- الإعلانات -

عدالت عظمیٰ کے ریمارکس حکومت کیلئے لمحہ فکریہ

چیف جسٹس  آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے نام پر بادشاہت قائم ہے اور عوام کے ساتھ مذاق ہورہا ہے عوام کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے ۔ سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجز بنچ نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کے متعلق لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل پر معاملے کے فنی اور ثقافتی پہلوؤں کا جائزہ لینے کیلئے ماہرین کی رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ تین تین افراد کے نام فراہم کریں جو ثقافتی تعمیرات کے شعبے میں مہارت رکھتے ہوں اور تکنیکی پہلوؤں پر عدالت کی معاونت کرسکیں ۔ سماعت کے آغاز پر پنجاب حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہاکہ اورنج لائن ٹرین منصوبے میں قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی مسئلہ صرف تکنیکی اور ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچنے کے اندیشے کا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کو نمائندے منتخب کرتے وقت سوچنا چاہیے ۔ غیر جمہوری رویے پر عوام کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے ۔ گڈ گورننس کے نام پر ہیڈ گورننس جاری ہے اورنج ٹرین کے نام پر تاریخی ورثہ مٹایا جارہا ہے ۔اگرچہ چیف جسٹس نے گزشتہ روز اپنے بیان کی قدرے وضاحت کی ہے لیکن عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کے ریمارکس حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہیں جب سپریم کورٹ یہ کہہ رہی ہوکہ گڈ گورننس نہیں ہے اور بیڈ گورننس جاری ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ عدالت عظمیٰ کے ریمارکس کو سنجیدہ لے اور اپنی کارکردگی بہتر بنائے حکومت کی یہ ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ وہ عوام کے معیار زندگی کو بلند کرے ۔ ملک سے بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ کرے امن و امان قائم کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف کو یقینی بنائے ۔ تعلیم و صحت کی سہولیات بہم پہنچائے لیکن ہماری بدقسمتی یہ ٹھہری کہ حکومت اپنی کارکردگی کو لائق ستائش قرار دے رہی ہے لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے جارہے ہیں ۔ پانامہ لیکس کا ہنگامہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ وزیراعظم پانامہ کی زد میں آئے ہوئے ہیں اپوزیشن جماعتیں تحقیقات کا مطالبہ کررہی ہیں اورحکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ان حالات میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہورہا ہے ۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے 30 اکتوبر اسلام آباد کو بند کرنے کا اعلان کررکھا ہے ۔ ملک میں کرپشن کرپشن کی صدایں سنائی دے رہی ہیں۔ کوئی ادارہ ایسا نہیں جس میں بدعنوانی نہ ہو۔ حکومت سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے میں ناکام ہے جس سے محاذ آرائی کا ماحول بنتا جارہا ہے اور حکومت کے خلاف احتجاج ہورہا ہے دھرنے اور مظاہرے کیے جارہے ہیں جمہوریت میں وزیراعظم عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتا ہے لیکن یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں حکومت اپنے اوپر لگنے والے الزامات سے کنی کترا رہی ہے ۔ عدالت عظمیٰ نے درست کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے نام پر بادشاہت قائم ہے اور عوام مایوس ہورہے ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ریمارکس کو سنجیدہ لے اور اپنی کارکردگی کوبہتر بنائے ۔ گڈ گورننس کے نام پر بیڈگورننس کے رجحان کو روکے عوام کا معیار زندگی بلند کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ملک میں بادشاہت کی بجائے جمہوریت کا راج ہونا چاہیے۔ جب تک بادشاہت کا تاثر رہے گا جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکے گی۔ حکومت گڈگورننس کو یقینی بنائے اور جمہوریت کے فروغ میں جمہوری تقاضوں کی پاسداری کرے۔
دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے 10خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے ۔ یہ دہشت گرد پولیس، فوجی اہلکاروں ، معصوم شہریوں ، پولیو ورکرز اور این جی اوز کے ملازمین کے قتل میں ملوث تھے ۔ سزائے موت پانے والوں میں مجرم مظفر اقبال ، نے صوبیدار اول خان فرنٹیئر کور کے نیک عظمت اللہ سپاہی، شفیق اور پولیس کے اے ایس آئی چنار گل کے قتل کا اعتراف کیا ۔ جن دہشت گردوں کی سزائے موت میں توثیق کی گئی ان میں محمد شاہد، حسین شاہ ، انور زیب ، عبیدالرحمن ، شیر عالم ، شمس القمر شامل ہیں ۔ آرمی چیف کا یہ اقدام لائق تحسین ہے جب تک دہشت گردوں کو عبرت کا نشان نہیں بنایا جاتا اس وقت تک دہشت گردی کاخاتمہ ممک نہیں۔ فوجی عدالتوں کے فیصلے دہشت گردی کی روک تھام اور انسانیت کے دشمنوں کو ان کے انجام تک پہنچانے میں ممد و معاون ثابت ہورہے ہیں اور یہ دوررس نتائج کے حامل قرار پا رہے ہیں ۔ دہشت گردی نے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کررکھا ہے جس کے خلاف آپریشن ضرب عضب جاری ہے اور اس کے اہداف پورے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اب تک سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے اور ان کے نیٹ ورک کو تباہ و برباد کردیا گیا ہے۔ کئی علاقے بھی پاک فوج نے دہشت گردوں سے واگزار کروا لئے ہیں اور کافی حد تک دہشت گردی کو کنٹرول کرلیا گیا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر کماحقہ عمل درآمد کیا جائے تاکہ ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کیا جاسکے ۔ دہشت گردی میں بھارت کا ہاتھ بھی ہے اور بھارتی دہشت گردانہ کارروائیوں کے ثبوت پاکستان عالمی برادری کو دے چکا ہے ۔ دنیا کو بھارتی دہشت گردی کا نوٹس لینا چاہیے ۔ دہشت گردی کاخاتمہ کرکے ہی دنیا میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ دہشت گردوں کی سزائے موت میں توثیق انصاف کے تقاضوں کی آئینہ دار ہے ۔ فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق دہشت گردوں کیلئے پیغام ہے کہ وہ اس طرح کے عبرتناک انجام کیلئے تیار رہیں ۔ پاک فوج کا کردار قابل رشک ہے۔ دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانے میں فوجی عدالتوں کا کردار لائق تحسین ہے۔
منی لانڈرنگ کیس میں الطاف حسین کی بریت
میٹرو پولیٹن پولیس اسکاٹ لینڈ نے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین سمیت 6 افراد کیخلاف منی لانڈرنگ کیس ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثبوت ناکافی ہیں ۔ مقدمہ بند کیا جارہا ہے کیس آگے چلے گا نہ آئندہ کوئی کارروائی ہوگی ۔سکاٹ لینڈ یارڈ کا یہ فیصلہ عوام الناس کیلئے حیران کن قرار پایا تعجب ہے کہ مقدمہ قائم کرتے وقت ٹھوس شواہد عدالت کو کیوں نہ دئیے گئے ۔ اگر ثبوت ناکافی تھے تو خواہ مخواہ کیس کیوں درج کرایا گیا ۔ الطاف حسین منی لانڈرنگ کیس میں بری ہوگئے اب ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کا قصہ پس منظر میں چلا جائے گا ۔ سیاست میں ایک دوسرے کے مقدمات یا الزامات لگاتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ ان کو ثابت بھی کیا جاسکے کوئی بھی عدالت دستاویزی ثبوت اور شہادتوں کے بغیر یکطرفہ فیصلہ نہیں دیتی اس فیصلے کے الطاف کی سیاسی زندگی پر جو اثرات مرتب ہونگے ان کا کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن اثرات ضروری ہونگے ۔