- الإعلانات -

دو کلیدی الفاظ

uzairahmedkhanابھی تو آغاز ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ۔شنید ہے کہ سندھ میں بہت ساری زمینوں کی الاٹمنٹس منسوخ ہونے جارہی ہیں ۔ظاہر ہیں وہاں پر چائنا کٹنگ کا اتنا بڑا ایشو سامنے آچکا ہے کہ بس اگر اس کو اس صدی کا بوفرسکینڈل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔اربوں کھربوں کی زمینیں کوڑیوں کے بھاﺅ چاہنے والوں میں بندر بانٹ کی طرح تقسیم کردی گئیں ۔جب وہاں پرآپریشن شروع ہوا ،چھاپے پڑے تو بہت ساری چیزیں سامنے آنا شروع ہوگیئں ۔ریکارڈز کے بیگز کے بیگز قبضے میں لے لیے گئے پھر تحقیقات ہوئیں تو بہت سے سفید پوشوں کے نام سامنے آنے لگے بھلائی اسی میں جانی جانے لگی کہ بہتر ہے کہ الاٹمنٹس کو ہی منسوخ کردیا جائے ۔حقیقت دراصل کچھ اس طرح ہے کہ اس حمام میں سارے ہی ننگے ہیں ۔بہت سارے لوگوں کے نام واشگاف ہونگے عوام کو پتہ چلا کہ کس کس طرح قومی املاک پرڈاکہ ڈالا گیا ۔بہتر تو یہ ہے کہ پاکستان میں جو باقی دیگر صوبے ہیں وہ بھی ہوش کے ناخن لیتے ہوئے نوشتہ دیوار پڑھ لیں ۔جیسا کہ راقم متعدد بار اس چیز کا اظہار کرچکا ہے کہ باریاں تو لگ چکی ہیں بس وقت کا تعین ہونا ہے ۔دھیرے دھیرے ہونے والی صفائی ملک اور قوم کے انتہائی مفاد میں ہے ۔کرپشن کو اب اس طرح ختم کیا جائیگا جس طرح کہ ختم کرنے کا حق ہے ۔اس میں نہ تو کسی کو چیخنے چلانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی واویلا مچانے کی ۔کیونکہ یہ کرپشن اس ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔آج سندھ میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا دائرہ کار آہستہ آہستہ وسیع ہوتا جائیگا ۔کچھ باتیں طے ہیں ،کچھ فیصلے ہوچکے ہیں ،مگر قبل از وقت ان کا تذکرہ کردینا کوئی ہوشمندی کا ثبوت نہیں ۔کیونکہ اگر پہلے سے ہی اطلاعات مل جائیں تو پھر گھپلے کرنے والے فرار ہونے کے راستے تلاش کرلیتے ہیں ۔بات دراصل یہ ہے کہ کسی کو بھی کسی طرح خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہنا چاہیے جس جس نے بھی کرپشن کی ہے اس کی باری ضرور لگے گی ۔بہتر ہے کہ خود ہی ساری چیزوں کو وقت آنے سے پہلے صاف شفاف طریقے سے کردیں تاکہ سبکی برداشت نہ کرنا پڑے ۔وفاقی دارالحکومت میں ہی کچی آبادیوں کے نام پر اربوں روپے کی زمین پر بڑے بڑے قابض بیٹھے ہوئے ہیں ۔مگر مجال ہے کہ سی ڈی اے ان سے خالی کرا سکے ۔بہت زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ۔جی فورٹین ون ،ٹو ،تھری کو دیکھ لیا جائے ۔پتہ نہیں کتنے سال گزر چکے ہیں ابھی تک وہاں سے زمین قابضین سے واگزار نہیں کرائی جاسکی۔کہا جاتا ہے کہ ایوارڈ بھی ہوچکے ہیں مگر مسائل جوں کے توں برقرار ہیں ۔اس کو بھی چائنا کٹنگ کے ہی زمرے میںلانا چاہیے ۔آخر ایسے اداروں کا کیا فائدہ ہے جو حکومت کیلئے سفید ہاتھی بنتے جارہے ہیں ۔نہ ہی ان کی کوئی کارکردگی سامنے آتی ہے اور نہ ہی کوئی آﺅٹ پٹ ۔اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت سے نکل کر پنجاب کی طرف روانہ ہوا جائے تو وہاں بھی چائنا کٹنگ کے بہت سارے معاملات درپیش آئیں گے ۔دیگر صوبوں میں بھی چھان پھٹک کی ضرورت ہے ۔یہ تو ایک چائنا کٹنگ کا ایشو ہے اس کے علاوہ اور بہت سے ایسے معاملات ہیں جس میں ملک وقوم کے خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا ۔مزے کی بات تو یہ ہے کہ اب بہت سارے لوگ ببانگ دہل کچھ معاملات کوتسلیم بھی کررہے ہیں جیسے کہ نندی پور پاور پراجیکٹ کا مسئلہ زیر غور ہے ۔جب اس میں کچھ افراد کو ذمے دار ٹھہرایا جارہا ہے اور کچھ نے ذمہ داری بھی قبول کرلی ہے انہیںتو فی الفور پابند سلاسل کرنے کی ضرورت ہے ۔ان سے ہی تفتیش کے بعد بہت سارے مسائل حل کی جانب گامزن ہوجائیں گے ۔کیونکہ حکومت کا سب سے احسن اقدام یہ ہے کہ اس نے کہا ہے کہ اب وہ سہولت اور معاونت کاروں کو بھی نہیں چھوڑیں گے ۔بس یہی دو الفاظ آج کی تاریخ میں کلیدی حیثیت اختیار کرچکے ہیں ۔سہولت اورمعاونت کار جب شکنجے کے اندر آجائیں گے تو پھر دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی علیحدہ ہوجائیگا ۔پھر نہ رہے گا بانس اورنہ بجے گی بانسری ۔اگر ابھی کسی اور کی ڈفلی بج رہی ہے تو اس پر بہت زیادہ شادیانے بجانے کی ضرورت نہیں ۔ہوسکتا ہے کہ کل شادیانے بجانے والے بھی اسی قطار میں کھڑے ہوں ۔ابھی اگر سندھ سے معاملات نہیں نکل رہے تو یہ ”پویتر“ ہونے کا بہترین موقع ہے ۔اس کو اگر گنوا دیا تو پھر ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کف افسوس ملنے کے سوا کچھ بھی نہیں باقی بچے گا۔ یقینی طور پر اس وقت نوازشریف نے ملک میں ترقیاتی امور کے حوالے سے جو بھی فیصلے کیے ہیں ان کے پھل سامنے نظر آنا شروع ہوگئے ہیں ۔اقتصادی راہداری ،کسانوں کیلئے تاریخی پیکج ،شاہراہ قراقرم کی پھر تعمیر،کچھ ڈیموں کے معاملات،چین کے ساتھ دیگر معاہدات ،مگر بات یہ ہے کہ دراصل جو کرپشن کیخلاف اس وقت وزیراعظم نے بیڑ ہ اٹھایا ہے انہیں آنیوالی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائیگا ۔چاہے اس کیلئے کچھ بھی قربانی دینا پڑے ۔کوئی ناراض ہو یا راضی ہو اس سلسلے کو اب اس ہی وقت رکنا چاہیے جب اس ملک سے کرپشن ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کافور ہوجائے ۔