- الإعلانات -

غریب ملکوں کیلئے دہشت گرد ڈھونڈنامشکل کام نہیں

پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہوئے 69 سال ہو گئے ۔ پاکستان پر جمہوری حکمرانوں نے35سال اور فوجی مطلق لعنانوں نے34 سال حکومت کی۔ پاکستان کا عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی ایجنسیوں سے لیا قرضہ تقریباً 70 بلین ڈالر یعنی 7240 ارب روپے اور پاکستانی مالیاتی اداروں اور بینکوں سے لیا قرضہ تقریبا 20 ہزار ارب روپے ہے۔ اس وقت فی کس قرضہ تقریباً ایک لاکھ اور 35 ہزار روپے کے قریب ہے۔ کسی بھی پیداواری کام کے لئے قرض لینے میں کوئی قباحت نہیں ۔ اگر ہم جائزہ لیں تو امریکہ 20 ہزار ارب ڈالر، بر طانیہ 10 ہزار ارب ڈالر، فرانس 6 ہزار ارب ڈالر مقرو ض ہے مگر ان ممالک نے قرض لیکر ملک اور قوم کیلئے تعمیری کام کئے اور بد قسمتی سے پاکستان کے مختلف ادوار کے حکمرانوں نے جتنے قرضے لئے وہ پاکستانی عوام پر نہیں بلکہ حکمرانوں کے سوئزر لینڈ ، فرانس اور پانامہ کے آف شور کمپنیوں میں جمع اورلگائے گئے جسکی وجہ سے غریب ، غریب سے غریب تر اور امیر تر ہو تے جا رہے ہیں۔ پاکستان کا قرضہ پاکستان کے مجموعی پیداوار کا 65 فی صد ہے یعنی سادہ الفا ظ میں ہم اپنی آمدن کا 65 فی صد سود کی ادائیگی پر دے رہے ہیں اور باقی 35 فی صد، کسی حد تک 19کروڑ پاکستانیوں اور زیادہ تر حکمران اپنے عیاشیوں پر خرچ کر رہے ہیں ۔ اگر ہم اڑوس پڑوس پر نظر ڈالیں تو پاکستان کا قرضہ پاکستان کی کل مجموعی آمدن کا 65فی صد ، بھارت کا 40فی صد اور بنگلہ دیش کا 32فی صد ہے اور 2020 تک پاکستان کا خارجہ قرضہ 90 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔سال 2008 میں پاکستان کا فی کس بیرونی قرضہ 37 ہزار روپے، سال2012 میں 81ہزار روپے ، سال 2013 میں فی کس قرضہ 91 ہزار روپے سال 2015 میں ایک لاکھ 5 ہزار روپے اور سال 2016 میں پاکستان کا قرضہ ایک لاکھ35 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔ اس ے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران کس طرح قرضوں پر قرضے لئے جا رہے ہیں۔ گذشتہ 10 سال میں پاکستان نے 45 ارب ڈالر قرض لیا جو ایک ریکارڈ ہے۔ نواز شریف اکثر و بیشتر اپنی کامرانیوں اور کامرانیوں کا ذکر کرتے ہیں ۔ سال 1999 میں جب مطلق العنان پر ویز مشرف نے نواز شریف کی حکو مت ختم کی تو اس وقت پاکستان کا خارجہ قرضہ ملکی مجموعی آمدنی کا 99 فی صد جبکہ اُس وقت بھارت کا قرضہ اُن کی ملکی آمدن کا 45 فی صد تھا۔ پاکستان بننے سے لیکر اب تک امریکہ نے پاکستان کو کُل 79 ارب ڈالر امداد دیا ہے۔مگر یہ بات سمجھ سے بالا ترہے کہ باہر سے لئے قرضے اور مالی امداد کس کام پر لگا یا گیا۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ قرض لینے میں کوئی قباحت نہیں مگر بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے ہر دور کے حکمرانوں نے پاکستان اور پاکستانیوں پر کچھ خرچ نہیں کیا بلکہ ملکی آمدن اور ملکی اور بین الاقوامی قرضے حکمرانوں کے تجو ریوں میں چلے گئے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ 168 ممالک کی فہرست میں پاکستان 154 وان بد عنوان ملک ہے اور حال ہی میں” مش نیوز "کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف روس کے صدر ولادیمیر پو ٹن کے بعد دنیا کے دوسرے کرپٹ حکمران ہے۔ 168 ممالک کی بد عنوان ممالک کی فہرست میں بھارت 67 نمبر پر ، بنگلہ دیش 66 نمبر پر اور ہمارا پڑوسی ملک بھوٹان 27ویں نمبراور پاکستان 154 وان بد عنوان ملک ہے ۔اگر ہمارے حکمرانوں نے قرضہ لیا ہے تو اس سے عام لوگوں کی سماجی اقتصادی زندگی میں تبدیلی آنی چاہئے مگر یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ جنوبی ایشیاء کے ممالک میں پاکستان میں بے روز گاری بُہت زیادہ یعنی 11 فی صد، بھوٹان ، سری لنکا اور بھارت میں 3.2فی صد ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں پاکستان میں سب سے زیادہ بے روز گاری ہے۔حضرت عائشہ کا فرمان ہے کہ اللہ نے کسی کو غریب نہیں پیدا کیا بلکہ یہ معاشرہ اور سماج اُس کو غریب کرتا ہے۔ویکی پیڈیا کے مطابق اگر ہم پاکستانیوں کی فی کس آمدن 300سو روپے لگاتے ہیں تواس حساب سے غُربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوں کی شرح 45فی صد ہے، یعنی ملک میں 10کروڑ لوگ ایسے ہیں جسکی آمدنی 300روپے سے کم ہے۔حکمران بتا دیںآج کل مہنگائی کے اس دور میں 300 روپے سے کسی کی بنیادی ضروریات پو ری ہوسکتی ہیں۔ یو این ڈی پی کے مطابق پاکستان بین الاقوامی انسانی وسائل کی184 ممالک کی فہرست میں 147 نمبر پر ہے۔بین الاقوامی انسانی وسائل کی ترقی کی فہرست میں کسی ملک کی متوقع زندگی، تعلیم اور ملک کی مجموعی اور فی کس آمدنی شامل ہے۔اگر کسی ملک کی ترقی کا اندازہ اُس ملک میں صحت کی شعبے میں خرچ کی گئی رقم سے بھی لگا یا جاسکتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں صحت کے شعبے میں اپنی ملکی آمدنی کا 2 فی صد یعنی فی کس خرچہ 30 ڈالر ، سری لنکا میں 100 ڈالر جبکہ ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکا اور سوئزر لینڈ میں بالترتیب 10 ہزار اور 8 ہزار ڈالر خرچ کیا جا رہا ہے۔کسی ملک کی ترقی کا اندازہ اس ملک میں توانائی کے ذرائع یعنی بجلی اور گیس کی استعمال سے بھی لگا یا جاتا ہے۔ اعدا و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں گھریلو ، صنعتی اور زرعی صارفین کے صرف 3 کروڑ بجلی کے کنکشن ہیں جبکہ سوئی گیس نہ ہونے کے ممبر ہے۔ملک کے