- الإعلانات -

مودی بینر تلے بنی فلم باکس آف پر فلاپ

کسی نے یہ درست کہا ہے کہ بھارتی انتہا پسند کٹر ہندو جماعت کے وزیراعظم نریندرا مودی کے بینر تلے بننے والی فلم سرجیکل اسٹرائیک باکس آفس پر ہی فلاپ ہو گئی ہے۔اس طرح اس فلم کے مصنف و ہدایتکار اجیت دوول نے مودی کی خواہشات کو خاک میں ملا دیا ہے۔اڑی حملے کے بعدمودی حکومت نے پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے اپنی فوج کو کسی سرجیکل اسٹرائیک کا ہدف دیا تو اس کی آرمی نے صاف کہہ دیا کہ محفوظ واپسی کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔ایئرفورس سے پوچھا گیا تو جواب ملا کہ سرپرائز دینے کا وقت گزر گیا ہے۔اگر ایسا کوئی خطرہ مول لیا بھی گیا تو پاکستانی فضائیہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔اسکی خفیہ ایجنسی آئی بی سے رائے لی گئی تواس نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ یوں کشمیری مسلمان مزید مشتعل ہوں گے۔ علاوہ ازیں بھارت کے دیگر علاقوں میں آباد مسلمانوں میں مزید نفرت بڑھے گی۔یہ خدشہ سوفیصد درست بھی ہے کہ کشمیری جنہوں نے پاکستانی پرچم کو کفن بنا لیا ہے وہ مزید کہر بن کر اٹھیں گے جبکہ بھارت کے 25 کروڑ مسلمانوں میں نفرت کا لاوہ پہلے ہی ابل رہا ہے وہ خالصتان کی طرح مسلمانستان کا نعرہ لگاسکتے ہیں۔مودی حکومت نے وزارت خارجہ کے ذمے پاکستان کو تنہا کرنے کاکام سونپا گیا مگراس میں بھی اسے ناکامی ہوئی۔اب وہ صرف سارک کانفرنس کے التوا پر بغلیں بجارہے ہیں۔بنیادی طور سارک کا پلیٹ فارم تین میں ہے نہ تیرہ میں۔اسے تو ختم ہوجانے میں ہی بہتری ہے۔تاہم یہ بات طے ہے کہ جب تک ملتوی ہوجانے والا اجلاس پاکستان میں ہونہیں جاتا اگلا اجلاس ہو نہیں پائے گا۔اس سے مراد یہ ہوئی کہ بھارت کو آخر آنا ہی پڑے گا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ اتنی ناکامیوں کے بعد کیا نریندا جی چین سے بیٹھ جائیں گے۔سادہ سا جواب ہے بالکل نہیں۔باکس آفس پر فلاپ ہونے والی فلم کا غصہ شاید اسی لیے پاکستانی فلم سٹارزپر نکالا جارہا ہے تاکہ عوامی ردعمل قابو میں رہے۔حالانکہ سزا کے اصل مستحق بھارتی فوج کے وہ ڈی جی ایم او تھے جس نے سرجیکل اسٹرائیک کی بڑھک مار کر نریندرا جی کو ماموں بنایا۔فلم فلاپ ہونے کے بعد اب سنا ہے کہ اڑی ڈرامے کی طرح اجیت دوول نے اگلے چند دن میں مزید ڈراموں پر کام شروع کردیا ہے۔یہ ڈرامے بھارت کے اندر دہشگردی کے واقعات کی صورت میں ہونے والے ہیں۔اس مقصد کے بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی ماہی گیروں کواستعمال کر کے ممبئی حملوں جیسا کوئی نیا ڈرامہ سٹیج کیا جائے۔بھارت ایسی ڈرامہ بازی صرف مقبوضہ کشمیر کی بگڑی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے کررہا ہے۔ایک وانی کی قربانی نے بھارتی سرکار کے نیچے سے کشمیری سر زمین کھینچ لی ہے۔عالمی توجہ اس جانب سے ہٹانے کے لیے نریندرا اینڈکمپنی کوئی بھی چھچوری حرکت کرسکتا ہے۔دنیا اس سے باخبر ہوچکی ہے۔۔کشمیر میں کیا ہورہا ہے اس پر بی بی سی کی اردو سروس نے کشمیر ڈائری کے عنوان سے ایک سلسلہ شروع کررکھا ہے جسمیں وادی کے کسی رہائشی کے تاثرات وواقعات پیش کیے جاتے ہیں۔چونکہ یہ براہ راست متاثرین تشدد کے تاثرات ہوتے ہیں لہذا اس سے ظلم و بربریت کی ایک نمایاں تصویر ابھر سامنے آتی ہے اب تک اس سلسلے کی چار ڈائریاں پیش کی جا چکی ہیں۔اپنے قارئین کی دلچسپی کے لییسرینگر کی رہائشی ایک خاتون کے تلخ تجربات و تاثرات پر مبمی ایک ڈائری من وعن پیش کی جارہی ہے۔ڈائری ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے کہ سنیچر کو پھر ایک نوجوان کی موت ہوگئی۔ بڈگام کے چک کاووسہ کا 22 سالہ مظفر پنڈت جو دو ہفتے پہلے، چھرّوں سے زخمی ہو گیا تھا چل بسا۔ مظفر عید کے تیسرے دن ظہر کی نماز پڑھ کر ایک ہمسائے کی دکان پر بیٹھا تھا کہ اس پر چھرّوں والا کارتوس داغا گیا۔اس کے دو آپریشن ہوئے مگر خون میں انفیکشن ہوگیا اور لاکھ کوشش کے باوجود اس کی جان نہ بچ پائی۔
مظفر پنڈت کی موت کب ہوئی۔سنیچر کی صبح جب اس نے اپنی آخری سانس لی یا اس دن جب اس پر فائرنگ کی گئی۔ کیا وہ اس دن مارا گیا جب کشمیر میں افسپا لگا جس کی وجہ سے فوجیوں کو کشمیری کو ہلاک کرنے کی کھلی چھٹی مل گئی ہے؟ یا مظفر پنڈت اس دن مارا گیا جب سیاستدانوں نے اپنا ضمیر بیچ دیا تھا؟ یا پھر اس دن جب ہماری علاقائی حکومت نے اپنا اختیار قابض حکومت کے حوالے کیا؟
سچ تو یہ ہے کہ مظفر پنڈت کی موت ان سب مواقع پر ہوئی ہے۔ مظفر پنڈت کے ساتھ ہم سب کا کوئی نہ کوئی حصہ بھی ان تمام مواقع پر مر جاتا ہے۔
نام: محمد مظفر پنڈت
عمر: مرنے کی نہیں تھی
موت کی وجہ: محکومیت
آج اس آزادی کی لہر کو 87 سے زیادہ دن ہوگئے ہیں۔ اس دوران کشمیر میں 90 سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں جن میں بوڑھے، جوان، بچے اور عورتیں سب شامل ہیں۔ تقریباً 14 ہزار زخمی ہیں اور 500 سے زیادہ کی بینائی چلی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چھ ہزار سے زیادہ گرفتار کیے گئے ہیں اور ان اعداد میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔آج کل ہندوستان اور پاکستان کے درمیان باتوں کی تیز جنگ چل رہی ہے جو ہر روز اخباروں کی سرخیوں اور ٹی وی کے مباحثوں میں زوروشور سے لڑی جا رہی ہے۔ مگر اصل جنگ تو یہاں کشمیر میں ہو رہی ہے۔ اس جنگ میں سرجیکل سٹرائیک کا مطلب ہے کہ بچے کی آنکھوں کو نشانہ بنا کر چھرّے داغے گئے۔اس جنگ کے جنگی قانون افسپا اور پی ایس اے ہیں۔ اس جنگ میں گولیوں اور چھّروں کے علاوہ بھی اور بہت سے ہتھیار ہیں جس میں لکڑی اور لوہے کے ڈنڈے بھی شامل ہیں۔اس جنگ کا نشانہ ہم لوگ ہیں، ہمارے گھر ہیں جنھیں ہندوستانی فوج گھس کر تہس نہس کر دیتی ہے۔ ہمارے کھیتوں کی کھڑی فصلیں ہیں جو جلائی جا رہی ہیں۔ ہمارے گھروں کی کھڑکیاں اور شیشے ہیں جو ڈنڈوں اور پتھروں سے توڑے جا رہے ہیں۔ ہمارے عمر رسیدہ بزرگ ہیں جو فوجیوں کی دہشت سے دل کے دوروں کا شکار ہوتے ہیں۔ ہماری عورتیں ہیں جو فوجیوں کی بری نظر کا شکار ہو رہی ہیں۔مگر یہ جنگ خاموشی سے لڑی جا رہی ہے۔ اس میں آپ کو چیختے ہوئے ٹی وی اینکر دکھائی نہیں دیں گے۔ یہ جنگ آپ کی ٹی وی سکرینز پر نہیں ہمارے گھروں، گلیوں اور محلوں میں چل رہی ہے‘‘۔اردو کے چند پیروں پر مشتمل یہ ڈائری محض ڈائری نہیں بلکہ پچھلے 69 برسوں کی جدوجہد آزادی کی مکمل تاریخ ہے جو خون سے لکھی جارہی ہے۔مظالم کی ایک طویل داستان ہے جو کشمیری اپنے جانیں دیکر رقم کررہے ہیں۔کشمیر بھارت کے ہاتھ نکل چکا ہے۔برہان وانی نے جان دے کر بھارتی قبضے کی زنجیرکی آخری کڑی کو بھی توڑ دیا ہے۔اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں۔