- الإعلانات -

آخری جھٹکا

میمنے نے ادھر ادھر دیکھا ، کسی کو نہ پاکر ندی کے کنارے آیا اور پانی پینا شروع کردیا ، ابھی ایک گھونٹ ہی پیا ہوگا کہ جنگل کا بادشاہ (شیر)بھی ادھر آنکلا ، شیر نے جب دیکھاکہ پانی بڑا صاف ہے اوروقت کی ضرورت بھی تو اس نے سوچاکیوں نہ اس پانی کو قیمتاً دیا جائے ، جوان میمنے کو دیکھ کر اس کا جی تو ویسے ہی للچا گیا تھا، اس نے اسے خوراک بنانے کا ارادہ کرلیا ،مگر اس کے لیے کوئی بہانا بھی تو چاہیے تھا ، اس نے میمنے کو دیکھا ، غرایا اور بولا کہ تم نے سارا پانی گدلا کردیا ہے ، میمنے نے عرض کی بادشاہ سلامت !پانی تو آپ کی طرف سے میری طرف بہہ رہا ہے ، شیر نے جب دیکھا کہ وار خطا ہو گیا ہے تو بولا تونے دو سال پہلے مجھے گالی دی تھی اور بھاگ گئے تھے، اس کی سزا ملے گی ، میمنے نے عرض کیا حضور ! میں تو ابھی ڈیڑھ سال کا ہوا ہوں ،دو سال پہلے تو میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا ،اب شیر کا غصہ آسمان چھونے لگاتھا ، اس نے کہا تم نہیں تھے تو پھر وہ تمہارا باپ ہو گا ، یہ کہا، میمنے پر جھپٹا اور اس کی تکا بوٹی کردی ۔آپ اس کہانی کو سامنے رکھ کر سرکاری سکولوں کا تجزیہ کریں گے ، ان کے مسائل ، اسباب اور ذمہ داران کا تعین کریں تو آپ پر تمام کردار واضح ہو جائیں گے کہ شیر کون ہے ، میمنا کون ہے اور قصور کس کا ہے ؟ دریا سے مراد سرکاری سکول ہیں ،پانی سے مراد علم ، میمناسکول ٹیچر کی نمائندگی کررہاہے اور شیر سے مراد وہ لوگ ہیں جو پالیسیاں بناتے ہیں، اگر اس دریا کا پانی گدلا ہورہا ہے تو ذمہ دار کون ہے ؟اور اس دریا کو صاف کون کرے گا؟یہ سب کیسے ہوا؟
کوئی دور تھاکہ یہ دریا بڑی شدومد سے بہ رہا تھا،اس کا پانی کتنا صاف تھا ؟ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس سے پیاس بجھانے والوں میں قائداعظم محمد علی جناح ، علامہ اقبال ، سرسیداحمد خان ، مولانا شوکت علی ، مولانا محمد علی جوہر، شیربنگال مولوی فضل حق ،پطرس بخاری ، نصرت فتح علی خاں جیسے لوگ شامل تھے ، جس کو طلب ہوتی وہ آتااور مفت پیاس بجھا لیتا، پھر یوں ہوا کہ کچھ لوگوں کے من میں خیال آیا کہ کیوں نہ اس پانی کو بیچا جائے ، پس انہوں نے پہلے دریا کے مقابلے میں ایک اور دریا بنایا،اس کا پانی جدت اور ماڈرن ازم کی بوتلوں میں پیک کرکے بیچنے لگے مگر کچھ خاص فائدہ نہ ہوا، آخر کار انہوں اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے شیر کی خدمات حاصل کرلیں، شیر نے پہلے دریا کو اجاڑنے کے لیے دن رات ایک کردیا ، سب سے پہلے اس نے اس دریا کے کچھ رکھوالوں کو ساتھ ملایا، انہیں آفرکی کہ کیوں نہ پرائیویٹ سطح پر پانی کا کاروبارشروع کیا جائے ؟لالچ میں کچھ لوگ اس کے ساتھ مل گئے اور یوں اس عمل کا آغاز ہو گیا، اس کے بعد شیر نے اگلے مرحلے کاآغاز کیا، اس مرحلے میں شیر نے پہلے دریا میں گند ڈالنا شروع کردیا، سیاسی مداخلت کا دروازہ کھول دیا، عملے کی کمی کر دی گئی ، سہولیات کا فقدان کردیا گیا، پہلے دریا کی خوب تضحیک کی جانے لگی ، نئے در یا کی خوب تشہیر کی گئی ، اردو کو پسماندگی کا ذمہ دار قراردیاگیا، انگلش کو ترقی کا ضامن ٹھہرادیاگیا، اس مقصد کے لیے میڈیا کی خدمات بھی حاصل کر لی گئیں ، دوسرے دریاکے کنارے کچھ ایسے فنکشن کا اہتمام کیا گیا جن میں نوجوانوں کے جذبات کی تسکین تھی ، شلوارقمیص(قمیض۔ غلط لفظ ہے )کو اجڈپن سے تعمیر کیا جانے لگا، پینٹ کوٹ کو تہذیب کی علامت سمجھاجانے لگا، یوں آہستہ آہستہ لوگ دوسرے دریا کی طرف جانے لگے۔
جب لوگ کم ہوگئے تو شیر نے اگلے مرحلے کی طرف قدم بڑھایا، اس نے میمنے کوبلایااور اسے کہاکہ لوگوں کی کمی کو پوراکیا جائے ، میمنے نے کہاحضور! تمام ریاستی وسائل آپ کی شہہ پر دن رات اس دریا کی تضحیک کررہے ہیں ، آپ کی فیملی بھی اس دریا پر نہیں آتی ، اب ان حالات میں تعداد بڑھانے کے لیے ہمیں آپ کا تعاون درکارہوگامگر میمنے کی اس بات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا، اس کے بعد میمنے کو کہا گیا کہ حاضری کو 92% کیاجائے ، میمنے نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے لوگوں پر سختی کی تو شیر نے اس سے بھی روک دیا، نتیجہ یہ نکلا کہ اگر لوگ نہ آتے تو بھی میمنا قصوروارتھااوراگر وہ لوگوں کو لانے کے لیے سختی کرتا تو بھی میمنے کی ہی غلطی تھی،اب شیر نے تابوت میں ایک کیل ٹھونکی ، اس نے کہاداخلے کا ٹارگٹ پچھلے سال کی نسبت 10% زیادہ ہونا چاہیے ، میمنے نے عرض کی بادشاہ سلامت ! اس تناسب سے تو ہمارے ملک کی آبادی بھی نہیں بڑھتی، مگر شیر نے اس کی بات نہ سنی کیونکہ مقصد اس دریا کی صفائی نہیں بلکہ اس دریا کا خاتمہ تھا، یوں دریا گدلاہوتاچلاگیا، اب سوال اٹھایاگیاکہ اسے صاف کون کرے گا؟
اس سوال کا جواب یہ تھا کہ اس دریا کو وہی صاف کرے گا جس نے یہاں سے پانی لینا ہے ،مگر ٹریجڈی یہ ہوئی ہے کہ جن لوگوں کا تعلق دوسرے دریا سے ہے ، ان کوپہلے دریا کی صفائی کا نگران بنادیا گیاحالانکہ یہی لوگ اس کی آلودگی کا سبب تھے ،وہ کبھی اس دریا کی طرف آئے ہی نہیں تھے، انہوں نے کبھی اس دریا کا پانی پیا ہی نہیں تھا، نہ ان کے گھر والوں کا اس دریا سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہے اور نہ ان کے بچے کبھی اس دریا کے قریب سے گزرے ہیں ، لہذا ان کو اندازہ ہی نہیں کہ دریا میں کدورت کی مقدار کیا ؟ اس کا سبب کیا ، سدباب کیا اور طریقہ کار کیا ؟ لہذا کام مزید بگڑتاگیا کیونکہ دریا کی گہرائی معلوم کرنے کے لیے اس میں اترنا لازمی تھا ،وہ دور سے پتھر پھینک کر اندازہ لگاتے رہے ،یوں اندازہ بھی غلط ہوااور دریا میں آلودگی بھی بڑھتی گئی،صفائی کا طریقہ کار وہ لوگ طے کرتے رہے جو کنارے پر کھڑے تھے ، انہوں نے اس بندے کو گھاس بھی نہیں ڈالاجو دریا کے اندر تک جھانک چکا ہے ۔
اب رہ گیایہ سوال کہ دریا صاف کیوں نہیں ہو رہا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسے کوئی صاف کرنا ہی نہیں چاہتا،کیوں؟ کیونکہ میمنے کو شکار کرنا ہے ،لہذاپالیسی شیر بنائے ، منزل کا تعین بھی وہی کرے گا ، میمنے سے کوئی مشورہ بھی نہیں لیا جائے گا ، اس کے ہاتھ بھی باندھے جائیں گے ، اسے بے بس بھی کیا جائے گا ، وہ کسی بھی گند ڈالنے سے روک بھی نہیں سکتااور گند پھیلتا ہے تو ذمہ دار بھی وہی ہوگا،اگر وہ نہیں تو اس کا باپ ذمہ دار ہو گا ، شیر نے جھپٹا مارنا ہے کیونکہ وہ جنگل کا بادشاہ ہے ، میمنے نے شکار ہونا ہے کیونکہ وہ رعایا ہے ، سب کچھ ہوچکا ، دریا خوب گندہ ہو چکا، کدورت حد سے بڑھ چکی ، شیر کھڑا غرارہا ہے ، وہ چھلانگ لگانے کے لیے پوزیشن لے چکا ہے ، فیصلہ ہو چکا کہ شکار کس کا ہونا ہے ، یہ بحث لاحاصل ہے کہ قصور کس کا تھا ؟اب بس ایک جھٹکے کی دیر ہے ۔