- الإعلانات -

تمہاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں

شمالی مہاراشٹر میں ’’ دُھلے شہر ‘‘ کے قریب چندو بابو چوہان کا گاؤں ’’ بور ویہر ‘‘ ہے۔ اس چھوٹے سے گاؤں میں زیادہ تر کسان ہیں ۔ چندو کا بڑا بھائی ’’ بھوشن ‘‘ بھی فوج میں ہے اور گجرات میں تعینات ہے ۔ چوہان خاندان سے تعلق رکھنے والے یوگیش پٹیل کے مطابق چندو بابو پاک فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو چکا ہے ۔ پٹیل کے مطابق اسے انڈین فوج کے دفتر سے فون آیا جس میں اسے بتایا گیا کہ چندو بابو پکڑا گیا ہے ۔ اس نے بتایا کہ چندو کے پکڑے جانے کی خبر سن کر اس کی نانی انتقال کر گئی ۔ چندو کے گھر کے باہر افسوس کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ۔ اور اس کی آخری رسومات چندو کے بڑے بھائی ’’ بھوشن ‘‘ کے آنے پر ادا کی جائیں گی ۔ یوں خود بھارت کے ہندی اخبار نے اس بات کی پوری طرح تصدیق کر دی ہے کہ بھارتی فوج کا سپاہی پاکستانی تحویل میں ہے ۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ’’ بان کی مون ‘‘ نے بھارت کے نام نہاد پراپیگنڈے کی قلعی کھولتے ہوئے ان کے مبینہ سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کو پوری مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایل او سی کی نگرانی پر تعینات یو این مبصرین کے مطابق بظاہر اس بھارتی دعوے میں سرے سے کوئی وزن نہیں کہ پاکستانی حدود کے اندر کسی قسم کا سرجیکل آپریشن ہوا ہے ۔ بی بی سی ہندی نیوز کے مطابق اس معاملے کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے یو نائیٹڈ نیشن کے ترجمان ’’ سٹیفن ڈی ‘‘ نے کہا کہ ’’ ان بھارتی دعووں میں قطعاً کوئی صداقت نہیں کہ انڈین آرمی کے کسی فوجی دستے نے ایل او سی کے اس پار پاکستانی حدود کے اندر کسی قسم کا کوئی سرجیکل آپریشن کیا ہے ‘‘ ۔ یوں بھارت کے اس بے بنیاد پراپیگنڈے کی دھجیاں اڑ گئی ہیں ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ یوں تو ہمیشہ سے ہی دہلی کے حکمرانوں نے پاکستان کے خلاف نت نئی سازشوں کے جال بُنے ہیں مگر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے تو اس ضمن میں بھارت نے اپنے مکروہ عزائم کو کچھ اس طرح طشت ازبام کیا ہے کہ ہر ذی شعور پر دہلی کے عزائم پوری طرح واضح ہو کر سامنے آ گئے ہیں ۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا نے گذشتہ دنوں سے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کا جو نیا مکروہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس سے دہلی کے عزائم بڑی حد تک واضح ہو جاتے ہیں ۔ اسی کے ساتھ ساتھ پاکستانی فنکاروں کے خلاف بھارت میں جو جنونی سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور انھیں جس ہتک آمیز طریقے سے پاکستان واپس جانے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے اس سے ایک جانب خود پاکستان فنکاروں کے لئے عبرت کا بہت سامان ہے اور انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ صرف پیسے اور ذاتی مفاد کے علاوہ قومی غیرت بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔ مگر اس کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ یہ امر خاصا حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کی بھاری اکثریت نے قومی حمیت کا ثبوت دیتے ہوئے بھارتی فلموں ، ڈراموں کی نمائش پر رضا کارانہ طور پر پابندی لگا دی ہے اور بھارتی میڈیا کا مکمل طور پر بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنے اس عہد کی تجدید کی ہے کہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا ہر سطح پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا بلکہ دہلی کے جنونی حکمرانوں کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنی شیطانی روش سے باز آ جائیں ورنہ تاریخ انھیں پچھتانے کا موقع بھی نہیں دے گی اور یہ شعر عملی صورتحال اختیار کر لے گا کہ
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے ، ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں
اگرچہ یہ شعر کسی دوسرے موقع محل کی مناسبت سے کہا گیا تھا مگر یہ موجودہ صورتحال کے