- الإعلانات -

کیا دنیا اندھی ہوگئی ہے یا اسکا ضمیر مرگیا ہے

جنگی جنون ٹھس ہونے کے بعد بھارت کو ایک بار پھر دہشت گردی کو فروغ کے جنون نے آن لیا ہے۔اگرچہ اس کام میں بھارت اپنا ثانی نہیں رکھتا اور وہ خطے میں یکتا ہے لیکن سر جیکل سٹرائیک کے دعوے کے بلنڈر کے بعد قوم کو ماموں بنانے کے لیے پاکستان کے خلاف دہشت گردی براستہ افغانستان کرنے کا پلان بنا لیا گیا ہے۔اس مقصد کے لیے مودی سرکار نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار دوول(اصل میں ایول ڈیول) کو ٹاسک سونپ دیاہے۔ڈیول اس سے قبل پولیس اور آئی بی میں جاسوس رہ چکا ہے۔اس نے قبل ازیں سنجیوتریپاٹھی کے توسط سے پاکستانی میڈیا کے اداروں میں گھسنے کی کوشش بھی کی تھی۔ سابق امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے ایک بارتسلیم کیا تھاکہ بھارت ایک دوسرے محاذ کے طور پر کچھ برسوں سے افغانستان کو استعمال کر رہا ہے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے وہاں سرمایہ کاری بھی کی اس کے کئی پہلو نکالے جا سکتے ہیں کیونکہ افغانستان کے بارڈر کے ساتھ پاکستان ہے۔جنوبی ایشیا میں دہشت پھیلانے والا یہ شخص ایسے خطے کو غیرمستحکم کرنا چاہتا ہے جہاں دنیا کی تین ایٹمی طاقتیں ہیں۔ مودی کے نئے شیطانی کھیل کا انکشاف برطانوی ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بچہ بچہ اس سے اچھی طرح آگاہ ہے کہ پاکستان بھارت کو کانٹے کی طرح چبھتا ہے اور اس کے وجود کے در پے آزار ہے۔پاکستان دشمنی محض پاکستانی عوام کاالزام نہیں کہ جسے نظر انداز کردیا جائے بلکہ پاکستان توڑنے کے اقبال جرم تاریخ کا حصہ ہیں۔ حالیہ تاریخ میں بنگلہ دیش کی سر زمین پرمودی کا سینے پر ہاتھ مار کہنا کہ ہاں ہم نے پاکستان توڑامکتی بانی بھی بنائی تھی۔اسی طرح کے دعوے بی جے پی کے دیگر لیڈروں کے بھی سامنے آتے رہتے ہیں،اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل اجیت دوول نے 6سال تک اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن میں خدمات سرانجام دیں اور فروری 2014میں 2008میں ہونے والے ممبئی حملوں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تم ایک اور ممبئی حملہ کرو گے تو تم شاید بلوچستان کھو دو گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بھارتی یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران کیا تھا۔ پاکستان توڑنے کے لیے جتنے مرضی ہے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑتی رہیں نہ اسے کوئی روکنے والا ہے اور نہ اسے اسکی پرواہ ہے۔داعش اس وقت دنیا کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔یواین او اور امریکہ سر گرداں ہے کہ کیسے اس کی بیخ کنی کی جائے۔امریکہ اس کے خاتمے کیلئے اربوں ڈالر صرف کر چکا ہے۔جن ممالک سے داعش کو تعاون ملتا ہے امریکہ اس کا سخت نوٹس لے رہا ہے مگر دوسری طرف بھارت اسی داعش سے روابط بڑھا رہا ہے۔یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی برطانوی میڈیا نے اجیت دوول کی داعش کے لیڈروں سے ملاقاتوں کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے بتایا ہے کہ اجیت دوول نے شام اور عراق جاکرداعش کے دہشت گردوں سے ملاقاتیں کیں ہیں جبکہ افغانستان کے علاقے قندہار کے بھارتی قونصل خانے میں ٹی ٹی پی اور داعش کے مقامی شرپسندوں سے بھی ملاقاتوں کا اہتمام کیا۔ملاقاتوں کے یہ اہتمام آخر کس کے لیے کیے جا رہے ہیں۔کیا دوول یہ کوشش فرما رہے ہیں کہ انہیں دہشت گردی سے تائب کیا جا سکے یا کشمیر میں بغاوت جو مودی حکومت کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے، اس کا علاج کروانے گئے ہیں۔یقیناًایسا کچھ نہیں ہے۔ان ملاقاتوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار رکھا جائے۔تازہ انکشافات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بدنام زمانہ انڈر ورلڈ گینگسٹر چھوٹا راجن جو گزشتہ برس انڈونیشیا کے شہر بالی سے گرفتار ہوا تھا کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔وکی لیکس کا کہنا ہے کہ چھوٹا راجن نامی گینگ بھی اجیت دوول نے ہی بنایا تھا۔وکی لیکس کے مطابق بھارت میں امریکی سفاتخانہ دوول کے چھوٹا راجن گینگ سے گہرے تعلقات کی تصدیق کر چکا ہے۔ دو دہائیوں سے بھارت سمیت مختلف ملکوں کی پولیس کی گرفت سے بچے رہنے والے چھوٹا راجن کوگزشتہ برس اکتوبر میں سڈنی سے بالی انڈونیشیا پہنچنے پر گرفتار گیا تھا۔راجندر سدا شیون نکال جی نامی یہ شخص جو ،اب چھوٹا راجن کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہے،دسمبر 1959ء میں پیدا ہوا۔ وہ ایک انتہائی معمولی مل مزدور کا بیٹا تھا۔ چمبور کے علاقے تلک نگر میں پلنے بڑھنے والے اس شخص کی جرائم کی زندگی کا آغاز سنیما کے ٹکٹ بلیک میں فروخت کرنے سے ہوا تھا۔ وہ اْس وقت لوگوں کی نظروں میں آیا جب ممبئی کے سہ کار سنیما کے سامنے ٹکٹوں کی بلیک میں فروخت کے دوران اْس نے مقامی غنڈوں کے مختلف گروپوں سے مارپیٹ شروع کی۔ بس اْس کے بعد وہ جرائم کی دنیا میں آگے ہی بڑھتا گیا۔ پھر اْس نے پیچھے مڑ کرکبھی نہیں دیکھا۔ یہیں پر اْسے راجن نائر نامی ایک شخص کی سرپرستی میسر آئی جسے بڑا راجن کہا جاتا تھا۔اِسی مناسبت سے اْسے ممبئی کے انڈر ورلڈ میں چھوٹا راجن کہا جانے لگا۔ بھارت میں چھوٹا راجن پر سترہ سے زائد قتل کے مقدمات درج ہیں۔ایک طویل عرصے تک اْس کا نام ممبئی انڈر ورلڈ کے بے تاج بادشاہ داؤد ابراہیم کے ساتھ جوڑا جاتا رہا ہے۔ چھوٹا راجن کی انڈونیشیا میں گرفتاری کے بعد جب مسکراتے ہوئے تصویر سامنے آئی تو بھارت کے مختلف حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں کہ یہ گرفتاری سے زیادہ کوئی خودسپردگی کا معاملہ لگتا ہے۔ موت کے سائے میں رہنے والا چھوٹا راجن بار بار اپنے ٹھکانے بدلتا رہا مگربھارتی ایجنسیوں سے مسلسل رابطے میں رہا۔ ٹائمز آف انڈیا، ہندوستان ٹائمز، زی ٹی وی، این ڈی ٹی وی، پی ٹی آئی سمیت بھارت کے تقریباً تمام موقر جرائد اور ٹی وی چینلز متعدد بار انکشاف کرچکے ہیں کہ ممبئی حملوں اور بابری مسجد کی شہادت جیسے واقعات کے بعد چھوٹا راجن نے علی الاعلان اپنے آپ کو ہندو ڈان کہلوانا شروع کر دیا تھا اور شیوسینا جیسی بھارتی انتہاپسند سیاسی جماعتوں کا اہم آلہ کار بن گیا تھا جس کے بعد ہندو مسلم کمیونٹی میں منافرت میں اضافہ ہوا ہے۔اب جبکہ وہ گرفتار ہو کر بھارتی جیل میں ہے نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اعتراف کیا ہے کہ اسے بھارتی ایجنسی نے ہی موہن کمار کے نام سے پاسپورٹ جاری کررکھا تھا۔اس حوالے سے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں اجیت دوول چھوٹا راجن گینگ کو سارک کے تمام ممالک سمیت افغانستان میں متحرک کیا جارہا ہے تاکہ این ڈی ایس کے تعاون سے بلوچستان میں کارروائیاں کی جاسکیں۔قبل ازیں بھی پاکستان اس گینگ کے بارے بعض ٹھوس اطلاعات کلبھوش یادیو کے ذریعے حاصل کرچکا ہے۔ برطانوی میڈیا اب ان کی تصدیق کررہا ہے۔بیرونی دنیا جو پاکستان کے حوالے شور مچاتے نہیں تھکتی کہ لشکر طیبہ جیسے نان سٹیٹ ایکٹر کشمیر یا بھارت میں دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں۔پاکستان ان الزامات کی ہمیشہ تردید کرتا ہے بلکہ اس سلسلے میں بھارت کیساتھ دست تعاون بڑھاتا رہا ہے۔پٹھان کوٹ اس سلسلے کی نمایاں مثال ہے کہ کس طرح پاکستان نے انٹیلی جنس تعاون کیا اور بھارتی دعوے کے مطابق بھارت جا کر شواہد کا جائزہ بھی لیا۔بھارت ہی کی ڈیمانڈ پر پاکستان میں ایک ایف آئی آر کاٹی گئی۔اگر بھارت کے پاس کچھ ہوتا تو پاکستان کو فراہم کردیتااور بات کی انجام کو پہنچتی۔چونکہ مودی سرکار ایسے کسی معاملے کو صرف پروپیگنڈا کیلئے استعمال کرتی ہے لہذا وہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔جبکہ دوسری طرف بھارت سرکار کے کیا وزیراعظم ،کیا مشیر ،کیا وزیر ہر دوسرا لیڈر پاکستان میں گھس کر کارروائیاں کرنے سرعام دعوے کرتا ہے۔ کلبھوش بھارت کا سٹیٹ ایکٹر تھا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔مودی کی اعلانیہ بلوچستان کو توڑنے کی دھمکیاں ،موصوف نان سٹیٹ ایکٹر نہیں منتخب وزیراعظم ہے۔ اجیت دوول ریاستی عہدیدار کھلم کھلا بلوچستان میں مداخلت کی باتیں۔آخر دنیا کو یہ سب کیوں نظر نہیں آتا۔ کیا دنیا بہری ہو گئی ہے یا اندھی یا اسکا ضمیر مرگیا ہے۔پاکستان کی بات آئے تو رائی کا پہاڑ اور بھارت کی بات آئے تو اُس کا

کیوں۔۔۔؟۔۔۔۔۔شوق موسوی
میٹنگ کی کارروائی کچھ ظاہر جو ہو گئی
اتنی سی بات پر ہے یہ ہنگامہ کس لئے
کس نے بتایا کس کو بتایا پتہ کریں
زیرِ عتاب آیا ہے پر خامہ کس لئے