- الإعلانات -

عمران خان کی ضد؟ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس

عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس، جس میں کشمیریوں سے یکجہتی کی ممکنہ قرارداد پاس ہونی ہے ،میں جانے سے پریس کانفرنس کر کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ جب کہ ایک دن پہلے آل پارٹی کانفرنس میں شرکت کر کے کشمیریوں کے ساتھ سب نے حکومت کا ساتھ دیا ہے۔ شیخ رشید صاحب نے کہا تھا کہ عمران خان آل پارٹی کانفرنس میں بھی جانے سے انکاری تھے مگر پارٹی کے لوگوں کے اصرار پر شاہ محمود قریشی صاحب کو شرکت کی اجازت دی تھی۔ عمران خان کا کہنا ہے میں نواز شریف کو وزیر اعظم نہیں مانتا وہ ایک کرپٹ شخص ہے ۔میں ایک کرپٹ شخص کی بلائی گئی کسی بھی کانفرنس اور مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کر کے اس کے ہاتھ مضبوط نہیں کرنا چاہتا۔ وہ کشمیر کی آڑ میں پاناما میں بیان کئے گئے الزامات سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نواز شریف کی مورل اتھارٹی ختم ہو چکی ہے۔ کشمیر پر آل پارٹی میں قرارداد پاس ہو گئی وہ ہی کافی ہے۔ میں نے مودی کو رائے ونڈ کے جلسہ میں ٹھیک ٹھاک جواب دے دیا ہے۔ عمران خان کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم محرم تک اپنے آپ کو اپوزیشن کے ٹی ای او آر کے تحت تحقیق کیلئے پیش کر دے اور نون لیگ کے کسی بھی فرد کو وزیر اعظم بنا دیں ورنہ میں ۳۰؍ اکتوبر کو اسلام آباد کو بند کر وں گا۔ آل پارٹی کانفرنس میں تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی صاحب نے بھی شرکت کی تھی اور مشترکا قرارداد پاس کرانے میں بھر پور شرکت کی تھی۔ اس کانفرنس میں سرجیکل اسٹرائیک کو بھارت کا ایک ڈرامہ قرار دے دیا گیا ہے۔ عمران خان کے پارلیمنٹ میں عدم شرکت کے فیصلہ پر سیاسی حلقے اعتراض کر رہے ہیں۔ نیشنل سیکورٹی کونسل جس میں فوج اور سارے صوبوں، اور گلگت بلتستان کے سربراؤں نے شرکت کی ۔ کشمیر میں مظالم بند کرنے اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کا مطالبہ دوھرایا گیا تھا۔ اس میں بھی بھارت کے خلاف تیاری کا بھی فیصلہ کیا گیا۔منگل کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا۔ اس میں کہا گیا کہ بھارت کی گیڈر بھبھکیوں میں نہیں آئیں گے۔ ملک کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ خطے میں امن کیلئے دہلی مسئلہ کشمیر حل کرے۔اس نازک موقع پر سرحدی گاندھی کے پوتے اسفند یارخان صاحب جو آل پارٹی کانفرنس میں تو شریک نہیں ہوئے صرف اپنا نمائندہ بھیجاتھا نے ایک پروگرام میں کہا کہ وزیر اعظم بتائیں کیا ہم غلام ہیں۔ مولانا فضل الرحمان صاحب جو کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں جن کو اس وقت کشمیر میں مظالم پر بھر پور بات کرنے چاہیے تھی ،نے قومی اسمبلی میں بیان دیا کہا ہم کشمیر میں مظالم کی بات کرتے ہیں جب کہ فاٹا میں اس سے زیادہ مظالم ہو رہے ہیں ۔لائن آف کنٹرول اور دیورنڈ لائن میں کوئی فرق نہیں۔ یہی بات بھارت کے دہشت گرد وزیر اعظم بھی پاکستان سے کہتے ہیں کہ فاٹا میں پاکستان مظالم کر رہاہے۔ اس پر جب لوگوں نے گرفت کی تو مولانا کی حمایت میں نواز شریف صاحب کے فرنٹ مین طلال چوہدری صاحب نے کہا کہ کسی کو غدار کہنے کی ضرورت نہیں کوئی بھی مقدس گائے نہیں ان کا اشارہ پاک فوج کی طرف تھا۔اس سے قبل بلوچستان میں وکیلوں پر خود کش حملے کے وقت جس کا پاکستان کے وزیر داخلہ، بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ نے الزام بھارت پر لگایا گیا تھا۔ اس پر بلوچی گاندھی کے بیٹے محمود خان اچکزئی صاحب نے بھارت کا نام لینے کے بجائے اپنی ہی فوج پر نا اہلی کا الزام لگایا تھا۔جبکہ وہ نواز حکومت کا حصہ بھی ہے جس کو مولانا فضل الرحمان نے تائید کی تھی۔ جبکہ پورا پاکستان جانتا ہے کہ پاک فوج نے ضرب عضب کے آپریشن کے تحت ۹۰؍ فی صد سے زیادہ دہشت گردوں کو ختم کر دیا ہے اور علاقہ کلیئر کروا لیا ہے۔ لوگ اپنے گھروں کو جارہے ہیں۔ کراچی میں ٹارگیٹڈ آپریشن کر کراچی کی روشنیاں پھر سے بحال کر دیں ہیں جس کی قومی اور بین الاقوامی طور پر تعریف کی گئی ہے۔ ایسے میں فوج پر نااہلی کا الزام لگا کر کس کے ہاتھ مضبوط کیے جا رہے ہیں۔ فوج نے ان بیانات پر گرفت کی تھی۔اب بھی کہا جارہا ہے کہ خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ بناتی ہے۔ دوسری طرف اپنی کھپت مٹانے کے لیے بھارت کے وزیر اعظم کی ہدایت پربھارت کے سیکورٹی کے مشیر اجیت ددول نے پاکستان کے سیکورٹی مشیر جنجوعہ صاحب سے فون پر بات کی اور کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا چاہیے۔ مگر دوسری طرف لائن آف کنٹرول پر آج بھی بلاجواز فائرنگ کی گئی جس سے بھارت کی منافقت سامنے نظر آ رہی ہے۔ بھارت نے سوچا تھا کہ سرجیکل اسٹرائیک کے بعد معاملہ ٹھنڈا پڑ ھ جائے گا مگر پاکستان کی فوج نے بروقت جوابی کاروائی کر کے بھارت کے آٹھ سے دس فوجیوں کو مار دیا اور ان کے فوٹو بھی جاری کر دیے۔ جبکہ بھارت کا دعوی کہ اُس نے سرجیکل اسٹرائیک کر کے پاکستان تیس فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ بھارت کے سرجیکل اسٹرائیک کے جھوٹ پر اس کے اپنے سیاسی لوگ ثبوت مانگ رہے ہیں۔ مگر بھارت یہ پیش نہیں کر سکا۔ پاک فوج کے مطابق بھارت نے چار مقامات پر لائن آف کنٹرول پر اپنی سائڈ سے پاکستانی علاقہ پر فائرنگ کی تھی جس میں پاکستان کے دو فوجی شہید ہوئے تھے۔ بھارت کا ایک فوجی سرحد پار کر کے پاکستانی علاقے میں گھس آیا جس کو پاک فوج کے نوجونوں نے گرفتار کر لیا اور اس کی فوٹو بھی جاری کر دی۔ پاک فوج نے ملکی اور بین الاقوامی صحافیوں کو اس جگہ کا دورہ کرایا جہاں بھارت کا کہنا ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک کی گئی۔ مگر صحافیوں کو اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ بین الالقوامی طور پر بھی بھارت جھوٹا ثابت ہو گیا ہے۔ نواز حکومت کے کل وقتی وزیر خارجہ مقرر نہ کرنے پر بھی تنقید کی جارہی ہے۔ وزیر دفاع بھی حادثاتی طور پر بنا تھا۔سپریم کورٹ نے نواز شریف کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھاتو خواجہ آصف صاحب کوراتوں رات وزیر دفاع بنا دیا تھا تاکہ وہ سپریم کورٹ میں پیش ہو جائیں۔ صاحبو! ملک کے یہ حالت ہیں اور ذرائع کہہ رہے ہیں ایسے میں عمران خان صاحب کو نواز شریف صاحب سے سارے اختلافات ایک طرف رکھ کر پارلیمنٹ میں شریک ہونا چاہیے تاکہ کشمیریوں کو پاکستان کی طرف سے مضبوط پیغام جائے۔ اس کے بعد عمران خان اپنے احتجاج کو جاری رکھ سکتے ہیں۔ ذرائع کہتے ہیں ایک طرف کشمیریوں نے کشمیر کو بھارت کے مظالم کے خلاف بند کیا ہوا اور عمران خان اسلام آباد کو ۳۰ ؍اکتوبر کو بند کر کے کشمیریوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ عمران خان صاحب کو اپنی ضد پر نظرثانی کرنی چاہیے اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کر کے کشمیریوں کے ہاتھ مضبوط کرنے