- الإعلانات -

مادروطن کاہرقیمت پردفاع کرنے کاعسکری عزم

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیرصدارت جی ایچ کیو میں منعقد کی جانیوالی کور کمانڈرز کانفرنس بڑی اہمیت کی حامل قرار پائی اس کانفرنس میں تمام کور کمانڈرز اور پرنسپل سٹاف آفیسرز نے شرکت کی۔شرکاء نے داخلی ،خارجی سلامتی کنٹرول لائن کی صورتحال اور فوج کی آپریشنل تیاریوں کاتفصیلی جائزہ لیا ۔اس کانفرنس میں وزیراعظم ہاؤس میں ہونیوالے اجلاس کے حوالے سے قومی سلامتی کے منافی غلط اوربے بنیاد خبر فیڈ کرنے پر شدید تحفظات کااظہار کیا گیا اور اسے قومی سلامتی کے خلاف قرار دیاگیا۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں بھارت کے سرجیکل سٹرائیکس کے جھوٹے اور بے بنیاد دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہاگیا کہ ان کامقصد مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالے بھارتی فوج کے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے ۔شرکاء نے اس عزم کااعادہ کیا کہ کسی بھی مہم جوئی اور غیر ذمہ دارانہ کارروائی کامنہ توڑ جواب دیاجائے گا عسکری قیادت نے پاک فوج کے اس عزم کااعادہ کیا کہ ملک کو درپیش کسی بھی خطرے کی صورت میں مسلح افواج ہر قیمت پر مادر وطن کادفاع کریں گے جنرل راحیل شریف نے اندرونی سلامتی کیلئے جاری کوشش کو برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے باعث پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کے نئے دور میں ڈھالنے کے مقاصد حاصل کئے جارہے ہیں ۔شرکاء نے ملک کے طول وعرض میں دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کیلئے کومبنگ اورخفیہ اطلاعات کی بنیاد پر چلنے والے آپریشن کو جاری رکھنے اور دہشت گردی اور اس سے متعلق دیگر مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کاپختہ عزم کیا۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں جس عزم کااعادہ کیا گیا ہے وہ وقت کی ضرورت اورتقاضا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آپریشن ضرب عضب سے ملک میں جہاں استحکام آیا وہاں لوگوں میں عدم تحفظ کااحساس بھی ختم ہورہا ہے۔ پاک فوج کی قربانیوں کے نتیجہ میں دہشت گردی کاناسور جڑ سے اکھڑتا جارہاہے۔ پاک فوج ہرمحاذ پر چوکس ہے اور وہ دشمن کی کسی بھی جارحیت او رغیرذمہ دارانہ کارروائی کاجواب دینے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔ دشمن نے غلطی کامظاہرہ کیا تو اس کو ایسا دندان شکن جواب ملے گا کہ بھارت کی آنیوالی نسلیں اس کو برسوں تک یادرکھیں گی اور اس طرح دانت کھٹے کئے جائیں گے کہ بھارتی قوم اس کو کبھی بھی فراموش نہ کرسکے گی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی انتہاپسندی سے چھٹکارا حاصل کریں ورنہ خطے کی تباہی کی ذمہ داری انہی کے سر جائے گی ۔بھارت سرجیکل سٹرائیکس کاواویلا کرکے دراصل مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانیوالے ظلم اور سفاکی سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے لیکن دنیا بھارت کی بربریت سے بخوبی آگاہ ہے۔ بھارت ایک طرف پاکستان کے اندر دہشت گردی کروا کر اس کو انتشار اور بدامنی کاشکار کرنے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری طرف سرحدی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی بھی اس نے اپنا معمول بنا لیا ہے جس سے پاک بھارت تعلقات خراب ہوتے جارہے ہیں۔ بھار ت کی من مانیوں اور ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ اس نے مسئلہ کشمیر کو بھی دیدہ دانستہ نظر انداز کررکھا ہے اور برسوں سے اقوام متحدہ اورسلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادیں بھی اس نے سرد خانے میں ڈال رکھی ہیں اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہیں دے رہا۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی تشدد کا بازار گرم ہے جس کودیکھ کر ابن آدم کا دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ عالمی اداروں کی بے حسی اور طوطاچشمی بھی ایک سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے اور ان اداروں کے مقاصد بھی ادھوے دکھائی دے رہے ہیں اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ بھارتی مظالم کانوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کو حل کروائے ۔ پاکستان بھارتی جارحانہ انداز میں جس صبروتحمل کامظاہرہ کرتا چلا آرہا ہے یہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان امن پسند ملک ہے اور بھارت کے ساتھ متنازعہ مسائل کاپرامن حل چاہتا ہے لیکن بھارت پاکستان کی امن پسندی کو کمزور سمجھ رہا ہے جو اس کی غلط فہمی ہے پاکستان بھارت سے خوفزدہ نہیں ہے وہ ہرطرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت کاحامل ہے ۔بھارت ہوش کے ناخن لے اور خطے کے امن کیلئے خطرات پیدا نہ کرے۔ آپریشن ضرب عضب کے اہداف کو پورا کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پرکماحقہ عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ پاک فوج مادر وطن کا ہر قیمت پردفاع کرنے کیلئے تیار ہے جس پرقوم کو فخر ہے جب بھی وطن کو ضرورت پڑی پاک فوج نے اپنی جان پرکھیل کر اس کادفاع کیا بھارت کیلئے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرے۔
آذربائیجان کی پاکستانی موقف کی حمایت
صدرآذربائیجان الہام علیوف نے کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر کو وہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پرعملدرآمد نہ ہونے پرافسوس کااظہار کیا اور وہاں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان ہمارا قریبی دوست اوراتحادی ہے ہمارے فوجیوں کی تربیت کرے گا وزیراعظم محمدنوازشریف اور صدرآذربائیجان کی ملاقات بڑی مفید قرار پائی اور ایک دوسرے سے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ۔آذربائیجان نے ادویہ سازی، فوجی سازوسامان سے متعلق تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ تجارت، زراعت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پراتفاق کیا۔ مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کی قرارداد وں کے تناظر میں حل ہونا چاہیے پاکستان کے موقف کی حمایت بڑھتی چلی جارہی ہے جس کے محرکات پاکستان کی امن کاوشیں صبروتحمل کاعملی مظاہرہ ہے بھارت دوعملی سے کام لے رہا ہے اوردنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے کی کوشش کررہا ہے اور مگرمچھ کے آنسو بہارہا ہے ۔ بھارت کارویہ چورمچائے شور اورالٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے والا ہے۔آذربائیجان کی پاکستانی موقف حمایت مظلوم کشمیریوں کی حوصلہ افزائی ہے جو بھارتی فوج کے ریاستی تشدد کاشکار ہیں۔ تحریک آزادی کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں پاکستان ان کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا دنیا کو اب بے بسی کی تصویر نہیں بنے بیٹھا رہنا چاہیے۔
کوئٹہ میں ایف سی اہلکاروں پرفائرنگ
کوئٹہ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ایف سی اہلکاروں پر اندھادھند فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں پیدل گشت کرنیوالے تین اہلکار شہید ہوگئے۔ کوئٹہ میں دہشت گردی کایہ واقعہ افسوسناک ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے کوئٹہ میں انسانیت کے دشمن اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے کوشاں ہیں جن کی بیخ کنی کیلئے سیکیورٹی کو فعال بنانے کی ضرورت ہے خداوند کریم شہداء کے درجات بلند کرے اور ان کے لواحقین وپسماندگان کو یہ صدمہ جانکاہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔(آمین) دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ایف سی اہلکاروں کاکردار بے مثال ہے دن رات امن کی بحالی اور لوگوں کے جان ومال کی حفاظت کیلئے ان کی قربانیاں قوم کبھی بھی فراموش نہیں کرپائے گی دہشت گرد ملک وقوم کے دشمن ہیں ان کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے آپریشنز جاری