- الإعلانات -

پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں

بھارتی فوج اور میڈیا اڑی واقعہ کے بعد جنگی جنون میں مبتلا ہو گیا ہے۔بھارت کا میڈیا اپنی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ اس واقعہ کو الزام پاکستان کے سر لگایا جائے اور کسی نہ کسی طرح پاکستان کو اس میں ملوث کیا جائے۔ بھارت کے تمام چینلز اور اخبارات اس واقعہ کے بعد پاکستان دشمنی میں اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف آپریشن اور جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کو یہ معلوم نہیں کہ پاکستان بھی ایک ایٹمی طاقت ہے جو کسی صورت اپنے دفاع سے غافل نہیں اور ان کو منہ توڑ جواب دے گا۔ اس واقعہ کے بعدجنگی جنون میں مبتلابھارتی میڈیا حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں پر نشان لگا کر ان کو پاکستانی ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ میڈیا نے اپنی حکومت کو تین آپشنز دے دئیے ہیں۔پہلا آپشن یہ ہے کہ پاکستان پر فضائی حملہ کیا جائے دوسرا یہ ہے کہ پاکستان پرکروز طیاروں سے حملہ کیا جائے۔ آخری آپشن یہ ہے کہ پاکستان میں موجود عسکریت پسندوں کے کیمپوں پر حملہ کیا جائے۔ پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھی بھارتی میڈیا نے پاکستان پر الزامات کی بھرمار کر دی تھی لیکن جب حکومت کی جانب سے پاکستان کو کلیئر کیا گیا تو اس میڈیا کو چپ لگ گئی تھی۔ بھارتی میڈیا کا پاکستان پر بغیر ثبوت الزام لگانا اسے مہنگا پڑ گیا۔ اڑی سیکٹر حملے کی رپورٹنگ پر سنسر شپ عائد کردی گئی۔بھارتی وزارت دفاع نے میڈیا کو حکم دیا ہے کہ کوئی بھی خبر شائع یا نشر کرنے سے پہلے وزارت دفاع سے تصدیق کرالی جائے ۔بھارت کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سبکی کے بعد خبریں سنسر کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تمام بھارتی اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے اڑی حملے میں برآمداسلحے پر ’میڈ ان پاکستان‘ کی مہر لگی ہونے کی خبر ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ کے حوالے سے دی تھی۔ انڈیانے پاکستان کے دریاؤں کا پانی روکنے اور سندھ طاس معاہدہ توڑنے کی دھمکی بھی دے دی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے کئی مقامات پر بوفرز توپیں سمیت بھاری اور درمیانے ہتھیار پہنچانے شروع کردئیے ہیں اور انتہا پسند بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا پورا دن ملٹری آپریشن میں گزارنا جہاں جنگی جنون کا آئینہ دار ہے وہاں بھارت کے مذموم عزائم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اوڑی حملے کے بعد بھارتی فوج کی غیر معمولی سرگرمیاں اور پاکستان پر بے سروپا اور من گھڑت الزمات اس کے مخاصمانہ رویے کا ثبوت ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فوجی نقل و حرکت تیزکردی ہے اور دوسری طرف پاکستان کی فضائیہ نے ملک کے شمالی حصے کی فضائی حدود اور موٹر ویزے کو بند کر کے جنگی مشقیں مکمل کر لی ہیں۔لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی طرف سے بھاری اور درمیانے توپے خانے کی نقل و حرکت کی بھارت کے اعلی دفاعی اہلکاروں نے بات چیت میں تصدیق بھی کی۔ بوفرز توپوں اور 105 درمیانی رینج کی دوسری توپوں کو اوڑی کے چڑی میدان، موہرا اور بونیار میں نصب کیا جا رہا ہے۔ سونہ مرگ میں بھی بڑے ہتھیاروں کی تنصیب ہو رہی ہے۔ ان مقامات سے آزاد کشمیر مِیں پاکستان کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے موسم سرما شروع ہونے اور برف پڑنے سے پہلے اس کی ہر سال کی معمول کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ لیکن اس بار کی تیاری میں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کنٹرول لائن پر بوفرز توپوں، اور دیگر طرح کا جنگی ساز و سامان سرحد پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ بھارتی فوج کے دعوے کے حوالے سے کہاگیاکہ فوج کو اطلاع ملی ہے کہ شدت پسند مبینہ طور پر سرحد پار سے دراندازی کی تیاری میں ہیں۔شمالی کشمیر کے مختلف حصوں میں اگلے مورچوں پر تعینات مسلح افواج کے دستوں کو متحرک اور ضروری جنگی مواد پہنچانا شروع کر دیا گیا تھا۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیرمیں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ کنٹرول لائن کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں بھارت اور پاکستان کی حقیقی سرحد پر دو جگہوں پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ اڑی حملے کے بعد بھارت میں پاکستان کے خلاف فوجی کاروائی کے شدید مطالبوں کے پس منظر میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب جنگی طرز کی فوجی نقل و حرکت سے سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس کی لہر پھیل گئی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہاہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کے ہرصورت میں دفاع کے لیے تیا ر ہیں ،پاکستانی فوج اور قوم ملکی سا لمیت پر کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔اڑی حملے کے بعد بھارت نے بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام لگایا ۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے پیدا ہونے والی صورتحال خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ دنیا کی توجہ حاصل کر چکا ہے۔ ا قوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم نے کشمیر کا مقدمہ مضبوط انداز میں پیش کیا۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ثبوت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو دئیے ۔ فیکٹ فائنڈنگ مشن مقبوضہ کشمیر بھیجنے کا مطالبہ کیا۔اقوام متحدہ اور او آئی سی کے سیکریٹری سمیت دنیا کے دیگر ممالک نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کی مذمت کی۔ بھارت خوش فہمی میں نہ رہے۔ پاکستان کسی بھی حملے کا جواب دینے کیلئے تیار ہے اور پاک فوج وطن کے دفاع سے غافل نہیں ہے اور بھارت کا جنگی جنون کو ہوش میں لانے کیلئے پاک فوج کے بہادر سپاہی تیار ہیں۔ مکار دشمن خطے کے امن کو تباہ کرنے اور بھارتی مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے لیکن پاکستان اس کیلئے تیار ہے۔ بھارتی وزیرتیل کا کہنا ہے کہ بھارت جنگی مقاصد کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے 15لاکھ ٹن تیل خریدنے جا رہا ہے جوبھارتی شہر مینگلور و دیگر جگہوں پر ذخیرہ کیا جائے گا اور فوج کے استعمال میں لایا جائے گا۔ اس کے علاوہ بھارت ایران سے بھی تیل خرید رہا ہے۔ پاکستان پر الزامات لگانا بھارت کی عادت بن چکا ہے بلاجواز الزامات لگانا غلط ہے اب اس نے سوپور واقعہ کی ذمہ داری بھی پاکستان پر ڈال دی ہے۔ پاکستان دہشتگردی کی بھاری قیمت چکا رہا ہے ۔دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔پاکستان امن کا داعی ہے۔ اب تک ہونے والی تمام ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا۔ وزیراعظم کے دورے کا مقصدصرف مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا تھا۔ امریکہ اور اقوام متحدہ کو کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کے ثبوت دئیے گئے۔