- الإعلانات -

میاں صاحب !ہمت کریں

کشتی دریا میں اتری ،خانسامے کولگاکہ وہ ڈوب جائے گا ،اس نے چلانا شروع کردیا، چیخ و پکار سے بادشاہ کا سکون غارت ہوگیا، وزیرنے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا ،کنارے پر کھڑے مچھیرے نے مسئلہ سلجھانے کی اجازت مانگی ، اندھاکو کیا چاہیے دو آنکھیں ، بادشاہ نے اجازت دی ، مچھیرا کشتی میں آیا، خانسامے کو بالوں سے پکڑکرسمندرمیں پھینک دیا، دوتین غوطے کھانے کے بعد جب وہ واپس کشتی میں آیا تو سکون سے ایک طرف بیٹھ گیا، بادشاہ بڑا حیران ہوا، اس نے مچھیرے سے پوچھا کہ یہ کیسے ہوگیا؟ مچھیرے نے جواب دیا’’یہ سمندر سے ناواقف بھی تھااور خوفزدہ بھی،سمندر میں جانے کے بعد یہ اس سے مانوس ہوا، اور غوطے کھانے کے بعد اس کا ڈرختم ہوا،یوں مسئلہ ختم ، بادشاہ نے پوچھا میرا لائق وزیر یہ مسئلہ کیوں حل نہ کر سکا؟ اس نے جواب دیا سمندر، وزیر کا شعبہ نہیں تھا ، یہ نہ کبھی سمندر میں اترا نہ ہی کبھی اس کی تباہی کا شکار ہوا ، اس لیے وہ اس کا حل نکالنے سے بھی قاصر رہا ۔ بادشاہ مچھیرے کی منطق سے متفق نظر آنے لگا۔
آپ اس کہانی کے کرداروں کو سامنے رکھیں تو آپ کو پاکستان کے سرکاری سکولوں کی حالت زار سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی۔جس طرح یہاں امیر لوگ غربت پر بحث کرتے ہیں ، کروڑوں روپے کی ماہانہ آمدنی والے پندرہ ہزار تنخواہ لینے والے مزدورکابجٹ بناتے ہیں ، منرل واٹر پینے والے پانی کی قلت اور آلودگی کا حل تلاشتے ہیں ، سولر سسٹم اور جنریٹر زکی سہولیات سے مستفید ہونے والے لوڈشیڈنگ کی بات کرتے ہیں ، بیرون ممالک سے علاج کرانے والے ہیلتھ منسٹر بنادئیے جاتے ہیں،بالکل اسی طرح تعلیم کوبزنس بنانے والے ،نجی تعلیمی اداروں کو فروغ دینے والے ، سرکاری سکولوں کا نام آنے پر ناک بھوں چڑہانے والے سرکاری سکولوں کے کرتے دھرتے بن کر مسائل کا ’’ حل‘‘ نکالتے ہیں۔
1999 ء کے بعد سرکاری سکولوں میں زوال کا سفر شروع ہواجوابھی تک جاری ہے ۔ پرویزمشرف اور ہمنواؤں نے یورپ کی تقلید میں کچھ ایسے اقدامات کیے کہ جوبروقت نہ تھے، بے شک وہ اقدامات ااچھے ہوں گے مگر کسی بھی قسم کا تجربہ کرنے سے پہلے ماحول کو سازگار بنایاجاتاہے ،چونکہ اس بات کا خیال نہ رکھاگیالہذا نتیجہ یہ نکلا کہ کوّا ہنس کی چال تو کیاچلتا اپنی بھی بھول گیا،مثلا اس دور میں ایک نعرہ لگایا گیاکہ مارنہیں پیار، مقصد یہ تھا کہ سزاکی حوصلہ شکنی ہو تاکہ بچوں کی عزتِ نفس مجروح نہ ہومگر بسا آرزوکہ خاک شدہ۔ ’’پیار نہیں مار‘‘کے نعرے کا اثربھی الٹا ہوا، سٹوڈنٹس کے دلوں سے خوف اور احترام کی چڑیا اڑگئی ، سٹوڈنٹس اپنی مرضی سے سکول آنے لگے کیونکہ انہیں اندازہ ہوچکا تھا کہ جواب طلبی کرنے والے اب جوابدہ ہیں ،اس طرح حاضری کم ہوگئی ، ہوم ورک کا تصور ختم ہوگیا ، سبق یادنہ کرنا وطیرہ بن گیا،رزلٹ خراب آنے لگے ،نتیجہ یہ نکلاکہ والدین نے نجی اداروں کا رخ کرلیاکیونکہ سرکاری سکولوں میں لڑکوں پر چیک اینڈ بیلنس قائم رکھنے والوں کوبے بس کردیا گیا تھا۔’’اہل نظر‘‘ کی بارگاہوں میں اس بگاڑکاواحد ذمہ دارٹیچرتھا، کیونکہ جن کی پالیسیاں اس بگاڑ کا سب تھیں ان کی گردنیں موٹی تھیں ،لہذا پھندے اساتذہ کی گردن میں ڈال دیئے گئے۔
بگاڑکو یہ پالیسی ہی کم نہ تھی کہ سونے پر سہاگا (سہاگہ، غلط لفظ ہے)یہ ہوا کہ ’’ویمن رائٹس‘‘کے نام پر بوائز سکولوں میں بھی خواتین ٹیچرزکی تعیناتی شروع ہوگئی ،یہ اقدام پرائمری کی حد تک ہوتاتوٹھیک تھا مگر اسے مڈل اور ہائی حصے تک پھیلادیاگیا،سکولوں میں سٹاف کی کمی تھی ،لہذا خواتین کو بھی بڑی کلاسز میں بھیجنا پڑگیا،جب ان لیڈیز ٹیچرز نے آٹھویں ، نہم اور دہم کی کلاسوں کا رخ کیاتووہاں سٹوڈنٹس نے ان کی تصاویر بھی لیں، ان پر آوازے بھی کسے اور ان سے بدتمیزی بھی کی ،یوں رائٹس کے نام کیا گیا یہ اقدام رانگ نکلا،ان سٹوڈنٹس کو روکنے والابھی کوئی نہ تھا کیونکہ اگر سختی کی جاتی تو ’’مارنہیں پیار‘‘ کی تلوار سر کاٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار تھی، اگر بدتمیزی کرنے پر ان کوسکول سے نکالاجاتا تو بھی یہ ’’جرم‘‘ناقابل معافی تھا۔ ’’ مار نہیں پیار‘‘ کا نعرہ لگانے والے یہ بات بھول گئے تھے کہ بچے کا سفر گھر سے شروع ہوتا ہے ، ماں کی گود ہی اس کی پہلی درسگاہ ہے ، جہاں پیار اور مار میں توازن رکھا گیا ، ماں کاپیار اس کا حوصلہ قائم رکھتا ہے جبکہ باپ کی سختی اسے ایک حد کے اندر رکھتی ہے ،کاش ’’مارنہیں پیار‘‘ کا نعرہ لگانے والے فطرت کے اس پہلے سبق کو یاد کرلیتے توآج ماتم کدے کی بجائے شادمانی کی کیفیت ہوتی۔
جب ماحول خراب ہوگیاتو’’ بہتری ‘‘ لانے کے لیے ٹیچرز کی انکریمنٹس بند کی گئیں،انہیں سزائیں دی گئیں ،معطل کیاگیا، دوردرازتبادلے کئے گئے ، مانیٹرنگ کا نظام لایا گیا،سب کچھ کیا گیا مگربے سود،مرض کی تشخیص کے بغیر ہی علاج جاری رہا اوریوں مریض ICUمیں چلاگیا۔میاں صاحب ! آپ ایک کام کریں ، آئندہ جب بھی تعلیم کے حوالے سے’’اعلیٰ سطحی ‘‘ اجلاس ہو تو اپنے اردگردبیٹھے ہوئے لوگوں سے صرف ایک سوال پوچھ لیں کہ تم میں سے کتنے لوگوں کے بچے سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم ہیں؟ اگر یہ سوال خود سے بھی پوچھ لیں تو اچھا ہے ،اس سوال کا جواب ہی ’’Master Key‘‘ ہے ،اس سے تمام لاک کھل جائیں گے ۔کیا ایساہوسکتا ہے ؟ ہاں ہو توسکتاہے مگرہوگا نہیں کیونکہ خانساماں کبھی سمندر میں اترا ہی نہیں، اسے چپ وہ وزیر کرارہا ہے جو مسئلے کو سمجھتاہی نہیں اور وہ مچھیراجس کے پاس مسئلے کاحل ہے ، وہ اجازت ملنے کا منتظر ہے ۔