- الإعلانات -

جمہور ، جمور یت ، حکمرانی اور قومی اضطراب

جمہور جسے عام فہم زبان میں عوام کہا جا تا ہے اور جمہور یت لفظ جمہور سے مشتق ہے اور پھر یہی عوامیت جومنتخب اراکین مقامی حکومتوں سے لیکر صوبائی اور قومی سیاسی دھا رے اور اسکے انتخابی نظام کے تحت وجود میں آنے والے اور صوبائی اور وفا قی ایوان نمائندگان جن میں لو کل کو نسلوں سے لیکر صوبائی اسمبلیاں اور قومی اسمبلی اور سینٹ جس کو پا رلیمنٹ ( شوریٰ) کہا گیا ہے اپنی عوام کیلئے اپنے اپنے متعلقہ دائر ہ کا ر میں مقامی اور علاقائی نوعیت کے مسائل اور امور کیلئے درجہ بہ درجہ ترکیب و ترتیبِ زمانی اور مکانی کے تحت وقوع پذیر ہو نے والے واقعات کے مطا بق ضروری قانون سازی کر تی ہیں اور پھر یہی قوانین انتظامیہ کی قوتِ نافذہ کے ذریعے اپنے اپنے متعین دائر ہ کا رمیں نافذ العمل ہو جاتے ہیں ۔ ہمارے ہا ں تو بد قسمتی سے بہت سارے قوانین صدراتی آرڈنیسز کے ذریعے بنائے جا تے ہیں اگرچہ حالیہ آئینی ترمیم میں قانون سازی کی اس عجلت پسندانہ بغیر کسی مصلحت اور ہنگامی صورت حال کے جوا ز کیلئے قابل نفاذ بنانا زیادہ احسن نہیں سمجھاجاتا کیونکہ ایسی صورت حا ل میں پارلیمنٹ کوBypass کرتے ہو ئے اُسکے قانون سازی کے اختیارات سے باہر باہر اُنہیں منظور کرا لیا جا تا ہے ۔ کیا اتنے بڑے پیمانے پر قانون سازی جس میں بیشمار Actsبشمول صدراتی آرڈنیسز کے وجود میں آنے اور نافذ ہو نے کے کیا جمہوری نظام جمہور کو بہترین حکمرانی اور اُس کے تحت اپنایا جا نے والا ڈیلیوری سسٹم عوام الناس کو جملہ امور میں آسانی اور سہو لت فراہم کر سکا ہے ؟ کیا آئین اور اُس کے تحت بنائے گئے قوانین آئینی روح اور اُس کے مندرجات کے مطابق عوام کو معاشی و معاشرتی سیاسی و سماجی مسائل میں اُنکی قومی امنگوں ، خواہشات اور آدرشوں کی تر جمانی اور عکاسی کر تے ہوئے جمہور کے دکھوں کا مداوا اور اُنکے بیشمار مسائل جو حقو ق و فرائض کے ضمن میں آئین میں موجو د ہیں کو کسی ٹھوس اور جامع لا ئحہ عمل کے تحت قابل عمل بنایا گیا ہے ، جواب نفی میں ہے ۔
یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جمہور کا حق رائے دہی کا حق موجو دہ بیکار انتخابی نظام اور اُوپر سے طالع آزماء اور موقع پر ست سیا ستدانو ں کے ہا تھوں برابر پا ئمال ہو تا آرہا ہے جس کے نتیجے میں منطقی طور پر جمہور کے حقیقی نمائند ے اقتدار کے ایوانو ں میں پہنچ ہی نہیں پا تے اور بالآ خر اعلیٰ اشرافیہ طبقہ جس میں ہرقسم کے نو دولتیے بھی شامل ہو تے ہیں عوامی حق رائے دہی کو بخو بی ہتھیا لیتے ہیں اور پھر وہ جمہور اور مملکت خدا داد کی قسمت کے فیصلے کر نے کے اہل قرار پا تے ہیں ۔ حالانکہ اُنکی سیاسی بصیرت ، دانشمندی اور نظریہ پاکستا ن سے وابستگی سب کے سامنے عیاں ہے ۔ یہی وہ طبقہ ہے جو ہر موقع پر احتساب کے کڑ ے نظام کے نہ ہو نے کا فائدہ اُٹھا کر پور ے بو سیدہ سسٹم کو یر غمال بنا کر قومی امنگوں اور قومی مقاصد کو پورا کرنے کی بجائے اپنے ذاتی مقاصد کی پوری طرح حفاظت کر تا ہے اور اُنکے حصو ل کیلئے ہر جائز و ناجائز طریقے کو عمل میں لایا جاتا ہے ۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہی عمل تواتر کی حدود کو پہنچ چکا ہے جس میں غربت وافلاس ،بے تحاشہ بے روزگاری حکومتی معاملات میں میر ٹ اور شفافیت کا نہ ہو نا ، انسانی بنیادی ضروریات جن میں پینے کے صاف پانی سے لیکر بنیادی تعلیم و تر بیت اور صحت کی سہو لیات کا فقدان جو بے وسائل اور بے وسیلہ عوام الناس کو موت کے منہ میں جلدی دھکیل رہا ہے ۔ اسی طرح سستے اور فوری انصاف کا حصو ل نا ممکنات میں شامل ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں کے اپنے اپنے تنا ظر میں بد امنی اور لا قانونیت کا دور دورہ ہے غربت کی شرح چالیس فیصد کو بھی کراس کر چکی ہے اور حقیقی خط غر بت دیہی اور شہر ی آبادیوں کے وسائل کے لحاظ سے اور ملک کے اندر مختلف regionsکے حوالوں سے نہایت پریشان کن صورت حال پیش کر رہا ہے ۔
آئین میں درج شدہ بنیادی حقوق معاشی اور معاشرتی تحفظ سے متعلق دفعات کو ان پڑھ جمہور کیسے سمجھ سکتی ہے اور کیسے مستفید ہو سکتی ہے کیو نکہ اُنہیں تو کچھ ڈیلیور ہی نہیں ہو رہا اور وہ طر ز حکمرانی جو صرف حکمران اور مراعات یا فتہ طبقہ اشرافیہ کے تحفظ اور فلا ح پر کاربند ہو غریب عوام کی مجبور اور مقہور آوازیں (Passive Voices)بن چکی ہیں جن کو موجو دہ سسٹم کچھ بھی نہیں دے سکا ۔ آج ہم پاکستان کے اندرونی و بیرونی چیلنجز کا ذکر کر تے ہیں تو غیروں سے گلہ بجا ہے لیکن اپنو ں نے بھی اس قوم سے پے در پے نا انصا فی کی جس کے نتیجے میں غیر دانشمندانہ ، غیر معقول اور تدبر اوربصیرت سے عاری قومی پا لیسیاں بد قسمتی سے اس قوم کا مقدر ٹھہریں اگر ہم قومی اداروں کو قومی تر جیحات کے تناظر میں دیکھیں تو سیا سی بصیرت اور تدبّر پر کئی سوالات اُٹھتے ہیں ورنہ ہم نہ تو اندرون ملک ایسی گھمیبر صورت حال سے دو چار ہوتے نہ سفارتی امور میں تنہائی کا شکار ہوتے۔ سیا ستدانوں کے آپس میں قومی کم اور ذاتی مفادات کا تحفظ اور وسعت کیلئے ایک دوسرے کو نیچا دکھانا اور آپس میں دست و گر یباں ہو نا عام سی با ت ہے ۔ ہماری مشرقی سرحد پر بھارت کے مکارانہ اور بھونڈ ے انداز کے بدلتے ہو ئے خطرناک پینترے بھارت کی اپنی ملکی راہ عامہ کے علاوہ عالمی راہ عامہ کو بھی ہموار کر نے کے بہانے کنفیوز اور گمراہ کر رہے ہیں ۔ سرحدوں پر بڑ ھتی ہو ئی کشیدگی اور مودی سرکارکی جنگ کی دھمکیاں جس میں آبی جارحیت کا مو جود خطرہ اور مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کا عروج تیزی سے بگڑتی ہو ئی صورت حال کی برابر عکاسی کر رہا ہے اور یہ نازک صورت حال ہمیں بحثییت قوم پکار رہی ہے کہ ہم ہر سطح پر قومی اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں وہ APCکی حالیہ میٹنگ ہو یا پا رلیمنٹ کا متحدہ اجلا س پھر بھی ہم آہنگی اور یکجہتی کو اُس طرح مظاہر ہ نہ کر سکے جو موجودہ قومی سلامتی کا تقاضا ہے ۔
اندرایں حالا ت ہما رے قومی ادارے جس میں پا رلیمنٹ کے علاوہ عدالت عظمیٰ اور پاکستان کی ملٹریEstablishmentشامل ہے سیاسی قیادت خواہ وہ حکمران اشرافیہ ہو یا حزب اختلاف ہو سب کو موجودہ حالات کے تنا ظر میں صا ئب مشورہ دے کیونکہ کبھی رسمی طریقوں سے بڑھ کر زمینی حقائق کے مطابق قومی خواہشات کی ترجمانی اور اُمنگوں کی پا سداری کر نی پڑ تی ہے تاکہ ملکی سلامتی اور وقار پر کوئی آنچ نہ آنے پائے ۔ یاد رہے کہ ہمیں ایسے امن و سلامتی کے مسائل جو اندرونی یا بیرونی جو غیر معمولی صورت حال پیدا کر رہے ہیں ۔ لہٰذا پاکستانی مسلح افواج کو ضر ب عضب کے علاوہ گہرے ہو تے ہوئے سیاسی انتشار جو 30اکتوبر کی نشاندہی کر رہا ہے کی طرف نہیں لگانا چاہیے تاکہ وہ اپنی تمام تر پیشہ وارانہ توجہ اور سارے عسکری ذرائع یکسوئی اور یگا نگت کے ساتھ کشمیر کے مسئلہ پر بھارت کے ساتھ کمال مستعدی اور چابکدستی سے نمٹ سکے اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکیں۔ پاکستان ایک امن پسند قوم ہے اور ہماری اولین ترجیح فقط امن لیکن اگر جنگ مسلط کر دی گئی تو پھر پاکستانی قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کسی بھی جا رحیت کا مقابلہ کر ے گی تاکہ اپنے اساسی نظریے اور ملکی امن و سلامتی کی آخری دم تک ضما نت دے سکیں ۔ اس سلسلہ میں ہمارے عظیم دوست چین کی حما یت اور یقین دہانی ہمارے لئے اطمینان بخش ہے لیکن ایک زند ہ اور بہادر قوم ہو نے کے نا طے ہمیں اپنی مغربی سرحد پر واقع برا در اسلامی ممالک افغانستا ن اور ایران کے سا تھ نا کر دہ سیا سی غلط فہمیوں کو سفارتی سطح پر با وقار طریقے سے حل کر ناچاہیے ۔ یہی صورت حال مشرق وسطیٰ اور دیگر اسلامی ممالک میں تجدید عہد کے طور پر کر نی ضروری ہے ۔ روس اور دیگر وسطیٰ ایشائی مما لک سے ہماری قربت مز ید بڑھائی جائے تاکہ باہمی اتحاد و یگا نگت کو مذہبی ، تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے زیادہ