۔ سپریم کورٹ کا درخواستوں کو یکجا کرکے سماعت کیلئے منظور کرنا لائق تحسین ہے۔ اب عدالت جو بھی فیصلہ دے گی وہ یقیناً قابل قبول ہوگا۔ عوام کی نگاہیں عدلیہ پر لگی ہوئی ہیں اور عوام پانامہ میں انصاف کے متقاضی ہیں۔