- الإعلانات -

متنازعہ رپورٹنگ۔ انگریزی اخبار کی ڈھٹائی

ملک کے معروف انگریزی اخبار کے صفحہ ِٗ اوّل پر 6 اکتوبر2016 کوشائع ہونے والی ایک’ نمایاں متنازعہ خبر‘ اپنے مندرجات میں خبر تھی یا نہیں؟ لیکن، وفاق اور پنجاب حکومت کے اہم ذمہ دار حلقوں نے ’ڈان ‘ میں شائع خبر کو من گھڑت ‘ لغو‘ خود ساختہ‘ بے سروپا ‘ ذاتی خواہشات ‘ ذاتی مفادات ‘ یا پھر کسی پاکستان دشمن گروہ کے گھٹیا گمراہ کن تصو رات پر مبنی فضول سی ایک ’ڈیسک اسٹوری ‘ قرار دیا ہے باشعور محبِ وطن پاکستانی حلقوں نے یہ من گھڑت اسٹوری پڑھ کر فی الفور یقیناًاندازہ لگالیا ہوگا اُنہیں ہر پہلو سے یہ خبر ’جھوٹ‘ کا پلندہ معلوم د ی ہوگی یاد رہے یہ متذکرہ خبر اگر اخبار کے ایڈیٹر کی منشاء اور مرضی شامل تھی تو اِس کے معنی یہ ہوئے کہ پاکستانی عوام کی نظریاتی امنگوں اور قومی خواہشات کی ترجمانی کا فریضہ ادا کرنے سے آہستہ آہستہ شائد ’یوٹرن ‘ لینے پر اپنے ’پَر‘ تو لنے لگا ہے اگر واقعی ایسا ہورہا ہے تو پھر اسے آپ ایک قومی المیہ تصور کریں ڈان جیسا انگزیری اخبار یا ڈان جیسے چینل پر نامعلوم ایسی کیا افتاد آن پڑی ہے، ملکی وغیر ملکی اعلیٰ تعلیم یافتہ انگریزی داں حلقے اب یہ سمجھنے لگیں کہ ڈان گروپ بھی پاکستان کی نظریاتی‘ ثقافتی اور سیاسی وسفارتی اسٹرٹیجک ضروریات سے خود کو علیحدہ تو نہیں کررہا؟ 6 ؍اکتوبر کی متنازعہ خبر تو کل کی بات ہے گزشتہ کئی برسوں سے ایسی ڈیسک اسٹوریاں ‘ کالمز ‘ تجزئیے اور مضامین اس کے صفحات کی زینت بنے، اُن پر ایسے ہی ملتے جلتے کئی اعتراضات عوامی حلقوں نے محسوس کیئے ہیں ‘ خاص کر پاکستان کے دفاعی اہم ایشوز پر اِسی متذکرہ بالا اخبار نے پاکستانیوں کے پوائنٹ آف ویووز کے برخلاف کئی غیر مصدقہ رپورٹیں پہلے بھی شائع کیں، یہ گہرے تفکر اور قومی تقاضوں سے ہم آھنگ سنجیدگی کا مقام ہے مکمل قومی پیمانے پر یکسو ہوکر اب ہمیں سوچنا ہوگا عالمی سطح پر جہاں صرف انگریزی اخبارات ہی پڑھے جاتے ہیں وہاں پاکستان کی سماجی ‘معاشرتی ‘ ثقافتی ‘ سیاسی وسفارتی خاص کر دفاعی شعبوں پر متعصبانہ نوعیت کے بڑے ہی سنگین قسم کے سوالات ہر چند ماہ بعد جنم لینا کیوں شروع ہوجاتے ہیں ، صحافتی شعبوں سے متعلق کہا جاتا ہے اخبارات پر جب ملکی عوام کا ایک بار بھروسہ قائم ہوجاتا ہے، تو اُنہیں بڑا پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے اِس بارے میں سب متفق ،کہ کسی ملک و قوم کی اخلاقی وسیاسی مایوسیوں کو مزید گہرائیوں کی کھائیوں میں جا دھکیلنے اور اُنہیں تہہ وبالا کردینے میں اُس ملک اور قوم کے د شمن اپنا مذموم پروپیگنڈا کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے، گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل اور14 جون2014 سے تو خاص طور پر پاکستانی افواج اور آئی ایس آئی سمیت ملک کے دیگر سویلین سیکورٹی ادارے دنیا بھر کے خطرناک وسفاک ملکی وعالمی دہشت گردوں کے خلاف لڑی گئی جنگ میں اب تک اپنی کتنی بیش بہا قربانیاں وطن پر نچھاور کرچکے ہیں عوام کی کثیر تعداد سمیت زندگی کے مختلف شعبوں جن میں تاجر برادری‘ وکلاء اور صحافیوں کے علاوہ ممتاز عالم دین بھی بھی شامل ہیں اُن کی قیمتی جانیں بھی گئیں پھر بھی بھارتی میڈیا اور نریندرامودی کی زبان بولیاں کیوں ہمارے اردو یا انگریزی اخبارات کی شہ سرخیاں بنیں؟ہر میڈیا کی کوئی نہ کوئی ’نرو سینٹر پالیسی ‘ ہوتی ہے یہ پالیسی تبدیل نہیں ہوتی جس سے کسی صورت بھی ذر ہ برابر کبھی سرمو انحراف نہیں کیا جاسکتا ہے لہٰذاء آج جس انگریزی اخبار کو مختلف حیلے بہانے کرنے پڑ رہے ہیں۔پاکستان کی قومی سلامتی کے خلاف پھیلائی گئی متعصبانہ پروپیگنڈا مہم کی حساس نازکتوں کو پیشِ نظر رکھتے اور بھارت یا کسی بھی دوسری عالمی طاقتوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی تشہیری مہمات کے خلاف یہ سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹ جاتے جیساکہ عالمی دنیا کے انگریزی دان طبقہ جن کی باگ دوڑ ‘اِس میں کوئی شک نہیں‘ جو عالمی یہودی ساہوکاروں کے ہاتھوں میں ہے، ہم پاکستانی صحافیوں کو ‘خاص کر ملکی ممتاز انگریزی اخباروں کو اُن کی بالکل پرواہ نہیں کرنی کہ دنیا کو کیا پڑھنا ہے؟ ‘ دنیا کو کیا دیکھنا پسند ہے؟ ہمیں اُن کی مرضی پر نہیں چلنا بلکہ ہمیں اپنے معروضی اسٹرٹیجک حالات کی دفاعی حساسیّت کی ضروریات کو اولیت دینی ہے پاکستان کا بچاؤ‘ پاکستانی سماجی قدروں کا تحفظ ‘ پاکستانی معیشت کی سریع الحرکت بحالی پھر پاکستان کے دفاعی انفراسٹرکچر کے اہم و حساس شعبہ کے بارے میں عالمی پیمانے پر پھیلائی گئی من گھڑت ‘ بے سروپا اور جھوٹی پروپیگنڈا مہم کا پاکستانی نظریاتی ہتھیاروں سے اپنے بیباک قلم کے ذریعے جراّت مندانہ مقابلہ کرنا ہے اگر ہمارے قومی اخبارات ہی دشمنوں کی بولیاں بولنا شروع کردیں تو پھر ہمیں باہر کے دشمنوں کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے؟سائرل المیڈا کی متنازعہ اسٹوری کے پیچھے چھپے سازشی ہاتھ چاہے وہ ملکی ہوں یا غیر ملکی اُنہیں بے نقاب کرنا وفاقی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے قومی سلامتی سے متعلق اہم اجلاس میں ہونے والی ’اہم گفتگو‘ یقینی وثوق کے ساتھ سائرل المیڈا کی اسٹوری بن گئی ؟تفتیشی صحافت کرنے والوں کے کوئی نہ کوئی تو بنیادی اصول وضوابط ہوں گے ۔دنیا بھر میں ڈان کی اِس خبر نے پاکستان کی کیسی جگ ہنسائی کی امریکا ‘ مغرب اور برطانیہ بھارت کی پشت پر کھڑے اُسے ہلا شیری دے رہے ہیں اور ہم یہاں آئی ایس آئی جیسی معتبر پاکستانی خفیہ ایجنسی پر (سنی سنائی ) تہمتوں کو بلا کسی تحقیق کے دنیا بھر میں پھیلانے کا از خود موجب بنے نہ نادم ہونے کو تیار ہیں بلکہ سینہ تانے ہوئے پاکستان کی بدنامی کی باعث بنے والے رپورٹرکا دفاع کررہے ہیں ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہورہے؟ سائرل المیڈا کی اسٹوری نے پاکستانی سیاسی قلعہ بندی کے ’سرکاری رازوں ‘کے حصار ڈھا دئیے ہر عام ممبر صوبائی اسمبلی سے صدرِ پاکستان تک اپنے عہدوں کا حلف اُٹھانے والے سبھی آئینِ پاکستان میں درج اور نکات کے ساتھ یہ حلف بھی اُٹھاتے نہیں ہیں نا؟ ’اور یہ کہ اگرمیرے علم میں کوئی ایسی بات آئے جو ملکی مفاد سے متعلق ہو وہ میں کسی اور کو نہیں بتاؤں گا ‘ جو کچھ بھی المیڈا نے لکھا کیا یہ ملکی مفاد کے زمرے میں آتا ہے ؟ ہما را کام اتنا ہی تھا جنابِ والہ! اب وزیر اعظم پاکستان اپنا آئینی فرض ادا کریں غیر جانبدار صحافیوں کی اگر کوئی موثر تنظیم ملک میں ہے تو سینئر صحافیوں کی وہ فعال تنظیم یقیناً’ساءئرل المیڈا معاملہ ‘ میں وزیراعظم کی معاون ثابت ہوگی، اب کوئی دیر کیئے بناء ’ساءئرل المیڈا معاملہ ‘ کی تحقیقات شروع کی جائیں چونکہ کروڑوں محبِ وطن عوام کا اب صرف یہی