- الإعلانات -

سیاسی وعسکری قیادت کا ملکی دفاع ہرقیمت پر یقینی بنانے کا عزم

قومی سلامتی کمیٹی نے مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ قوم اور مسلح افواج کسی بھی خطرے کا جواب دینے کیلئے مکمل طورپر تیار ہے ۔ ملک کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا ۔ پاکستان کو کھوکلے دعوؤں اور جارحانہ عزائم سے مرعوب نہیں کیا جاسکتا ۔ خطے میں دیرپا امن کیلئے بھارت کشمیریوں کا دیرینہ مسئلہ حل کرے ۔ قومی سلامتی کمیٹی کا یہ اجلاس بڑی اہمیت کاحامل قرار پایا اس میں بھارت کو واضح پیغام دیا گیا پاکستان اس کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا اور مادر وطن کے دفاع کیلئے تیار ہے۔ اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر روشی ڈالی گئی اور حکومت نے اس ضمن میں کہا کہ وہ اس پر مکمل طورپر عملدرآمد کیلئے پرعزم ہے ۔ سیاسی و عسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد تیز کرنے پر اتفاق کیا اور انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی کو سراہا گیا ۔ وفاق اور صوبوں کے مابین موثر رابطوں کو مضبوط بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے لیکن بھارت کا جارحانہ انداز خطے کے امن کیلئے خطرات پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستان کے اندر ’’را‘‘ کے ذریعے دہشت گردانہ کارروائیاں پاکستان کیلئے پریشان کن ہیں ۔’’را‘‘ کے ایجنٹوں کی گرفتاری نے بھارتی عزائم کا پول کھول کے رکھ دیا لیکن پھر بھی بھارت مگر مچھ کے آنسو روتے دکھائی دیتا ہے ۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اس وقت فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے اور بھارت جیسے دہشت گرد ملک کی کارروائیاں آئے دن بڑھتی چلی جارہی ہیں ایک طرف وہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے ہوئے ہے تو دوسری طرف سرحدی خلاف ورزیاں اس کا معمول بن چکی ہیں۔ کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ نے دونوں ملکوں کے درمیان فاصلوں کو بڑھا دیا ہے۔ عالمی برادری بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیوں پر دم بخود ہے اور اس کی چپ اس کے کردار کو سوالیہ نشان بنا رہی۔ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کو حل کروانے کا وعدہ آخر کب پورا کرے گا ۔ برسوں سے سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادیں بھارت نے سرد خانے کی نذر کررکھی ہیں اور کشمیری حق خودارادیت کیلئے سراپا احتجاج ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں 89 روز سے مسلسل کرفیو بھارتی سفاکی کا آئینہ دار ہے۔ پاکستان ہر سطح پر ان مظالم کے خلاف آواز بلند کررہا ہے اور کشمیریوں کی اخلاقی سفارتی اور سیاسی حمایت کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے ۔ بھارت کی گیدڑ بھبکیوں سے پاکستان کبھی بھی خوفزدہ نہیں بلکہ اس کی مسلح افواج ہر وقت ، ہر لمحہ دشمن کو دندان شکن جواب دینے کیلئے تیار ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی میں جس عزم کا اعادہ کیا گیا وہ وقت کی ضرورت اور تقاضا تھا ۔ بھارت کو جب تک دو ٹوک جواب نہیں دیا جائے گا اس وقت تک مکار دشمن اس طرح کی کارروائیاں کرتا رہے گا۔ ملکی دفاع کیلئے پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے ۔ بھارت نے جارحیت کرنے کی غلطی کی تو اس کو منہ کی کھانا پڑے گی اور وہ مدتوں اس غلطی کو یاد رکھے گا۔ بھارت کا جنگی جنون خطے کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ مودی ہوشن کے ناخن لے اور اس طرح کے رویہ سے اجتناب کرے ۔ کشمیر کے مسئلے کا سیاسی حل نکالے بغیر خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔ پاکستاان کی سیاسی و عسکری قیادت کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے پرعزم ہے اور عوام پاک افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔
مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پی ٹی آئی کے تمام ارکان کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم خود کو پانامہ سے بچانے کیلئے مشترکہ اجلاس بلا رہے ہیں ۔ نواز شریف کو وزیراعظم ماننے سے انکار کردیا اور دو شرائط پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مستعفی ہو جائیں ن لیگ کا کوئی اور رکن وزیراعظم بن جائے یا وزیراعظم پھر نواز شریف اپوزیشن کے ٹی او آرز کے تحت فوری طورپر اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کردیں ۔ نواز شریف وزیراعظم رہنے کا حق دار نہیں ہے وہ وزارت عظمیٰ کا اخلاقی جواز کھوچکے ہیں ۔ تحفظات کے باوجود ہم نے مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں شاہ محمود قریشی کو بھیجا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کا مقصد یہ ہے کہ ہم بھارتی جارحیت کے خلاف متحد ہیں ۔ کشمیریوں کے حقوق سے متعلق ہم سب متحد ہیں ۔ دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات نشریات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ عمران خان نے قومی مفادات پر ذاتی سیاست کو ترجیح دی کیونکہ وہ قومی معاملات کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ پانامہ لیکس پر اٹھنے والا طوفان بڑھتا ہی چلا جارہا ہے اب تو عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کرکے سیاسی حلقوں کو ہکا بکا کرکے رکھ دیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے جن دو شرائط کا ذکر کیا ہے ۔ حکومت ان کو تسلیم کرے تو سیاسی بھونچال ختم ہوسکتا ہے لیکن حکومت اپنی جگہ ڈٹ گئی ہے اور عمران خان اپنی جگہ اڑے ہوئے ہیں ۔ سیاسی جماعتیں بھی بلا امتیاز احتساب کا ورد کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ملکی سرحدوں پر جنگی ماحول ہے تو دوسری طرف سیاسی کھینچا تانی کا منظر ہے ۔ سیاسی جماعتیں بھارت کے خلاف متحد ہیں لیکن پی ٹی آئی اور دیگر جماعتیں وزیراعظم کا احتساب چاہتی ہیں ۔ دوطرفہ لچک دکھائی نہیں دے رہی جس سے فاصلے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ حکومت پانامہ لیکس پر خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے میں لیت و لعل کا مظاہرے کرنے کی بجائے اپنے آپ کو پیش کردے اس طرح سیاست میں اچھی روایت جنم لے گی اور سیاسی تناؤ بھی ختم ہو جائے گا ۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک بلا امتیاز احتساب کا عمل شروع نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک سے کرپشن کا خاتمہ ناممکن ہے ۔ حکومت سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور برداشت کے جمہوری کلچر کو اپنائے یہی وہ راستہ ہے جو جمہوریت کیلئے نیک شگون ہے۔
کوئٹہ میں بس پر فائرنگ
کوئٹہ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے قمرانی روڈ پرجانے والی بس پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں 4 خواتین جاں بحق ہوگئیں اس دل خراش واقعہ کے بعد علاقے میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی حکومت اس واقعہ کی فوری تحقیقات کرائے اور اس میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے ۔ ریاست کی ذمہ داری قرار پاتی ہے ۔ بیگناہ لوگوں کو خون میں لت پت کرنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا یہ دہشت گردی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ کوئٹہ میں اس طرح کے واقعات کا پھر ہی رونما ہونا قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ کوئٹہ واقعہ پر جتنے آنسو بہائے جائیں کم ہیں جتنا ماتم کیا جائے کم ہے ۔ خداوند کریم اس واقعہ میں جاں بحق افراد کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو صبروجمیل عطا فرمائے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ متاثرین کی مالی امداد کو یقینی بنائے تاکہ ان کے دکھوں کامداوا ہوسکے۔