- الإعلانات -

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو

قارئین کرام ! گزشتہ ہفتے (۶ ۔ اکتوبر) ایک قومی انگریزی اخبار میں سویلین حکومت اور ملٹری قیادت کے درمیان ہونے والی قومی سلامتی کانفرنس کے حوالے سے صفحہ اوّل پر شائع ہونے والی خصوصی رپورٹ بعنوان ،، عسکریت پسندوں کے خلاف ایکشن لیں یا بین الاقوامی تنہائی کیلئے تیار رہیں ،، نے مبینہ طور پر اِس دعوے کو بہرحال مسترد کر دیا ہے کہ سویلین اور ملٹری قیادت ایک پیج پر ہیں ۔ حکمت سے خالی اِس رپورٹ میں مبینہ طور پر قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ کے حوالے سے سویلین حکومت کی جانب سے ملٹری قیادت کو دی جانے والی مبینہ وارننگ کا تذکرہ کیا گیا ہے جس میں ملٹری قیادت کو کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی سے بچانے کیلئے عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور ایکشن لیں، چنانچہ اِسی حوالے سے قومی سلامتی سے متعلق اِس میٹنگ میں ہونے والی بیشتر روداد کا اِس رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے جس کے سبب بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔قومی سلامتی امور کے حوالے سے مبینہ طور پر اِس روداد کے شائع ہونے سے جہاں سویلین حکومت اور ملٹری قیادت کے درمیان ممکنہ غلط فہمیوں کا اضافہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جبکہ پاکستان کے خلاف بھارت نے پٹھانکوٹ اورمقبوضہ کشمیر میں اُڑی بریگیڈ ہیڈکورٹر پر دہشت گردوں کے مبینہ حملے اور کنٹرول لائین پر نام نہاد مفروضہ سرجیکل اسٹرائیک کے حوالے سے پاکستان کے خلاف ڈِس انفارمیشن کا طوفان کھڑا کیا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ کنٹرول لائن پر نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کے حوالے سے پاکستان ملٹری کے علاوہ اقوم متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور کشمیر میں اقوام متحدہ کے ناروے مشن کی جانب سے بھی کسی ایسے سرجیکل اِسٹرائیک کی تردید کی گئی ہے لیکن بھارتی جنتا پارٹی کی نریندر مودی سرکار بظاہر بھارتی دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ ، آر ایس ایس کے انتہا پسند چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کی ایما پر پاکستان کے خلاف سرجیکل اِسٹرائیک کا ڈھونگ مسلسل رچائے ہوئے ہے ۔ بھارت کا ٹریک ریکارڈ یہی کہتا ہے کہ بھارتی چانکیہ صفت شاطر قیادت اپنی جھوٹی سچی سیاسی جدوجہد کے تسلسل سے پاکستانی قیادت کے موقف کو نچوڑنے میں لگی رہتی ہیں اور درج بالا سویلین حکومتی موقف سے بھی یہی احساس جنم لیتا ہے۔ حقیقت یہی ہے اور دنیا بھر میں انٹیلی جنس کے ماہرین بھی یہی سمجھتے ہیں کہ بابری مسجد، سمجھوتہ ایکسپریس ، مکہ مسجد ، مالیگاؤں وغیرہ کے دہشت پسندانہ حملوں میں بھارتی آرمی کے تیار کردہ دہشت گردوں کے ملوث ہونے کی طرز پر پٹھانکوٹ اور اُڑی حملوں کی پلاننگ بھی خود بھارت ہی میں تیار کی گئی ہے ۔ کشمیر میں اُڑی حملے کے فوراً بعد ہی موجودہ بھارتی قیادت کو اقتدار میں لانے والے ماسٹر مائنڈ ڈاکٹر موہن بھگوت کے شاگرد وزیراعظم نریندر مودی( جن کا شمار مسلمانوں ، عیسائیوں اور ادنیٰ ذات کے دلت ہندوؤں کے قاتلوں میں ہوتا ہے وزیراعظم بننے سے قبل نریندر مودی کا نام امریکہ میں بلیک لسٹ میں شامل تھا چنانچہ ماضی میں گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر بھی اُنہیں امریکہ کا ویزہ نہیں دیا گیا تھا ) جبکہ مودی سرکار پاکستان مخالف انتخابی مہم کے ذریعے ہی اقتدار میں آئی تھی۔چنانچہ مودی سرکار کے ایک اہم بھارتی تھنک ٹینک آر ایس ایس سے منسلک ریٹائرڈ بریگیڈیئر گرمیت نہال نے کشمیر میں اُڑی حملے کے فوراً بعد ہی جو کچھ اپنی ریسرچ سفارشات میں لکھا ہے اُسے پڑھ کر یہی شبہ ہوتا ہے کہ صد افسوس اِسی ڈِس انفارمیشن پر مبنی بھارتی سفارشات کو درج بالا قومی سلامتی کمیٹی میٹنگ میں سویلین قیادت نے مبینہ ایجنڈے کے طور پر اپناتے ہوئے ملٹری قیادت کے سامنے رکھا تھا جس کی تشہیر بظاہر انگریزی روزنامہ کے ذریعے کرائی گئی ؟ اِس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اُڑی حملے کے بعد جبکہ نریندر مودی کو مختلف بھارتی دانشوروں کی جانب سے مشورہ دیا جا رہا تھا کہ وہ پاکستان میں نواز شریف سویلین حکومت کو تنہائی کا نشانہ نہ بنائیں بلکہ اِس کیلئے پاکستانی افواج کو نشانہ بنائیں چنانچہ اِسی فکر کو پیش نظر رکھتے ہوئے بھارتی تھنک ٹینک بریگیڈئیر گرمیت نہال نے ۲۰ ستمبر کو اپنی مبینہ سفارشات میں دیگر اقدامات کے علااوہ بعنوان ،، پاکستان آرمی کو ہٹ اور زخمی کرنے کا یہ موقع ہے،، میں یہ بھی لکھا : ،، بھارت سویلین پاکستانی قیادت کو دونوں ملکوں کے درمیان پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کیلئے اِس نقطہ نظر سے بات چیت میں اُلجھائے رکھے تاکہ پاکستان آرمی کے قومی سیاسی معاملات میں کردار کو محدود کیا جا سکے۔ یہ بھی کہا گیا کہ بھارت پاکستان کی سول سوسائٹی اور افواج پاکستان کے (ریٹائرڈ) سینئر افراد جو اِس بھارتی مہم میں دلیل کیساتھ بات کر سکتے ہیں کو بھی ہمنوا بنانے کی کوشش کرے۔ آخری حربے کے طور پر بھارت نہ صرف پاکستان کے خلاف کھلم کھلا ملٹری اقدامات (سرجیکل اِسٹرائیک) پر عمل کرے بلکہ خفیہ سبوتاژ آپریشن کو مہمیز دینے کے علاوہ بھارتی سفارتی آپریشن کو مضبوط بناتے ہوئے دنیا بھر میں پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کو دہشت گردی کی حمایت کے نام پر بین الاقوامی دنیا میں تنہا کرنے اور روگ آرمی قرار دلانے کیلئے کام کرے،،۔
حقائق یہی کہتے ہیں کہ بھارتی قیادت ایک منصوبہ بندی کیساتھ پاکستانی کی موجودہ سویلین سیاسی قیادت اور ملٹری کے درمیان خلیج پیدا کرکے ایٹمی طاقت پاکستان کو بنگلہ دیش، افغانستان اور نیپال کی طرز پر اپنے حلقہ اثر میں لا کر جنوبی ایشیا میں اکھنڈ بھارت کی فکر کو تقویت پہنچانا چاہتی ہے لیکن اِن بھارتی شیطانی عزائم کی راہ میں پاکستان ملٹری سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ پاکستان کی مضبوط افواج اور بل خصوص پاکستان آرمی جس کی قیادت کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی نکیل موجود ہے۔ چنانچہ بھارت ایک شیطانی منصوبہ بندی کے تحت پاکستانی سیاسی قیادت کو نہیں بلکہ پاکستان ملٹری کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہے جسے ہماری سویلین سیاسی قیادت شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھنے سے محروم نظر آتی ہے ۔ کیا سویلین قیادت نہیں جانتی کہ سارک سربراہ کانفرنس کا پاکستان میں انعقاد روکنے کیلئے بھارت نے افغانستان ، بنگلہ دیش اور نیپال پر سیاسی دباؤ کے کیا کچھ حربے استعمال نہیں کئے تھے۔ دراصل پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کیپ کرنے اور پاکستانی سویلین قیادت کو اپنے حلقہ اثر میں لانے کیلئے بھارتی قیادت ہر حربہ استعمال کرنے کیلئے تیار ہے جس کا ناک سے آگے نہ دیکھنے والی پاکستانی سیاسی قیادت شعوری یا لا شعوری طور پر نشانہ بنتی جا رہی ہے۔ درحقیقت ، مودی سرکار پاکستانی سیاسی قیادت کو اپنے دام میں پھنسانے کیلئے اپنے اقتدار کے پہلے دن سے ہی کوششوں میں مصروف ہے۔ بھارتی صحافی اور ٹی وی اینکر برکھا دت کی کتاب "This Unquiet Land-Stories From India’s Fault Lines” میں بھارتی پالیسی سازوں کی پاکستان کے خلاف بھارتی خفیہ حکمت عملی کو بخوبی بیان کیا گیا ہے۔ برکھا دت کی کتاب میں کئے گئے انکشافات میں وزیراعظم نواز شریف اور اُن کے صاحبزادے حسین نواز شریف کی بھارتی اسٹیل ٹائی کُون سجن جندال کے ذریعے مودی سرکار سے تعلقات قائم کرنے کیلئے خفیہ ٹریک ڈپلومیسی کے استعمال کرنے پر پاکستانی سول سوسائیٹی کافی