- الإعلانات -

تیسری دنیا میں تیسرے درجے کے لوگ

بھارت کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے ساتھ پاکستان میں، بالخصوص پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایک بحث شدومد کے ساتھ جاری ہے کہ پاکستان کس چیز میں کس نمبر پر ہے۔ زیادہ تر تو بھارت اور پاکستانی کی دفاعی صلاحیت اور جنگی سازوسامان ہی کا موازنہ کیا جا رہا ہے مگر اس بحث و تکرار سے میرے ذہن میں کچھ اور سوال ابھرے ہیں۔ ہمارے لیے یہ فخر کا باعث ہے کہ اس وقت، ہماری فوج بھارت کی فوج سے بدرجہا بہتر ہے اور اس کے پیچھے اس کی دس سالہ مسلسل اور پیہم جنگ ہے جو ملک کے مغربی بارڈر پر دہشت گردوں کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔ اس کے بعد ہمیں اپنے سائنسدانوں پر بھی فخر ہے کہ آج ہم حربی سامان کے حوالے سے بھی بھارت سے بہت آگے ہیں۔بھارت ہی کے قریبی اتحادی جاپان کے ایک اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کرنے والا بھارت دراصل ایسی کسی سٹرائیک کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا مگر ہمیں لیے یہ باعثِ فخر ہے کہ پاکستانی فوج اپنے جدید حربی سازوسامان اور دہشت گردوں کے خلاف طویل گوریلا جنگ کے باعث سرجیکل کی سٹرائیک کی بھرپور صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔ جو کام بھارت نہیں کر سکا وہ پاک فوج بخوبی کر سکتی ہے۔کم از کم میری نظر میں یہ بحث عبث ہے کہ پاک فوج بہتر ہے یا بھارتی فوج؟ مجھے پاک فوج کی صلاحیتوں پر پورا ایمان کی حد تک اعتبار ہے مگر مجھے ہم پاکستانی قوم اور پاکستانی سیاستدانوں پر چنداں اعتبار نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاک فوج کی صلاحیتوں اور پاکستان کے حربی سامان کی بجائے یہ بحث پاکستانی قوم کی مجموعی سوچ اور کردار پر ہونی چاہیے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو میرے خیال میں ہم تیسری دنیا کے ممالک میں بھی تیسرے نمبر پر آئیں گے۔ عوام کی بات ہی کیا کریں۔ یہاں خودساختہ قائداعظموں اور نیلسن مینڈلوں کی سوچ ہی اس قدر انحطاط کا شکار ہے کہ پاکستان کے متعلق بھارتیوں کی سوچ کا انحطاط بھی ان کے آگے پانی بھرتا ہو گا۔ ایک دو فقرے تحریر کرتا ہوں۔ فیصلہ آپ خود کر لیجیے۔ لاہور جلسے کی تیاریوں کے دوران تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’’میں رائیونڈ ’’رشتہ‘‘لینے نہیں جا رہا، پتا نہیں اپوزیشن کیوں پس و پیش کا شکار ہے۔‘‘جلسے کے دوران سٹیج سیکرٹری نے نواز شریف کا جنازہ تک نکال دیا اور وہ کچھ بول دیا جو یہاں میں لکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔مسلم لیگ کے طلالوں اور دانیالوں کی بدزبانی کے تو چرچے تھے ہی، یہ کون سی زبان ہے جو خود عمران خان اور ان کی موجودگی میں ان کے حواری بول رہے ہیں؟ ایک طرف تحریک انصاف کی شیریں مزاری پارلیمنٹ میں خواجہ آصف کی بدزبانی پر ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر چکی ہیں جو خیر سے مسترد بھی ہو چکی ہے اور دوسری طرف عمران خان اپنے مخالفین کیلئے ایسے الفاظ بول رہے ہیں جو ہمارے جیسے معاشروں میں سب سے غلیظ گالی سمجھے جاتے ہیں اور عوامی سطح پر ایسے الفاظ ادا کرنے والے کا انجام بسااوقات بہت بھیانک ہوتا ہے۔گزشتہ روز کیا ہوا، عمران خان نے نواز شریف کو وزیراعظم تسلیم کرنے اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت سے ہی انکار کر دیا۔ ابھی ایک روز پہلے وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں تحریک انصاف نے بھرپور شرکت کی تھی۔ شاہ محمود قریشی نے وہاں بڑی اعلیٰ گفتگو کی جسے ہر سطح پر سراہا گیا۔ آخر ایک ہی رات میں ایسا کیا ہو گیا کہ عمران خان اس درجہ پیچھے ہٹ گئے؟ پانامہ لیکس تو بہت پرانی بات ہو چکی، کرپشن بھی بہت پہلے کا قصہ ہے۔ اس ایک رات میں ایسا کیا ہوا تھا؟ عمران خان کو بہرحال اس سوال کا جواب دینا ہو گا۔ ملک پر یہ وطن بہت کٹھن ہے۔ ایسے میں ذاتی بغض و عناد چہ معنی دارد؟ مشرق اور مغرب دونوں اطراف سے پاکستانی بارڈر غیرمحفوظ ہے، جنگ کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔ تمام سیاسی و فوجی قیادت سر جوڑکر بیٹھی اور اور ایک اکیلے عمران خان دندناتے پھر رہے ہیں اور وزیراعظم کی حیثیت اور پارلیمنٹ کے وجود سے ہی مکر رہے ہیں۔ کیا پیغام دے رہے ہیں وہ دنیا کو؟ کرپشن کے خلاف ہم بھی بولتے اور لکھتے رہتے ہیں۔ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ کرپشن کی تحقیقات نہ ہوں، مگر وقت کی بھی تو کوئی اہمیت ہوتی ہے۔ جوں جوں نریندرمودی کا پاگل پن عروج کو پہنچ رہا ہے ادھر عمران خان کی زبان کی تندی بڑھتی جا رہی ہے۔عمران خان نے دو روز قبل بھارتی جارحیت پر وزیراعظم کے ساتھ مل کر چلے کا عہد کیا تھا، دو دن بعد ہی نواز شریف کو وزیراعظم ماننے سے ہی انکار کر دیا۔ ایسے حالات میں اس یوٹرن کا کیا مطلب؟ گزشتہ روز دو اجلاس ہوئے، پوری سیاسی قیادت اور فوج جن میں شریک تھی۔ بھارتی جنگی جنون اور نیشنل ایکشن پلان جیسے امور زیرغور تھے۔ عمران خان مدعو ہونے کے باوجود وہاں نہ پہنچے۔ اس کی بجائے مری میں دوستوں کے ساتھ موسم سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ خدارا خان صاحب! یوٹرن آپ نے پہلے بھی بہت لیے، بعد میں بھی لیتے رہیے گا۔ یہ وقت ایک ہونے کا ہے۔ پاکستان ہے تو آپ کے یوٹرن ہیں۔ یہ وقت پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے جس کے وزیراعظم میاں نواز شریف ہیں۔ وہ کیسے وزیراعظم بنے، یہ فیصلہ آپ پہلے بھی کرتے آئے ہیں، بعد میں بھی کرتے رہیے گا۔ یہ وقت سیاست کا نہیں، دشمن کو اتحاد و یگانگت دکھانے کا ہے۔ ایسے وقت میں آپ منہ بنا کر اپنی ہی قسمت کھوٹی کر رہے ہیں کیونکہ قوم ایسے وقت میں آپ کی ان باتوں سے جو معنی اخذ کر رہی ہے وہ آپ کو لے ڈوبیں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو 2018ء کے انتخابات کے بعد بھی ’’دھاندلی‘‘ کے