- الإعلانات -

سی پیک اور حکومتی چالاکیاں

قائد اعظمؒ نے جب مسلمانوں کیلئے برصغیر میں ایک علیحدہ ملک پاکستان بنانے کا سوچا تو ہمیں بالکل نہیں لگتا کہ انہوں نے صرف پنجاب ہی کو پاکستان سمجھا ہوگا ان کا اپنا وژن نہایت واضح تھا وہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے جس میں تمام اکائیاں برابر کے حقوق کی مستحق ٹھہریں گی اور تمام وسائل پر سب کا یکساں حق ہوگا پنجاب اگر اناج پیدا کرتا ہے تو کے پی کے بجلی سندھ اگرگیس اور تیل پیدا کرتا ہے تو بلوچستان کے پاس گیس اور معدنی ذخائر ہیں پنجابی وزیراعظم نے بڑے عرصے سے سی پیک معاہدے خاص طور پر اس کے نئے بننے والے روٹس کے پلان کو تاش کے پتوں کی طرح سینے سے لگا رکھا ہے جب کبھی معاملہ اٹھا کہ ہمیں اصل پلان دکھایا جائے تو ن لیگ کے باریش دانشور احسن اقبال ایک ہی بات کہتے کہ روٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تو وہ سچ کہتے تھے کہ جب معاہدہ ہی لاہور اور چین کے درمیان ہے تو تبدیلی کیسی آج چین کے سفیر برائے پاکستان نے واضح کردیا کہ مغربی روٹ تو سرے سے ہے ہی نہیں نہ حکومت پاکستان نے ہم سے اس موضوع پر کوئی بات کی تو یہ نون لیگی حکومت کی جانب سے نرم ترین الفاظ میں بد دیانتی ہی ہے جس کے ملکی سالمیت پر مضر اثرات ہو سکتے ہیں انہیں حرکتوں کی وجہ سے چھوٹے صوبے پنجاب سے شاکی رہتے ہیں جس سے نفرتوں میں اضافہ ہی ہو اہے انہیں چالاکیوں کی وجہ سے شبہات پیدا ہوئے اور کالاباغ ڈیم لٹک گیا اور سی پیک جیسے قومی منصوبے کو بھی اس طرح پلان نہ کیا جائے کہ فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی طرح ہر چیز پنجاب کے گرد گھوم کے آگے جائے ورنہ یہ تو بہت زیادتی کی بات ہوگی سبھی جانتے ہیں کہ ہمارے دیگر تینوں صوبے خاص کر بلوچستان اور کے پی کے نہایت پسماندہ ہیں مغربی روٹ کی وجہ سے وہاں ترقی آتی بے روزگاری ختم ہوتی جرائم اور نفرتیں دونوں کم ہوتیں آپ کی اس ہاتھ کی صفائی سے آپ کے ملک کی سالمیت کو خطرہ ہوگا لہٰذا حسب وعدہ مغربی روٹ پر عملدرآمد ہو بلکہ مغربی روٹ پہلے بنے جس کا فاصلہ اور سفر کا دورانیہ مشرقی روٹ سے بہت کم ہوگا اور یہ روٹ زیادہ منافع بخش ہوگا جس سے وقت اور فاصلے کی بچت ہوگی۔ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ ہمارے ہاں لیڈر پیدا ہونا بند ہو گئے ہیں اور قوم دکانداروں اور ٹھگوں اور مستند نوسربازوں کے نرغے میں آگئی ہے یہ چور اور ڈاکو قوم کی گردنوں پر مسلط ہو گئے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے بھیجا گیا ایک عذاب ہے جو ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے اس قوم کو روزانہ کے حساب سے بیچا جارہا ہے کوئی شہیدوں کے نام پر لوٹ رہا ہے تو کوئی ایٹمی دھماکے کا کریڈٹ لے رہا ہے وہ تو بھلا ہو ڈاکٹر عبدالقدیرخان اور ان کی ٹیم کا جنہوں نے دکانداروں کو کھلے طور پر بتا دیاتھا کہ دھماکے نہ کرنا ملک و ملت سے غداری ہوگی اور خمیازہ آئندہ نسلیں صدیوں تک بھگتتی رہیں گی اور دھماکے نہ کرنے کی صورت میں مستعفی ہونے کی دھمکی دے دی تھی اور دیگر متعلقہ پروگرام کے محافظ حلقوں کا بھی شدید دباؤ تھا دکانداروں کی نہ چل سکی اور دھماکے کرکے ملکی سلامتی محفوظ کر لی گئی وقت نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ نہایت صائب اور درست تھا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اب تک جمہوری معاشرہ نہیں بن سکے جس ووٹر کو ایک قیمہ نان کے عوض 5 سال تک اپنی اور اپنے خاندان کی کھال اتروانے پر راضی کر لیا جاتا ہو تو وہاں ہزار برس تک بھی کچھ نہیں بدلے گا یہاں ہر چیز بکتی ہے یہاں ایمان اور دین بھی بکتا ہے پیسے ہونے چاہئیں۔ اب جہاں 37 سال بعد بھی بھٹو زندہ ہو کارکردگی کی بجائے شہیدوں کے نام پر ووٹ مانگے جائیں جہاں ہسپتالوں میں دوائیاں نہ ہوں مریض برآمدوں میں لیٹے ہوں اسکولوں میں جانور بندھے ہوں جہاں عوام کو گدھے کھلا دیئے جائیں جہاں لوگ صحت کی بنیادی سہولتوں تعلیم اور پانی بجلی سے محروم ہوں میٹرو کے نام پر بیوقوف بنایا جاتا ہو جہاں لاہور کے ثقافتی ورثے کو تباہ کرکے نارنگی ٹرین جیسی شعبدہ بازیاں ہو رہی ہوں جہاں پیٹ پھاڑنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کے نام پر ووٹ مانگے جاتے ہوں جہاں پرمٹوں کے عوض دین بیچ دیا جاتا ہو اپنے رشتہ داروں کی منافع بخش پوسٹنگ کیلئے ڈاکوؤں کا ہمنوا بن جانا اور مالی مفادات کا حصول ملک اور دین کی خدمت گردانا جا تا ہو جہاں لوگ ملک کی پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکرمادروطن کو گالی دینے کے عوض ڈالر پاتے ہوں جہاں وفاداری کا معیار بیرون ملکی ڈالروں کی وصولی پرمنحصر ہو جہاں منی لانڈرنگ کے ذریعے ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک جمع کی جارہی ہو وہاں خیر کی توقع کیونکر کی جا سکتی ہے جب اس گناہ عظیم میں حکمرانوں سے زیادہ عوام ملوث ہوں اور تباہی کے براہ راست ذمہ دار ہوں تو اجتماعی خودکشی سے کس طرح بچا جاسکتا ہے ۔ان حالات میں ہزار سال تک بھی سب کچھ ایسا ہی رہے گا آج بھی جو کچھ ہورہا ہے وہ اس مذاق جمہوریت جو دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے درمیان طے پایا تھا جس کی آشیرباد اور ضمانت سابق سی آئی اے چیف جان نیگرو پونٹے نے دی ہوتو اس سے انحراف کیونکر ہو سکتا ہے ۔شاید اسی میثاق جمہوریت کی برکت ہے کہ پانامہ لیکس کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا عمران خان ایک طرف اور پوری سیاسی قیادت دوسری طرف ٹی اور آر کا ڈول ڈالا گیا جس کا نتیجہ نہیں نکلے گا اور نہ کچھ ہونے کا امکان ہے سپریم کورٹ نے نہایت خوبصورتی سے گیند حکومت کے کورٹ میں واپس پھینک دی لیکن ٹائم فریم نہیں دیا وزیراعظم قومی امور پر مہر بہ لب ہیں انڈیا کے معاملے میں نہایت محتاط ہیں ڈال میں کچھ کالا ہے کہ ورلڈ بینک دھڑا دھڑ قرضے دیے جا رہا ہے ہانامے، مے فیر، نارمنڈی، اور مشرق وسطی ٰآباد ہو رہا ہے اور ملک اجاڑ رہا ہے انتظار ہے کہ جیسے ادھار 80 بلین ڈالر کے آس پاس پہنچے چٹے بیل کے سائیں آموجود ہوں کہ بیل ہمارا ہے کہیں یہی میثاق جمہوریت تو نہیں تھا کہ تانے بسنے ملتے دکھائی دیتے ہیں۔ حکمرانوں کا کیا ہے ان کی اڈاری کی تیاریاں مکمل ہیں قوم و ملک سے انہیں کیا لگاؤ،یہ اپنی ڈیوٹی دینے آئے ہیں ڈیوٹی دیکر چلے جائیں گے۔ ادھر جنرل صاحب بھی اپنی رخصتی پر خوش ہیں قوم و ملک جائے بھاڑ میں سوچ کر حول آتا ہے ۔گو ہماری آواز کا صدا بہ صحرا ہونے کا قوی امکان ہے پھر بھی اپنے حصے کی اذان دیئے دیتے ہیں کہ حق حقداروں تک پہنچنا چاہئے مغربی روٹ پر آنیوالے علاقوں