- الإعلانات -

اقوام متحدہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل حل کرائے-

وزیراعظم محمد نواز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر سمیت بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، کشمیر آتش فشاں کی طرح سلگ رہا ہے ۔ ملکی دفاع کیلئے کسی بھی اقدام میں ایک لمحہ نہیں لگائیں گے ۔ چہرے مسخ اور بینائی محروم کرنے سے تحریک آزادی کو کچلا نہیں جاسکتا ۔ بھارت عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں سے کشمیریوں کو محروم نہیں کرسکتا ۔ اقوام متحدہ کو عالمی امن کیلئے محافظ کے طورپر ساکھ برقرار رکھنا ہوگی۔ کھیتوں میں ٹینک چلانے سے غربت ختم نہیں ہوسکتی ۔ پاکستان جنگ کے خلاف ہے۔ وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے جوکچھ کہا وہ برموقع و برمحل اورحالات کے تقاضے کے مطابق ہے۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور چاہتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہو لیکن بھارتی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کی امن کاوشوں کو ایک تواتر کے ساتھ نظر انداز کرتا چلا آرہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں اس کے مظالم آئے دن بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں سفاکی اور بربریت اتنی بڑھ چکی ہے کہ ابن آدمی کا دل ان کو دیکھ کر خون کے آنسو رو ہا ہے۔ بھارت بارود بو کر پھول کھلانے کی جس روش پر چل رہا ہے یہ اس کی خوش فہمی ہے اور ایسا کبھی ممکن نہیں کہ مودی سرکار بارود بو کر پھول کھلنے کے سپنے دیکھ سکیں۔ کشمیر کے ظلم اب ایک آتش فشاں کیفیت دھارتے چلے جارہے ہیں اور بھارتی ریاستی دہشت گردی انسانی حقوق کی جس طرح سر عام پامالی کررہی اس پر دنیا کے منصفوں کی چپ سادھے رہنا لمحہ فکریہ ہے۔ بھارتی جارحیت بڑھنے سے خطے کا امن تباہ ہونے کے امکانات دکھائی دینے لگے ہیں ۔ بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیاں تحریک آزادی کو نہیں روک سکتیں ۔ پاکستان کی بہادر افواج اپنے وطن کی حفاظت کرنے کیلئے تیار ہے اور وہ دشمن کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور بھارت نے جارحیت کی تو پھر اس کو ایسا جواب ملے گا کہ وہ مدتوں اس کو نہ بھلا پائے گا۔ دندان شکن جواب دینا ہماری عسکری قیادت کو خوب آتا ہے جو بھارت کو باور کروا چکی ہے کہ ملک کی سلامتی و امن کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا ۔ بلا شبہ ہماری بہادر افواج شجاعت بہادری کی تابندہ روایات کے ساتھ ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے کیلئے چوکس ہے ۔ کشمیریوں کے سینے چھلنی کرنے سے خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ کمزور خارجہ پالیسی سے پاکستان تنہائی کا شکار ہوسکتا ہے ۔ پاکستان کے عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ ہیں ۔ سیاسی جماعتیں بھی متحد ہیں ۔ بھارت ہوش کے ناخن لے اور پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی غلطی نہ کرے ۔ کشمیریوں پر ظلم ختم کرے ان کو حق خودارادیت دے اور اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوشش کرے جب تک مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں حل نہیں ہوگا ۔ خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکے گا ۔ بھارت کے انتہا پسند وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا رویہ اور پالیسی پرنظرثانی کرنے کی ضرورت ہے ورنہ جارحانہ اورمخاصمانہ رویہ خطے کیلئے خطرات کا باعث بن سکتا ہے ۔ بھارت کی گیدڑ بھبکیوں سے پاکستان مرعوب نہیں ہے اور نہ ہی دشمن کی چالوں سے بے خبر ہے۔ پاکستان امن پسندی کی وجہ سے برداشت کا مظاہرہ کرتا چلا آرہا ہے لیکن بھارت اس کو کمزور گردان رہا ہے جو اس کی غلط فہمی ہے بہتر ہے بھارت مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالے اور خطے کے امن کوتباہ نہ کرے۔
عالمی عدالت انصاف کا مستحسن فیصلہ
ایٹمی ہتھیار رکھنے سے متعلق پاکستان عالمی عدالت انصاف سے کیس جیت گیا ۔ہیگ میں ججوں کے 16 رکنی بنچ نے درخواست پر اپنا فیصلہ سنایا ۔ بحرالکاہل میں واقع ایک چھوٹے سے ملک مارشل آئی لینڈز نے مقدمہ دائر کیا تھا ۔ مارشل آئی لینڈز کا پاکستان بھارت برطانیہ کے خلاف دائر مقدمہ ناقابل سماعت قرار دے دیا گیا ہے۔ ثالثی عدالت نے کہاکہ پاکستان کا جوہری پروگرام اس کے قومی دفاع اور سلامتی کا معاملہ ہے۔ آئی لینڈز نے موقف اختیار کیا ہے جوہری اسلحے کی دوڑ کے سبب جرائر غائب ہورہے ہیں دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ چلایا جائے ۔پاکستان کئی بار یہ باور کروا چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام اس کی دفاعی مقاصد کیلئے ہے۔ خواہ مخواہ اس کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ بھارت جیسے دہشت گرد اور جارح ملک کی چیرہ دستیاں عالمی اداروں کی آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور اس کا جوہری پروگرام دفاع اور سلامتی کیلئے ہے۔ عالمی عدالت نے درست قرار دیا ہے کہ کسی ملک کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق فیصلہ کرنا اس کے دائرہ اختیارات میں نہیں ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے۔ عالمی عدالت کا فیصلہ مستحسن اور دوررس نتائج کا حامل ہے جس کو سراہا جارہا ہے۔
کراچی تباہی کا منصوبہ ناکام
کراچی پولیس اور حساس ادارے نے عزیز آباد لال قلعہ گراؤنڈ سے متصل خالی مکان پر چھاپہ مار کر زیر زمین پانی کے ٹینک میں چھپایا جانے والا اسلحہ اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ برآمد کرکے کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا ۔ برآمد کیے جانے والے اسلحہ میں اینٹی ایئر کرافٹ گنز ، ایس ایم جی ، سیون ایم ایم رائفل ، ائنا رائفل، سنائپر رائفل، راکٹ لانچر ، ہینڈ گرنیڈ، بلٹ پروف جیکٹس اور لاکھوں تعداد میں مختلف ہتھیاروں کی گولیاں شامل ہیں۔ کراچی کی تاریخ میں یہ اس طرح کا پہلا واقعہ ہے جہاں اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ و بارود برآمد کیا گیا ہے۔ پولیس اور حساس اداروں کی اس کامیاب کارروائی نے کراچی کو تباہی سے بچا لیا ہے۔ محرم الحرام میں اس اسلحہ کی برآمدگی بڑا کارنامہ ہے۔ دہشت گرد اور شرپسند عناصر کراچی کے امن کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں لیکن ان کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے چوکس ہیں اور وہ ملک و قوم دشمن عناصر کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔کراچی آپریشن نے شہر قائد کی رونقیں بحال کردی ہیں اور ٹارگٹ کلنگ ،بھتہ خوری اوردہشت گردی کے واقعات میں خاصی کمی آئی ہے کراچی امن کی بحالی میں رینجرز پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کا کردار قابل ستائش ہے ۔ کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے ان اداروں کی قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہیں-