- الإعلانات -

بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا سیاسی و عسکری اتفاق

وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس بڑی اہمیت کا حامل قرار پایا اس اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ اجلاس میں داخلہ ، خزانہ کے وفاقی وزراء بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ، قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیروں ، ڈی جی ایم او اور دوسرے اعلیٰ ، سول اور فوجی حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی طرف سے طاقت کے بہیمانہ استعمال کی مذمت کی گئی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا گواہ ہے کہ پاکستان نے عالمی امن کیلئے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان نے شدید اشتعال انگیزی کے باوجود غیر معمولی صبروتحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان پرامن جنوبی ایشیاء کیلئے اپنی مساعی جاری رکھے گا تاکہ خطے کے لوگ 21 ویں صدی کے خوشحالی اور ترقی کے شعبوں کے قابل بن جائیں ۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ ملک کسی اندرونی و بیرونی سیکورٹی کے خطرے سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اور اس سلسلہ میں پاکستاان کے عوام اور بہادر افواج پوری طرح پر عزم ہیں۔وزیراعظم نے بجا فرمایا ہے کہ کشمیری عوام پر ان کے حق خودارادیت کے حصول جس کا وعدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کیا گیا ہے کی پاداش میں تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ ظلم کے شکار کشمیری عوام نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا کی حمایت کے حقدار ہیں ۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتا رہے گا ۔ بھارت سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کرسکتا ۔ 1960 میں ہونے والے معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی پاکستان کیلئے ناقابل قبول ہوگی ۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور خطے کی سلامتی کیلئے اس کی کاوشیں دنیا کے سامنے ہیں بھارت کبھی جنگ اور کبھی پانی بند کرنے کی دھمکیوں سے پاکستاان کو مرعوب نہیں کرسکتا۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور چاہتا ہے کہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل پرامن طریقے سے نکالا جائے لیکن صد افسوس کہ بھارت اس کو پاکستان کی کمزوری گردان رہا ہے ۔ پاکستان کی بہادر افواج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت کسی خیام خیالی اور خوش فہمی میں نہ رہے ۔ بھارت دنیا کے سامنے معصوم بننے کی ناکام کوشش کررہا ہے لیکن عالمی برادری اس کے عزائم کو جان چکی ہے پاکستان کا صبر دیدنی ہے ورنہ بھارت کی مکاری نکل چکی ہوتی ۔ بھارت خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہا ہے جو خطرناک کھیل ہے اس سے خطے کا امن تباہ ہوگا اور ترقی و خوشحالی کی راہیں مفلوج ہوکر رہ جائیں گی ۔ بھارت ہٹ دھرمی کو چھوڑے اور مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرے ۔ پاکستان مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے ۔ جنگ سے اجتناب دونوں ملکوں کیلئے بہتر ہے ورنہ بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ پاک فوج جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہے اور وطن کیلئے جانوں کے نذرانے دینا اس کیلئے قابل فخر ہے۔ شہادت کیلئے اس کی تڑپ ہمہ وقت رہتی ہے وطن کے دفاع کیلئے جان کی قربانی دینے کیلئے افواج پاکستان تیار ہے ۔ عسکری قیادت اور عوام بھی پرعزم ہیں بہتر ہے بھارت چھیڑ چھاڑ سے باز رہے اس نے جارحیت کا مظاہرہ کیا تو پھر اس کو منہ کی کھانا پڑے گی دشمن کے ناکوں چنے چبوانا اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی صلاحیت پاک فوج میں بدرجہ اُتم موجود ہے۔ بھارت کی دوعملی اورمکاری سے دنیابخوبی آگاہ ہے مگرمچھ کے آنسوبہانے بے سود جائیں گے۔
سارک کانفرنس ملتوی
اسلام آباد میں منعقدہ ہونے والی سارک کانفرنس بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث ملتوی کردی گئی ۔ بھارت بنگلہ دیش ، بھوٹان اور افغانستان نے نہ آنے کی اطلاع دی تنظیم کے موجود چیئرمین نیپال نے پاکستان کو اس ضمن میں آگاہ کیا ۔ دفتر خارجہ قوانین کے تناظر میں دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ایک رکن بھی شرکت سے انکار کرے تو کانفرنس نہیں ہوتی ۔ بنگلہ دیش نے داخلی معاملات میں بڑھتی مداخلت وجہ بتائی ۔ سارک سیکرٹریٹ نے سرکاری طورپر آگاہ نہیں کیا ۔بھارت پہلے بھی چار با رکانفرنس میں شرکت سے انکار کرچکا ہے ۔نریندر مودی نے افغانستان ، بنگلہ دیش اور بھوٹان کو دبا لیا ۔بھارت کا یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ وہ اپنے مظالم چھپانے کیلئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔ بھارت اڑی حملہ پانی بند کرنے کی دھمکیاں اور دیگر تمام اقدامات کا بھارتی مقصد دنیا کی توجہ کشمیر کی صورتحال سے ہٹاتا ہے ۔ بھارتی انتہا پسند وزیراعظم خطے کے امن کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے ایک طرف وہ مقبوضہ کشمیر میں بربریت کررہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے اندر دہشت گردی کروا کر اس کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ بھارت ایک جارح ملک ہے اور الزام پاکستان پر لگا رہا ہے۔ بھارت کا معاملہ چور مچائے شور اور الٹا چوکوتوال کو ڈانٹنے والا ہے ۔ بھارت کی یہ خوش فہمی ہے کہ وہ اس طرح کا پریشر ڈال کر پاکستان پر اپنی دھاک بٹھا لے گا یہ اس کی بھول ہے پاکستان ہر مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے ۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارت کا اصل چہرہ کیا ہے اب تو وہ بے نقاب ہوچکا ہے تحریک آزادی کو دبانے کیلئے بھارتی ریاستی تشدد اور مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ بھارت اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کو دیدہ دانستہ نظر انداز کرتا چلا آرہا ہے اور اس کی ہٹ دھرمی سے کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں مل رہا پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی سفارتی اور سیاسی حمایت کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے اور وہ اس فریضہ سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوگا ۔ بھارت سفاکی کے خلاف جاری تحریک آزادی تقویت پکڑتی جارہی ہے ۔ بھارت جتنے چاہیے ظلم کرے جتنی چاہیے بربریت کرے اور جتنی چاہیے سفاکی کرے تحریک آزادی کے متوالے اپنے حقوق سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے سارک کانفرنس کی ملتوی کسی بھی لحاظ سے دوست نہیں لیکن بھارتی سازش کا یہ نتیجہ ہے کہ اس کانفرنس کو ملتوی ہونا پڑا۔ بھارت اپنی روایت کو برقرار رکھنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔
کسانوں کا دھرنا ختم
پاکستان کسان اتحاد نے اپنے مطالبات کے حق میں دوسرے روز بھی مال روڈ لاہورپر اپنا احتجاجی دھرنا جاری رکھا۔ رات گئے حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کردیا ۔ کسان اتحاد کے چیئرمین ملک خالد کھوکھر نے کہا کہ حکومت کی طرف سے بجلی کے یونٹ کی قیمت میں کمی کرنے کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کیا گیا ۔ بجلی کا یونٹ پانچ روپے پینتیس پیسے کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی،گرفتار کسان رہا دھرنے میں پی پی پی جبکہ عوامی تحریک کے قائدین نے شرکت کی ۔ حکومت کا فرض قرار پاتا ہے کہ وہ کسانوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے کسانوں کا احتجاج کا محرک جو عوامل تھے ان کو حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جہاں تک احتجاج اور مظاہروں کا تعلق ہے تو جمہوری دور حکومت میں ہوا