- الإعلانات -

محفوظ، پرامن اور خوشحال پنجاب

وزیراعلیٰ شہبازشریف نے قربان لائنز لاہور میں پاکستان میں اپنی نوعیت کے منفرد اور ایشیاء کے سب سے بڑے پنجاب سیف سٹی منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ سیف سٹی منصوبے کاپہلا مرحلہ ریکارڈ مدت میں مکمل ہوا ہے۔ عوام کو پرامن ماحول فراہم کرنے اورجرائم پر قابو پانے کیلئے پنجاب حکومت نے سیف سٹی منصوبے پر کام شروع کیا ہے جس پر 12ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں اوراس منصوبے کے تحت کمانڈاینڈ کنٹرول سنٹر میں بہت بڑی سکرین لگائی گئی ہے جو کہ ایشیا کی سب سے بڑی سکرین ہے۔ چین کی صف اول کی کمپنی کے تعاو ن سے کام کررہی ہے اوریہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا منفرد منصوبہ ہے۔ چھ برس قبل اس وقت کی وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں سیف سٹی پراجیکٹ شروع کیا تھا جو اب آکر مکمل ہوا ہے لیکن پنجاب حکومت کا سیف سٹی منصوبہ اسلام آباد کے منصوبے کے حجم سے چار گنا بڑا ہے۔ چودھری نثار اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ کے 1500 کیمروں کو بڑھا کر2000 کیمروں پر لے آئے ہیں جبکہ پنجاب سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت لاہورمیں 8ہزار کیمرے لگائے جارہے ہیں۔ پنجاب کے سیف سٹی پراجیکٹ کیلئے سب سے کم چینی کمپنی نے دی جو کہ 16ارب روپے تھی تاہم ہم نے اس رقم کو کم کرواکر 12ارب روپے پر لائے اورقوم کے 4ارب روپے اس منصوبے میں بچائے ہیں جبکہ دوسری طرف اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ جو حجم میں چار گناچھوٹا ہے اس کا معاہدہ 6برس قبل12ارب روپے میں ہوا تھا۔ پنجاب سیف سٹیز پراجیکٹ کی انتہائی شفاف انداز میں بڈنگ ہوئی اورجس میں دنیا کی بہترین کمپنیوں نے حصہ لیاتاہم سب سے کم بولی ہیواوئے نے دی۔تاہم ہم نے سب سے کم بولی دینے والی کمپنی ہیواوئے سے کامیاب بات چیت کر کے چار ارب روپے بچائے ہیں۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ کرپشن کی بے بنیاد باتیں کرنے والے اس منصوبے کی شفافیت اورقومی وسائل کے 4 ارب روپے کی بچت کو بھی یاد رکھیں۔ سیف سٹی پراجیکٹ کے لئے بچوں اور بچیوں کی بھرتیاں سفارش کے بغیر صرف اورصرف میرٹ پر ہوئی ہیں اورانہیں بہترین تربیت دی گئی ہے۔ اس منصوبے سے جرائم پیشہ عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور یہاں سے الارم بیل بجے گی جس سے متعلقہ ادارے الرٹ ہوجائیں گے۔ پنجاب حکومت کے اس اقدام سے پاکستان محفوظ، پرامن اور خوشحال ملک بنے گا۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب کے 6دیگر شہروں میں سیف سٹیز پراجیکٹس شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملتان، بہاولپور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور سرگودھا میں یہ منصوبے 2017ء کے آخر میں مکمل کرلیے جائیں گے۔ لاہور میں پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے اوردیگر مراحل اگلے برس کے اوائل تک مکمل ہو جائیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لئے بھی گواہی ہے جو عوام کی فلاح وبہبود اورترقیاتی منصوبوں کیخلاف سوچتے اور بولتے ہیں اورایسی کوشش کررہے ہیں جس سے ترقیاتی منصوبے مکمل نہ ہوسکیں اور پاکستان اپنی منزل دوبارہ کھو بیٹھے لیکن یہ قوم اس مرتبہ یہ نہیں ہونے دے گی۔ سی پیک کے تحت سندھ میں پنجاب کے مقابلے میں زیادہ منصوبے لگ رہے ہیں لیکن ہمیں خوشی ہے کہ سندھ میں بھی ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین کا منصوبہ چین کی فنڈنگ سے شروع کیا گیا ہے اور یہ فنڈز پنجاب حکومت نے چین کو واپس کرنے ہیں۔ خدارا حقائق کی بات کریں اور ایمانداری سے کام لیں۔ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں لہٰذا کوئی بھی بات کرنے سے قبل پاکستان کو سامنے رکھیں۔کسی بھی حکومت یا ریاست کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے عوام کو جانی و مالی تحفظ فراہم کرے۔ پاکستان گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے دہشت گردی کی شدید لپیٹ میں ہے اور ہزاروں قیمتی جانیں اس کی نذر ہو چکی ہیں۔ اسی دہشت گردی کے سبب سے دیگر جرائم کو بھی پھلنے پھولنے کا خوب موقع ملا اور عوام ڈاکوں‘ ڈکیتیوں اور سٹریٹ کرائمز کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکے ہیں اور اب ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے۔ یہ صورتحال صوبہ پنجاب میں دوسرے صوبوں کی نسبت کہیں زیادہ سنجیدہ شکل اختیار کر چکی ہے۔ پنجاب سیف سٹی پراجیکٹ سے پنجاب کے ڈرے سہمے شہریوں کیلئے خوش آئند اور اطمینان و سکون کا باعث ہے۔سیف سٹیز پراجیکٹ ہماری آئندہ نسلوں کی حفاظت اورانہیں جرائم سے محفوظ رکھنے کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی اور آلات سے آراستہ نظام ہے جس سے سکیورٹی کی صورتحال میں بے پناہ بہتری آئے گی۔